227

ٹیم بنا کر کھیلنے والے بچے ذہین و توانا ہوتے ہیں، نئی تحقیق

Spread the love

واشنگٹن (جے ٹی این آن لائن) امریکہ میں ہونے والی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے

نوجوانوں میں 37 فیصد ڈپریشن کا مسئلہ بڑھ گیا ہے، ان میں سے زیادہ تر بچوں

کو ضروری مدد نہیں ملتی جو انہیں ڈپریشن سے نمٹنے کے لیے درکار ہوتی ہے۔

حالیہ تحقیق کے مطابق مل جل کر ایک ٹیم کے صورت میں کھیلے جانے والے

کھیلوں کا تعلق دماغ کے لمبے عرصے تک یاداشت محفوظ رکھنے اور جذباتی رد

عمل دینے والے حصے ہپو کیمپال سے ہے۔ بالغوں میں ڈپریشن کی وجہ سے ذہن

کا یہ حصہ سکڑنا شروع ہو جاتا ہے۔ تحقیق میں ٹیم اسپورٹ میں شامل 9-11 سال

کی درمیانی عمر کے لڑکوں میں ڈپریشن کی شرح کم دیکھی گئی۔ امریکی انسٹی

ٹیوٹ آف پیڈیا ٹرکس کی ڈاکٹر سنتھیا روبیلا کا کہنا ہے مل جل کر کھیلے جانے

والے کھیل کی وجہ سے ایروبک معمول کا حصہ بن جاتا ہے جس سے نہ صرف

حافظے، یاداشت بلکہ مزاج میں بھی بہتری آتی ہے۔ ٹیم اسپورٹس سے بچے بہتر

طریقے سے سماجی رویے سیکھ سکتے ہیں اور اسی دوران انہیں ڈپریشن سے

بچنے کا موقع بھی ملتا ہے۔ تحقیق میں 9-11 سال کی درمیانی عمر کے 4,191

بچے شامل تھے۔ والدین سے ان کے بچوں کے حوالے سے ایک سوالنامہ بھروایا

گیا جس میں ان کے بچوں کی مختلف قسم کی سرگرمیوں میں ان کی شمولیت اور

ڈپریشن کی علامات کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔ تحقیق سے حاصل ہونے والے

نتائج میں ٹیم اسپورٹس میں حصہ نہ لینے والے بچوں میں ڈپریشن زیادہ پایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق نتائج کو سائنسی روشنی میں دیکھا جائے تو ٹیم اسپورٹس میں

شامل بچوں کے دماغ کا وہ حصہ بڑھتا رہتا ہے جو ڈپریشن کو قابو میں کرتا ہے

تاہم سائنسدانوں کا کہنا ہے اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر

سنتھیا لابیلا نے کہا وہ یہ دیکھ کر خوش ہیں کہ ڈپریشن میں مبتلا بچوں میں ٹیم

اسپورٹس میں شامل ہونے کے مثبت نتائج آ رہے ہیں،انھیں امید ہے زیادہ سے زیادہ

والدین اپنے بچوں کو ایسی سرگرمیوں کا حصہ بنائیں گے۔انہوں نے کہا کھیلوں

میں زخمی ہو جانے والے بچوں کی کہانیاں شہ سرخیوں کا حصہ بنتی ہیں لیکن

والدین کے لیے یہ جاننا زیادہ ضروری ہے کہ چوٹ لگنا کھیل کا حصہ ہے لیکن

ان کھیلوں سے ان کے بچوں پر مثبت ذہنی اثرات مرتب ہو تے ہیں۔