Halat e Hazra,Current Affair 363

خؤاب غفلت کا وقت گیا

Spread the love

(تحریر: ابو رجا حیدر) خؤاب غفلت کا وقت گیا

امریکہ بہادر نے ایک مرتبہ پھر وطن عزیز پر کاری وار کرنےکی کوشش کی

ہے لیکن افغانستان میں اپنی کمزورپوزیشن اور عالمی برادری میں کم ہوتی ساکھ

کی بابت وطن عزیز کےخلاف زرہ ہولا ہاتھ رکھا ہے مگر اپنی شرارت سے باز

نہیں آیا، شیخو جی نے تمتماتے چہرے کے ساتھ کچھ اس طرح بات شروع کی کہ

محفل میں‌ بیٹھے خیالی صاحب ، بشیر بھائی ، چاچا کریم اور دیگر اپنی اپنی

سوچوں سے نکل کر شیخوجی کی جانب نہ صرف بیک وقت متوجہ ہوئے بلکہ

سب نے یک زباں ہو کر سوال کر ڈالا پھر کیا ہوا؟

شیخو جی جو پہلے ہی غصہ سے آگ بگولا تھے اس سوال پر اور بھی سرخ ہو

گئےاور کہنے لگے آپ لوگوں کا کیا ہے ، اماں مرسی سی حلوہ کھاسوں ابا مرسی

حلوہ کھاسوں (والدہن کی وفات پر حلوہ کھائیں گے )

تمام حاضرین محفل اس بات پر محو حیرت ہو گئے اور اس سے پہلے کہ شیخو

جی اپنی بات آگے بڑھاتے

خیالی صاحب! گویا ہوئے ،شیخو جی غصہ ہونے کی ضرورت نہیں ، بات کیا ہے

آخر، معلوم ہوگا تو بتائیں گے درست ہے یا غلط

شیخو جی ! میرے بھلے مانس اور سادہ لو دوستو مانا کہ ہم سب وطن عزیز کے وہ

عام ترین شہری ہیں جنہیں روزی روٹی کے سوا کوئی سوچ ہی نہیں کیونکہ ماضی

کی حکومتوں نے ہمیں اس دلدل سے نکالنے کیلئے سوائے زبانی جمع خرچ کے

کچھ کیا ہی نہیں اور آج جب ان سے حساب مانگا جا رہا ہے تو وہ اسے سیاسی

انتقام قرار دے کر ایک مرتبہ پھر ہم عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے ساتھ

ساتھ خود کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ہم بھی انہی کی باتوں

میں لگے ہوئے ہیں ،اگر ہم عوام کی آج یہ حالت نہ ہوتی تو موجودہ حکومت جو

بھلے ہی ناتجربہ کار ہے ، سیاسی چالوں سے اس طرح آشنا نہیں جسے ہماری

دیگر دو بڑی اور باقی تمام چھوٹی سیاسی جماعتوں کے سیاستدان ہیں لیکں ایک

بات انہوں نے ثابت کر دی ہے کہ وہ وطن عزیر کےخلاف اغیار کی جانب سے

بہتان طرازیوں ، دھمکیوں کا بروقت اور کرارا جواب دینا جانتے ہیں ——-

شیخوجی نے سانس لینے کیلئے کچھ توقف کیا تو کافی دیر سے خاموشی کے ساتھ

ان کی باتوں کو سننے میں محو خیالی صاحب نے موقع غنیمت جانتے ہوئے ایک

اور سوال کس دیا ،شیخو جی اتنی لمبی تمہید تو آپ نے باندھ دی اب اصل معاملہ ،

مسئلہ بھی تو تبائیں ؟

شیخو جی !بڑے بارعب انداز میں گویا ہوئے جی ہاں خیالی صاحب آپ کا بھی

کوئی قصور نہیں حالانکہ مجھے آپ سے یہ توقع نہیں تھی کہ آپ بھی دیگر

دوستوں کی طرح کا سوال کریں گے ،جب دیکھو کبھی کسی دانشور کی بات کرتے

ہیں تو کبھی کسی کالم نگار کی تحریر سے ہمیں مستفید کرتے ہیں، آج کیا ہوا-؟

خیالی صاحب! میرے خیال میں تو آپ امریکہ بہادر کی نئی شرارت “مذہبی آزدی

سے متعلق پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کرنے سے متعلق پر بات کرنا چاہتے ہیں،

شیخو جی جو ابھی تک اپنے غصے پر قابو پانے کی تگ ودہ اور اپنا مطمع نظر

سمجھانے کیلئے خود کو سنبھالنے کی سعی میں تھے ،خیالی صاحب کی بات سن

کر نہ صرف مسکرائے بلکہ حاظرین محفل کو مخاطب کر کے کہا دیکھا یہ بھی تو

آپ کی طرح عام عوام سے ہے دیہاڑی لگ گئی تو بال بچوں سمیت اپنے پیٹ کا

دوزخ بھر لیا نہ لگی تو بھی ٹھیک مگر خود کو حالات حاظرہ سے کسی طور خافل

نہیں رکھتا .اس سے پہلے کہ شیخو جی خیالی صاحب کی مزید تعریف کرتے ،،،،

بشیر بھائی بولے آپ دونوں میں سے پہلے یہ تو بتائے “مذہبی آزادی اور بلیک

لسٹ کیا ہیں ؟

شیخو جی اور خیالی صاحب ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائے اور بیک وقت

دونوں بشیر بھائی کے سوال کا جواب دینے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے اتنے

میں خیالی صاحب نے شیخو جی سے کہہ دیا آپ نے بات شروع کی اس لئے جواب

بھی آپ ہی دیں .

شیخو جی! بشیر بھائی بہت خوب سوال کیا ہے ، مذہبی آزادی کا مطلب آپ کا جو

بھی عقیدہ ہے اس پر کسی دوسرے عقیدے کے حامل شخص ، افراد، طبقہ یا

حکومت کو کسی صورت اعتراض نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی اس عقیدے سے آپ

کو کسی صورت روکا جانا چاہیے ،

بشیر بھائی ! وہ تو ہمارے ملک میں مکمل طور پر نہ سہی اتنی ضرور ہے کہ

کسی کو کوئی دوسرا زبردستی اس کے عقیدے سے ہٹانے کی کوشش نہیں کرتا

،بھلے ہی اس پر لاکھ اختلاف ہو.

شیخو جی !شاباش بشیر بھائی سلامت رہیں آپ نے میری مشکل آسان کر دی ، بعین

ہی یہی بات ہے رہی “بلیک لسٹ ” والی بات تو اتنا تو آپ سمجھتے ہیں کہ بلیک

کہتے ہے کالے کو اور لسٹ کہتے ہیں فہرست کو .یعنی “کالی فہرست” جسکا

مطلب یہ ہے امریکہ کی بدمعاشی، جیسے عراق پر حملے کیلئے ایٹمی ہتھیاروں

کا ڈھونگ رچا کر پوری دنیا کو اس سے ڈرا کر اسکی اینٹ سے اینٹ بجا دی

لیکن ملا کچھ نہیں مگر اس کے تمام وسائل پر قبضہ جما لیا ، اس سے پہلے عراق

کو ایران کیخلاف بھڑکا کر ایک دوسرے سے لڑوا کر اپنا اسلحہ بیچنے سمیت

دونوں اسلامی ممالک کو انتہائی کمزور کر دیا، پھر کویت کو عراق کا حصہ کہہ

کر دونوں میں جنگ کروائی اور کویت کو تحفظ فراہم کرنے کا لالچ دے کر اپنی

مٹھی میں کر لیا، دیگر عرب ممالک کے شیوخ کی عیاشی و دیگر کمزوریوں سے

فائدہ اٹھا کر وہاں بھی اندرون خانے تسلط جما کر اپنی پالیسیوں پر چلنے کیلئے

مجبور کر دیا، مصر، لیبیا ، تیونس غرض تمام مسلم ممالک کو ایک ایک کر کے

اپنی گرفت میں لیتا گیا اورسب کو سب کچھ معلوم ہونے کے باوجود کسی حال کا نہ

چھوڑا، ایران کیساتھ خود امریکہ نے دیگر چھ اہم یورپی ممالک کے ساتھ مل کر

ایٹمی معاہدہ کیا اور کچھ ہی عرصہ بعد اسے ختم کر کے ایران پر پابندیاں عائد کر

دیں، حالانکہ ایران ببانگ دہل معاہدہ ہونے سے قبل کہہ چکا تھا کہ وہ ایٹمی

ہتھیار بنانے کو حرام سمجھتا ہے کیونکہ وہ جس عقیدہ پر ایمان رکھتا ہے وہاں

ایسے انسانیت کی تباہی کےساماں کرنے کی کوئی گنجائش ہی نہیں البتہ توانائی

کیلئے ایٹمی تیکنالوجی کا حصول کوئی غلط بات نہیں لیکن امریکہ اپنی ہٹ دھرمی

پر قائم رہا اور تمام بڑی عالمی معیشتوں کو ایران سے خائف کرنے میں کامیاب ہو

کر انہیں پہلے ایران پر پابندیاں لگانے کیلئے اکسیا چونکہ ایران کےساتھ ان کے

براہ راست معاشی تعلقات وابسطہ تھے اور ایران کی ان مالک جن میں برطانیہ،

جرمنی اور فرانس بھی شامل تھے میں اچھی ساکھ تھی وہ انہیں یہ باور کرانے میں

کامیاب رہا کہ ٹھیک ہے اگر آپ کو اس کی ایٹمی قوت کے حصول پر تحفظا ت

ہیں تو وہ دور کرنے کیلئے تیار ہے جسے ایک معاہدہ کی شکل دی جا سکتی ہے

تاکہ ہمارے آپس میں تعلقات خراب ہوں نہ امریکہ کو بلاجواز پروپیگنڈہ کرکے دنیا

کا امن و شانتی تباہ کرنے کا موقع میسر آ سکے جس پر یورپی ممالک نے یک

زباں ہوکر معاہدہ کو عملی جامع پہنا دیا اور اس طر ح امریکہ کی دال نہ گل سکی

،لیکن صدر ٹرمپ کے برسراقتدار آتے ہی امریکہ کی یہودی لابی نے اپنا کھیل

دوبارہ شروع کر دیا اور امریکہ اس معاہدے سے علیحدہ ہو گیا اور ایران پر نئی

اقتصادی پابندیاں لگا دیں جس کیوجہ سے دنیا کے کئی ممالک جلد یا بدیر ان سے

متاثر ہونگے کئی ایک میں تو اس امریکی بےہودگی کے اثرات ظاہر بھی ہونا

شروع ہو گئے ہیں . شیخو جی تسلسل کے ساتھ بولے جا رہے تھے اور مذکورہ

حاضرین محفل انہیں بڑے انہماک سے سنے جار ہے تھے کہ اسی اثناء بیٹھک

کے دروازے پر دستک ہوئی اور شیخو جی کو اپنے جاری تسلسل میں وقفہ لینا

پڑا.وہیں بیٹھے بیٹھے ہی آواز لگائی بھائی جو بھی ہو،اندر آجاو،

شیخو جی کی آواز سنتے ہی بابرالمعروف ابو رجا کہنے کو تو صحافی مگر عملی

طور پر نہ ہونے کے برابرتھے اسلام و علیکم کہتے ہوئے داخل ہوئے تو سب

حسب اقدار اٹھ کھڑے ہوئے فرداََ فرداََ مصافحہ کیا .شیخو جی نے اپنے اور خیالی

صاحب کے درمیان میں انہیں بیٹھنے کو کہا اور وہ براجماں ہو گئے . اپنی آمد پر

قدرے خاموشی دیکھ کر ابورجا بولےایسا محسوس ہورہا ہے جیسے کوئی انتہائی

سنجیدہ موضوع زیر بحث تھا اور میری آمد سے اس میں خلل واقع ہوا .

شیخو جی !جی ہاں ابو رجا تمہارا اندازہ بالکل درست ہے

ابو رجا!تو پھر دیر کس بات کی وہیں سے دوبارہ شروع کر دیں

شیخو جی !ہاں تو دوستو ایران سے ایٹمی معاہدے کی بات پر سلسلہ منقطع ہوا تھا

کہ اس معاہدے سے امریکہ کی دستبرداری کے دنیا پر کتنے بھیانک اثرات مرتب

ہونےوالے ہیں .ساتھ ہی آپ کو یہ بتا دوں یہ سب کچھ وہ اپنی لاڈلی صہیونی لابی

کی ایما پر کر رہا ہے کیونکہ وہ اس وقت دنیا کی امیر ترین لابی ہے جسکا تمام

ممالک کی معیشتوں پر مکمل نہ سہی لیکن آدھے سے زیادہ کنٹرول ہے اور میں

نے بات بھی آپ لوگوں کی معاشی حالت سے شروع کی تھی .

خیالی صاحب !بجا کہا شیخو جی ،آپ اپنی بات میں شام کا ذکر کرنا شاید بھول گئے

یا اسے اپنی اگلی بات کے ساتھ کرنے کیلئے چھوڑ دیا ،اگر آپ کی اجازت ہوتو

اس ضمن میں میں ناچیز کچھ روشنی ڈال دوں ،

شیخو جی !کیوں نہیں ضرور،

خیالی صاحب !شام میں خانہ جنگی بھی امریکہ بہادر کی شروع کردہ ہے جس نے

عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب کو اپنے مکمل شکنجے میں جکڑ رکھا ہے

کو استعمال کیا اور ان سے مذہب کے نام پر دولت اسلامیہ کے نام سے پہلے ایک

نتظیم بنوائی جو داعش کے نام سے مشہور ہوئی اور اس نے اسلام کے نام پر ایسی

ایسی ظلم و جبر کی داستانیں رقم کیں اور کر رہی ہے کہ الامان الحفیظ ،لیکن جب

شام میں دیگر عالمی قوتوں جن میں روس سر فہرست ہے نے سراسر نا انصافی

ہوتی دیکھی تووہ بھی اس آگ کو بھجانے اور شام میں اپنے مفادات کا تحفظ کرنے

کیلئے کود پڑا ، برادر ملک ترکی نے بھی اپنی عافیت کی خاطر شام کا ساتھ دینا

شروع کردیا جبکہ ایران تو پہلے دن سے ہی شام کے ساتھ کندھے سے کندھا

ملائے داعش کےخلاف نبردا آزما تھا ،اسی بابت وہاں امریکہ کی اپنی تھانےداری

کیلئے لگائی آگ قدرے کم ہو گئی ہے ورنہ اب تک وہ شام پر مکمل تسلط قائم

کرچکا ہوتا.

ابو رجا !خیالی صاحب قطع کلامی معاف اب یہ داعش نامی بلا ہمارے ہمسایہ

برادر ملک افغانستان میں ہی نہیں وطن عزیز میں بھی پنپ رہی ہے اور یہ امریکہ

بہادر ہی ہے جو اسے یہاں لا رہا ہے .افغانستان میں طالبان کے ساتھ امن مذاکرات

کا ڈھونگ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے کیونکہ اس نے بھانپ لیا ہے کہ افغانستان

کے تمام ہمسایہ ممالک یہاں تک کہ روس جو بذات خود افغان جہاد ہی کی وجہ

سے پارہ پارہ ہوا تھا افغانستان میں جاری جنگ کا خاتمہ اور امن کا خواہاں ہی نہیں

بلکہ حقیقی معنوں میں اس کیلئے چین ، ترکی ایران وسط ایشیائی ریاستوں اور

پاکستان کےساتھ ملکر عملی طور پر قیام امن کیلئے متحرک ہے ، آپ سب دوست

جانتے ہیں پاکستان افغانستان میں قیام امن کیلئے ایک عشرہ سے زائد وقت سے

کوشاں چلا آ رہا ہے لیکن تنہا ہونے کی وجہ سے امریکہ اسے اس کوشش میں

کبھی بلیک میل کر کے ، کبھی دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا بہانہ بنا کر ،

کبھی طالبان قیادت کو چکمہ دے کر انہیں ناکام بناتا چلا آرہا تھا تاکہ وہ اپنے

افغانستان سے انخلاء جسے وہ کب سے یقینی سمجھے ہوئے ہے اور صدر ٹرمپ

اپنے اقتدار کے اوائل ہی میں افغانستان سے نکلیں تو کچھ حاصل کر کے نکلیں کا

بیان داع چکا ہے کی اس موقع پر جب تمام ہمسایہ ملک افغانستان میں قیام امن

کیلئے متحرک ہیں داعش کی صورت میں اپنی موجودگی کا ساماں کر چکا ہے اور

دنیا کو ایک مرتبہ پھر اپنی چالاکی اور شاطر پن سے دھوکہ دینے کیلئے کوشاں

ہے کہ امریکہ خود بھی اس طویل جنگ سے تنگ آچکا ہے اور وہ اس معاملہ کو

امن مذاکرات کی شکل میں ختم کرنا چاہتا ہے .اسی لئے کل تک پاکستان کی امن

کیلئے ہر اس کوشش کو ناکام بنانےوالا آج مگر مچھ کے آنسو کی طرح پاکستان کو

افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے مدد مانگ رہا ہے ،حال ہی میں

مذہبی آزادی کے نام پر وطن عزیز کو بلیک لسٹ میں شامل کرنا افغانستان سے

اپنے انخلاء کیلئے باعزت راستے کی راہ ہموار کرنے کےلئے پاکستان پر دبائو

بڑھانا بھی ہے اور ساتھ ہی وطن عزیز میں اقلیتی برادریوں میں احساس عدم تحفظ

کو بڑھاوا دے کر اندر سے کمزورکرنا مقصود ہے .

شیخو جی ! اللہ جزائے خیر عطا کرے ابو رجا آپ کو، یہی وہ موضوع تھا جس پر

ہم سب دوست بحث کر رہے تھے آپ کی آمد اور اس بحث میں شامل ہونے سے

قدرے آسانی ہو گئی اور اس بحث کو سمیٹے ہوئے اگر اتنا عرض کروں کہ خواب

غفلت کا وقت گیا تو بے جا نہ ہوگا…..جس پر حاضرین محفل نے ہم آواز ہو کر کہا

بے شک شیخو جی آپ نے درست فرمایا، خؤاب غفلت کا وقت گیا-