116

پاکستان بھارت ایٹمی جنگ ٹالنے کیلئے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر، نیویارک ٹائمز

Spread the love

نیویارک(جے ٹی این آن لائن بیورو رپورٹ)

پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ چھڑنا عین ممکن ہے۔ ایسا خدشہ

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنے اداریے میں ظاہر کیا ہے-

امریکہ کے مقبول ترین اخباروں میں سے ایک نیویارک ٹائمز اپنے اداریے میں

مزید لکھتا ہے سرحدوں پر دونوں ملکوں کی فوج تیار اور حکومتوں کے درمیان

ڈائیلاگ نہ ہونے کے برابر ہے،

جب تک پاکستان اور بھارت کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کرتے، خوفناک

صورتحال کا سامنا رہے گا ۔

اخبار کامزید کہنا ہے شمالی کوریا نہیں بلکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی

جنگ چھڑجانے کا امکان ہے، دونوں ملک خطرناک صورتحال میں داخل ہوچکے

ہیں۔ ایٹمی ہتھیاروں کے سبب اگلی محاذ آرائی اس سے کہیں زیادہ بعید ازقیاس

ہوگی اور ممکن ہے اتنی آسانی سے ختم نہ ہو۔

اخبار کا کہنا ہے بھارت کا پاکستان پر حملے میں بڑی تعداد میں دہشتگرد مارنے کا

دعوی مشکوک ہے۔

اخبار نے واضح کیا کہ 70 برس میں تین جنگیں لڑنیوالے دونوں ممالک کے مابین

صورتحال خراب تر ہوسکتی تھی۔ سو نے پہ سہاگہ نریندر مودی پاکستان کیخلاف

بات کرکے ہندو قوم پرستی کو ہوا دے رہے ہیں۔

اداریہ میں کہا گیا ہے وزیراعظم پاکستان عمران خان نے گرفتار بھارتی پائلٹ

واپس کیا جو خیر سگالی کے طور پر دیکھا گیا، اس سے نریندر مودی کو بھی

موقع ملا وہ کشیدگی میں اضافہ نہ کر یں ۔

بھارتی دھمکیاں، پاکستان کا اقوام متحدہ کو خط، عالمی ادارہ کشیدگی ختم کرانے پر تیار

نیویارک ٹائمز نے پاک بھارت کشیدگی میں خاتمے کیلئے عالمی کردار کی بھی

وکالت کی اور واضح کیا عالمی دباو کے بغیر دیرپا حل ناممکن ، ایٹمی جنگ کا

خطرہ برقرار رہے گا۔

اخبار نے یہ بھی یاد دلایا کہ انیس سونناوے، دوہزار دو اور دو ہزار آٹھ میں پاک

بھارت کشیدگی میں کمی کیلئے امریکی صدور بل کلنٹن، جارج بش اور براک

اوباما نے اہم کردار ادا کیا مگر ٹرمپ انتظامیہ نے کشیدگی میں کمی سے متعلق

اسوقت بیان دینے سے زیادہ کچھ نہیں کیا ۔

پاک بھارت کشیدگی میں خاتمے کیلئے ٹرمپ کا بطور ثالث کردار نظر نہیں آتا

کیونکہ تجارتی مفادات سامنے رکھ کر ٹرمپ نے امر یکہ کا جھکاو پاکستان

کیخلاف اور بھارت کی جانب کردیا ،

اداریہ کے مطابق اقوام متحدہ کے نزدیک بھی بھارتی پالیسی سے عسکریت پسندی

بڑھ رہی ہے، مسئلہ کا حل پاکستان، بھارت اور کشمیری عوام کے درمیان بات

سے نکلنا چاہیے۔