165

رافیل طیاروں کے معاہدہ کی خفیہ دستاویزات چوری ہوگئیں، بھارتی حکومت کا نیا پینترا

Spread the love

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت اور فرانس کے درمیان رافیل طیاروں کا معاہدہ مودی
حکومت کے گلے پڑتا جارہا ہے اور اب حکومت نے باضابطہ طور پر سپریم کورٹ میں
مؤقف اختیار کیا ہے رافیل طیاروں کے معاہدے کی خفیہ دستاویزات چوری ہوچکی ہیں ۔

رافیل طیاروں کے معاہدے کیخلاف بھارتی سپریم کورٹ میں کیس زیرسماعت ہے جس
کے دوران اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال نے حکو مت کی نمائندگی کی اورمذکورہ
بالا انکشاف کرتے ہوئےکہا حساس دستاویزات کا معا ملہ عدالت میں اٹھا کر درخواست
گزار آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو مزید بتایا معاہدے کی دستاویزات وزارت دفاع کے موجودہ یا
سابقہ ملازمین نے چوری کی ہیں اور یہ انتہائی خفیہ دستاویزات تھیں جنہیں عام نہیں کیا جا
سکتا۔

اس موقع پر چیف جسٹس رنجان گوگوئی نے استفسار کیا ‘حکومت کی جانب سے کیا اقدامات
کیے گئے ہیں’، جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا چوری شدہ دستاویزات کا پتہ لگانے کیلئے
تحقیقات کی جارہی ہیں،

اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ سے درخواست کی کہ خفیہ دستاویزات درخواست کیساتھ نہیں
لگائی جاسکتیں، اسلئے درخواست گزار کی درخواست ناقابل سماعت قرار دی جائے۔

یاد رہے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ستمبر 2016 میں فرانسیسی حکومت کیساتھ 36
رافیل طیاروں کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اخبار ‘دی ہندو’ نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا
جس قیمت پر مودی حکومت نے 36 طیاروں کے معاہدے کیے اس کے مقابلے میں کانگریس
کی گزشتہ حکومت کی فرانس کیساتھ 126 طیاروں کی بات چیت جاری تھی اور معاہدے سے
ایک ہزار 963 ارب روپے کا نقصان پہنچا ہے۔

بھارت میں اس معاملے نے اْس وقت زور پکڑا جب ستمبر 2018 میں سابق فرانسیسی صدر
فرانسوا اولاند نے انکشاف کیا کہ بھارت نے 11 کھرب روپے مالیت کے 36 رافیل لڑاکا
طیاروں کی خریداری کیلئے بزنس مین انیل امبانی کی دیوالیہ کمپنی کو پارٹنر بنانے کی تجویز
دی تھی۔

سابق فرانسیسی صدر کے انکشاف کے بعد بھارتی سیاست میں ہلچل مچ گئی اور اپوزیشن جماعت
کانگریس کے صدر راہول گاندھی بھی مودی سرکار پر برس پڑے تھے۔