75

جعلی بنک اکاؤنٹس کیس،سپریم کورٹ نے بلاول ،وزیر اعلیٰ سندھ مراد شاہ ، فارق ایچ نائیک اورعاصم منصور کا نام ای سی ایل سے ہٹانے کا حکم دیدیا

Spread the love

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوزایجنسیاں)سپریم کورٹ نے جعلی

بنک اکاؤنٹس کیس کا معاملہ نیب کے سپردکرتے ہوئے نیب کو دو ماہ میں تحقیقات

مکمل کرنے حکم دیدیا ہے ، سپریم کورٹ نے بلاول ،وزیر اعلیٰ سندھ مراد شاہ ،

فارق ایچ نائیک اور اٹارنی جنرل کے بھائی عاصم منصور کا نام بھی ای سی ایل

سے ہٹانے کا حکم بھی دیدیا، چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دئیے

فرشتوں نے تو جعلی بنک اکاؤنٹس نہیں بنائے معاملہ نیب کو بھیج رہے ہیں اب

نیب ہی جانے۔چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے جعلی بنک اکاؤنٹس

کیس کی سماعت کی ، اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی حکم پر ای سی

ایل کے معاملے پر کابینہ کا اجلاس بلایا تھا جس میں تمام ناموں کا جائزہ لینے کا

فیصلہ کیا ہے۔ ای سی ایل سے متعلق جائزہ کمیٹی کا اجلاس 10 جنوری کو ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ٹھیک ہے اب ای سی ایل والے معاملے پر جوبھی ہوگا وہ

جائزہ کمیٹی ہی کرے گی وکیل خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ جے آئی ٹی نے

سینئر وکیل فاروق نائیک کے خلاف آبزرویشن دی ہیں چیف جسٹس نے کہا کہ

ایسے وکلا ء کے نام شامل ہوئے تو پھر ایک نیا پینڈورا باکس کھل جائے گا جو ہم

کھولیں گے۔جسٹس اعجازلاحسن نے کہا کہ ہم نے اس رپورٹ پر فیصلہ کرنا ہے۔

یہاں کوئی بھی مقدس گائے نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ

جعلی بنک اکاؤنٹس میں سیاستدانوں اور نجی پراپرٹی ٹائیکون کا گٹھ جوڑ ہے ایسا

مکسچر کیاہے کہ اس کی لسی بن گئی ہے،کیا اوپر سے فرشتے آکر جعلی بنک

اکائونٹس کھول گئے۔سندھ میں ایسے ٹھیکے دیکھے جو کاغذوں میں مکمل ہو گئے

تھے لیکن ہم نے بعد میں کام کرایا، جے آئی ٹی نے بھی ایسے ہی ٹھیکوں کا ذکر

کیا ہے، ہم مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے،چیف جسٹس نے کہا کہ جے

آئی ٹی کو ایک معاملے کی وضاحت تو دینا پڑے گی کہ بلاول کو کیوں معاملے

میں ملوث کیا، بلاول معصوم نے ایسا کیا کر دیا، بلاول تو شہید ماں کا مشن پورا

کرنے نکلا ہے کیا کسی کے کہنے پر بلاول کا نام رپورٹ میں ڈالا گیا جے آئی ٹی

نے تو اپنے وزیر اعلیٰ کی عزت نہیں رکھی، انکا نام ای سی ایل میں ڈال

دیا،عدالت عظمیٰ نے حکم دیا کہ جے آئی ٹی اپنا کام مکمل کرے اور اگر کوئی

ریفرنس بنتا ہے تو بنائے، عدالت کی طرف سے بلاول ،وزیر اعلیٰ سندھ مرداشاہ

،فاروق نائیک اور اٹارنی جنرل انور منصور کے بھائی عاصم منصور کا نام بھی

ای سی ایل سے نکالنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔دوسری جانب سپریم کورٹ نے

بیرون ملک پاکستانی قیدیوں کی واپسی سے متعلق رپورٹ طلب کرلی جبکہ عدالت

نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی جیل میں ہلاکتوں کی ذمہ دار وزارت داخلہ

ہے۔سپریم کورٹ میں برطانیہ سے قیدیوں کی پاکستان منتقلی سے متعلق کیس کی

سماعت ہوئی جس میں سیکریٹری داخلہ کے پیش نہ ہونے پر عدالت نے شدید

برہمی کا اظہار کیا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ سیکریٹری داخلہ

تو خود کو شہنشاہ سمجھتے ہیں، آج آخری موقع کے باوجود پیش نہیں ہوئے،

سیکریٹری داخلہ کیوں پیش نہیں ہو رہے؟عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو کہا کہ

سیکریٹری داخلہ کو 10 منٹ میں عدالت آنے کا حکم دے رہے ہیں، اگر 10 منٹ

میں پیش نہ ہوئے تو توہین عدالت کا نوٹس اور وارنٹ جاری کریں گے۔سپریم

کورٹ کے طلب کرنے پر سیکریٹری داخلہ عدالت میں پیش ہوئے جس پر عدالت

نے پہلے پیش نا ہونے پر ان کی سرزنش کی۔جسٹس عظمت سعید نے سیکریٹری

داخلہ سے استفسار کیا کہ بیرون ملک جیلوں میں قید پاکستانیوں کا کیا کرنا ہے؟ کیا

بیرون ملک سے پاکستانیوں کی لاشیں ہی واپس لانی ہیں، بیرون ملک پاکستانیوں

کی جیل میں ہلاکتوں کی ذمہ دار وزارت داخلہ ہے۔معزز جج نے مزید ریمارکس

دیے کہ سیکریٹری داخلہ کوئی اور کام دیکھیں، وزارت داخلہ چلانا ان کے بس

میں نہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply