142

پا کستان پر حملے کا جھوٹا دعویٰ،بھارتی ائیر چیف کو سوالات کا سامنا

Spread the love

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان پر حملے سے متعلق بھارتی عوام کو گمراہ

کرنے اور جھوٹے دعوے کرنے پر مودی کو اپنے ہی ملک میں سخت سوالات کا

سامنا ہے،بھارتی فضائیہ کے سربراہ بی ایس دھانوئے بھی پریس کانفرنس کے

دوران بالاکوٹ حملے میں ہلاکتوں کے سوالات پر کوئی ٹھوس جواب نہ دے

سکے۔ پریس کانفرنس میں صحافیوں نے سوالات کی بوچھاڑ کردی جس پر وہ

مطمئن نہ کرسکے۔بی ایس دھانوئے نے کہا کہ ہم ہدف کو نشانہ بناتے ہیں، ہلاکتوں

کی تعداد نہیں گنتے، ہلاکتوں کی تعداد بتانا حکومت کا کام ہے۔انہوں نے مزید کہا

کہ بھارتی فضائیہ حملے میں ہلاکتوں کی وضاحت دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

پاکستان کی جانب سے رہا کردہ پائلٹ ابھی نندن کے مستقبل سے متعلق پوچھے

گئے سوال پر بھارتی ایئر چیف نے کہا کہ ابھی نندن دوبارہ طیارہ اڑا سکتے ہیں یا

نہیں اس کا دار و مدار ان کی میڈیکل فٹنس پر ہے۔کرناٹک کے وزیر پریانک

کھرجے نے پاکستان پر ائیر اسٹرائیک کے بھارتی دعوے پر سوال اٹھاتے ہوئے

کہا کہ پاکستان میں فضائی حملوں نے عوام کے درمیان شکوک و شبہات پیدا

کردیے ہیں۔آندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ چندرا بابو نائیڈو کا کہنا تھا کہ جو مودی

کے خلاف بات کرتا ہے اس کے خلاف کیسز بنادیے جاتے ہیں۔اتر پردیش کی سابق

وزیراعلیٰ مایا وتی اور دلی کی سابق وزیراعلیٰ و کانگریس رہنما شیلہ ڈکشٹ نے

کہا کہ اس سب سیمودی نے سیاسی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کی۔اس کے

علاوہ اپوزیشن اور شہریوں نے بالاکوٹ میں کامیابی کے دعوؤں پر مودی سرکار

سے ثبوت مانگے تو سابق اور موجودہ وزرا نے حالات و واقعات کو سازش قرار

دینا شروع کردیا۔بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس نے بھارتی وزیراعظم

نریندر مودی کے بیان پر اعتراض کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا حکومت کو بھی

اپنے مشن کی کامیابی پر شکوک و شبہات ہیں. بھارتی وزیراعظم نے ایئر فورس

کیلئے رافیل طیاروں کی خریداری میں تاخیر کا ذمہ دار اپوزیشن کو قرار دیتے

ہوئے اسے پاکستان کے ساتھ حالیہ کشیدگی میں ہونے والے نقصان کی وجہ قرار

دیا تھا.کانگریس نے اپنے بیان میں کہا کہ نریندر مودی یہ بیان دیکر کہ ملک کو

رافیل طیاروں کی کمی کا سامنا ہے، اگر یہ طیارے بھارت کے پاس ہوتے ہوئے تو

نتائج مختلف ہوتے بذات خود پاکستان میں مبینہ طور پر دہشت گردوں کے خلاف

کی گئی کارروائی پر سوالات کھڑے کردیے ہیں۔نئی دہلی میں پریس کانفرنس میں

گفتگو کرتے ہوئے کانگریس کے ترجمان منیش تیواری نے کہاکہ آخر اس بیان کا

مطلب کیا ہے بھارتی اخبار کی رپورٹ کے مطابق کانگریس نے کہاکہ نہ تو ہم نے

پہلے فضائی کارروائی کے ثبوت مانگے نہ اب اس کا مطالبہ کررہے ہیں.انہوں

نے اس بات پر زور دیا کہ وزیراعظم خود اس بات کی وضاحت کریں کہ رافیل

طیاروں کی موجودگی میں کیا فرق ہوتا، اس کے ساتھ انہوں نے نریندر مودی کو

فرانسیسی ساختہ طیاروں کی خریداری کے اولین معاہدے کو منسوخ کرنے پر ان

کی خریداری میں تاخیر کا ذمہ دار قرار دیا۔بھارت کے معروف صحافی راج دیپ

سرڈیسائی نے اپنے ٹویٹ میںکہا ہے کہ بالاکوٹ حملہ کے بعدبھارتیوں کی جانب

سے بغلیں بجا نے کے عمل نے دنیا کا بھارت سے اعتماد اٹھ گیا۔بھارت کے سابق

وزیر خارجہ یشونت سنہا نے تسلیم کیا ہے کہ( اسلامی ممالک کی تنظیم) او آئی

سی کی قرارداد کے بعد مقبوضہ کشمیر میں صورتحال یکسر تبدیل ہوگئی ہے۔ پیر

کو یشونت سنہا نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ بھارت نے او آئی سی کی دعوت

قبول کرکے بہت بڑی سفارتی غلطی کی۔ اب ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ بھارت کی او

آئی سی میں شرکت کے بعد کیا بھارت او آئی سی کی جانب سے مقبوضہ کشمیر

کے حوالے سے منظور کی گئی قراردادوں کو بھی تسلیم کرتا ہے یا نہیں۔