156

بھارت کے بڑے دہشت گرد حملے کا خدشہ،کراچی ،بہاولپور میں انڈیااوراسرائیل کے مشترکہ میزائل حملے کا منصوبہ ناکام

Spread the love

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت نے اسرائیل کیساتھ ملکر بہاولپور اور کراچی

کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی تھی جس کا پاکستان کو پہلے سے علم ہوگیا

تھا۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان ہر سطح پر امن کی کوششیں کر رہا ہے

تاہم کسی نے جارحیت کی تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔ پاکستان خطے میں

کشیدگی کے حوالے سے عالمی برادری کو آگاہ رکھے ہوئے ہے۔اعلیٰ حکومتی

ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان پر میزائل حملے میں ناکامی کے بعد بھارت

پاکستان کے کچھ شہروں میں بڑے دہشت گرد حملے کراسکتا ہے۔جیونیوز کے

پروگرام کیپٹل ٹاک کے میزبان اور سینئر صحافی حامد میر کے مطابق اعلیٰ

حکومتی ذمہ دار نے بتایا کہ ’ ’پاکستان اور بھارت کی حکومت کے درمیان اس

وقت براہ راست کوئی رابطہ نہیں‘‘۔حامد میر کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ ’اس

تمام تر صورتحال کے باوجود پاکستان اور بھارت کی سکیورٹی ایجنسیز کے

درمیان رابطہ برقرار ہے اور یہ رابطہ 27 اور 28 فروری کی رات کو بھی ہوا

تھا۔سینئر صحافی نے کہا کہ ’انہیں اعلیٰ حکومتی ذمہ دار نے بتایا کہ بھارت نے

راجستھان کے ائیربیس سے پاکستان میں 6سے 7 جگہ پر میزائل حملے کا منصوبہ

بنایا تھا‘۔ذرائع نے مزید بتایا کہ ’پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیز کو اس حملے کا

قبل از وقت پتا چلا جس پر ایجنسیز نے بھارتی ایجنسیز کو خبردار کیا کہ ہمیں

آپکے منصوبے کا پتا چل گیا ہے اس لیے اگر آپ حملہ کریں گے تو ہم بھی تیار

بیٹھے ہیں، آپکے حملے کی جو شدت ہوگی تو ہمارا حملہ اس سے تین گنا زیادہ

ہوگا‘۔حامد میر کے مطابق ذرائع نے کہا کہ ’پاکستان اور بھارت کے اس رابطے

میں کچھ عالمی رہنماؤں کو بھی شامل کیا گیا اور اس طرح پاکستان کے خلاف یہ

بڑا منصوبہ ٹل گیا جب کہ پاکستان اس سے قبل ہی بھارتی پائلٹ کی رہائی کا

فیصلہ کرچکا تھا‘۔حامد میر نے مزید بتایا کہ ’حکومتی ذمہ دار کے مطابق

اطلاعات ہیں کہ بھارت کی طرف سے ایک میزائل حملے کا بھی منصوبہ بنایا گیا

تھا یہ منصوبہ ناکام کرنے کیلئے پاکستان کی طرف سے کچھ ممالک نے بھارت کو

پیغام دیا کہ پاکستان پر حملہ کیا گیا تو اس کا بھرپور طریقے سے جواب دیں گے‘۔

ذرائع کے مطابق ’اس وقت پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی اس سطح کی

نہیں جو گزشتہ دنوں تھی تاہم اس وقت پاکستان کی حکومت، مسلح افواج اور

ایجنسیز خبردار ہیں، بھارتی پائلٹ کی رہائی سے صورتحال تبدیل ہوئی ہے اور

پاکستان کو انٹرنیشنل سطح پر سفارتی تعاون حاصل ہوچکا ہے‘۔ذرائع نے بتایا کہ

’اس تمام صورتحال میں پہلے سعودی عرب، ترکی اور امریکہ کا اہم کردار تھا

لیکن اس کشیدگی کو کم کرنے میں برطانوی وزیراعظم نے پچھلے ایک دو دن میں

اہم کردار ادا کیا، پاکستان کے دوست ممالک اور عالمی رہنما پاکستان سے بھارت

کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کا کہہ رہے ہیں لیکن پاکستان نے ان کو کہا ہے کہ ہم

نے اپنے عمل سے ثابت کیا ہے کہ ہم امن چاہتے ہیں، ہم نے پائلٹ کو رہا کرکے

اس کا ثبوت دیا، اب مودی حکومت کو بھی عملی اقدام اٹھانا چاہیے جس سے پتا

چلے کہ بھارت بھی پاکستان کے ساتھ امن چاہتا ہے‘۔حامد میر کے مطابق حکومتی

ذرائع نے بتایا کہ ’بظاہر ایل او سی پر کشیدگی کم ہوگئی ہے لیکن پاکستان کے

کچھ شہر دشمن کے ہدف پر ہیں، ہو سکتا ہے کہ اب وہ انٹرنیشنل بارڈر کراس نہ

کریں بلکہ کوئی دہشت گرد حملہ کراسکتے ہیں، بھارت کچھ شہروں میں دہشت

گرد حملے کرنا چاہ رہا ہے جس کی پاکستان کی جانب سے دوست ممالک اور

عالمی طاقتوں کو بھی اطلاع دیدی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان اور بھارتی

حکومت کے درمیان براہ راست کوئی رابطہ نہیں ہوا لیکن بھارت کو بتا دیا گیا تھا

کہ حملہ ہوا تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔ پاکستان کو بھارت کے حملے کی انٹیلی

جنس اطلاع مل چکی تھی۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک کے اندر غیر ریاستی

عناصر کو غیر مسلح کرنے کیلئے مربوط حکمت بنائی جا رہی ہے۔ پاکستان کی

سرزمین کوکسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا، نیشنل

ایکشن پلان پر بھرپورعمل کیا جائے گا اور کسی بھی قسم کی کوتاہی نہیں برتی

جائے گی۔حکومتی ذرائع کے مطابق پلوامہ حملے سے متعلق بھارت کی طرف

سے جو ڈوزیئر دیا گیا ہے اس میں ابھی تک ایسے قابل عمل شواہد شیئر نہیں کیے

گئے جس کی بنیاد پر جیش محمد یا مسعود اظہر کے خلاف ایکشن لیاھائے ۔اعلی

سطح کے حکومتی ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ دسمبر میں حکومت نے فیصلہ کرلیا

تھا کہ وہ تمام تنظیمیں جو پاکستان میں کالعدم ہیں اور ان کے پاس ایک بڑی افرادی

قوت ہے، ان تنظیموں کو قومی دھارے میں لایا جائے گا جس کے تحت ان تنظیموں

کے مدارس کو حکومت اپنی تحویل میں لے گی اور ان میں زیرتربیت طلبہ کی

تعلیم و تربیت جاری رہے گی۔اعلی ذمہ دار نے بتایا کہ اس سلسلے میں وزارتِ

داخلہ اور دیگر حکومتی اداروں کو وزارتِ خزانہ کی طرف سے بھاری رقم

مطلوب ہے جو اب تک فراہم نہیں کی گئی۔