72

ہا سٹل کی تعمیر میں دفتر خارجہ حکام نے کرپشن کی انتہا کر دی

Spread the love

اسلام آباد(جے ٹی این آن لائن) دفتر خارجہ کے زیر تربیت افسران کیلئے تعمیر کئے گئے ہاسٹل میں
بھاری کرپشن اور بددیانتی کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ ہاسٹل برونائی حکومت کی مالی مدد سے تعمیرہوا ہے
جس کی ابتدائی لاگت 157ملین روپے تھی جو بڑھ کر404 ملین تک پہنچ گئی ہے جس کی براہ راست
ذمہ داری سیکرٹری خارجہ پرعائد ہوتی ہے۔

منصوبہ کا آغاز2004میں ہوا جو ابھی تک تکمیل کے مراحل میں ہے۔ 70کمروں پر مشتمل ہاسٹل کی
تعمیر میں بھاری کرپشن سامنے آئی ہے ۔منصوبہ کی تعمیرو ڈیزائن کی ذمہ داری نیشنل انجینئرنگ
سروس پاکستان کے پاس ہے۔

دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے دفتر خارجہ حکام نے نجی کمپنی اے ایس خان کنسٹریکشن کو 10کروڑ
80لاکھ روپے غیر قانونی طریقہ سے ادا کررکھے ہیں

نجی کمپنی کو کروڑوں روپے کے ٹھیکے دیتے وقت 56لاکھ روپے کی انشورنس بطور گارنٹی بھی وصول
نہیں کی گئی ۔

حکام نے منصوبہ کی کنسلٹنٹ فرم کوبھی غیر قانونی طریقہ سے 24لاکھ روپے دے دئیے جبکہ لوہا کی
خریداری کے وقت 10لاکھ کا گھپلا کیا گیا۔

متعلقہ حکام نے منصوبہ کے ٹینڈر کے وقت بھی 28کروڑ روپے کا ہیر پھیر کیا جس کی تحقیقات کا حکم دیا
گیا ہے جبکہ نیسپاک کو کنسلٹنسی کا ٹھیکہ غیر قانونی طور پر دے کر16ملین کا گھپلا کیا گیا ہے۔

تعمیرکے دوران 16ملین براہ راست من پسند ٹھیکیدار کو دئیے گئے۔ دفتر خارجہ حکام نے بھی ہاسٹل کی
تعمیر کے دوران سی ڈی اے کے قواعد کی خلاف ورزی کررکھی ہے جبکہ نامکمل منصوبہ ہونے کے
باوجود کنسلٹنٹ سے تکمیل کے سرٹیفیکیٹ حاصل کیے گئے ہیں

تعمیراتی کمپنی کو تاخیر سے منصوبہ مکمل کرنے کے باوجود 3کروڑ32لاکھ کا جرما نہ وصول ہی نہیں کیا گیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply