177

ایف بی آر شعبہ کسٹم میں کڑوروں کی کرپشن اور بدیانتی کا نیا سکینڈل

Spread the love

اسلام آباد(جے ٹی این آن لائن) ایف بی آر کے شعبہ کسٹم میں کڑوروں روپے کی کرپشن اور بدیانتی
کا نیا سکینڈل سامنے آیا ہے۔

معتبر ذرائع کا کہنا ہے کسٹم حکام مختلف شہروں سے نان کسٹم اشیاء قبضہ میں لے کر خود ہضم کر
گئے ہیں۔ کرپشن کا علم ہونے کے باوجود متعلقہ حکام کارروائی سے گریزاں ہیں.

کسٹم آفس فیصل آباد کے سربراہ قبضہ میں لیا گیا اے سی خود استعمال کر رہے ہیں تومتعدد اشیاء ویئر
ہائوس سے غائب ہیں۔ کسٹم آفس لاہور کے افسران نے بھی کرپشن کے نئے ریکارڈ قائم کر رکھے ہیں،

افسران نے تاجروں سے ملی بھگت کرکے سا مان کی پوری لاٹ ہی تاجر کے حوالے کردی جس سے
خزانہ کو بھاری مالی نقصان ہوا ہے۔

کستم کراچی کے حکام بھی اس دوڑ میں پیچھے نہیں وہ بھی سامان کی پوری لاٹ من پسند تاجر کے
حوالے کرکے قومی خزانہ کو 45 لاکھ روپے کا نقصان پہنچا چکے ہیں.

ڈپٹی ڈائریکٹر کسٹم لاہورکے لاٹ نمبر 194 من پسند تاجر کو دے کر قومی خزانہ کو ملین روپے کا
نقصان پہنچانے کا بروقت علم ہونے کے باوجود کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی

کسٹم حکام اسلام آباد نے تو کرپشن کا نیا طریقہ ایجاد کرکے قومی خزانہ کو لوٹ لیا متعلقہ حکام نے
37کاروں کو نیلام کیا۔ جب کار ڈیلیور کرنے کا وقت آیا تو من پسند تاجر کو 38 کاریں دے دیں

کسٹم اسلام آباد نے جہاں61 کاریں قبضہ میں لے رکھی ہیں۔وہیں مختلف سامان کی لاٹ کی نیلامی کی
بڈ میںقوانین کو نظر اندازکر کے اسی تاجر کی بولی منظور کرلی جو پہلے مسترد کردی گئی تھی۔

کسٹم حکام سکھر نے قبضہ میں لئے گئے دو سو موبائل سیٹس کو اونے پونے داموں نیلام کردیا۔ فیصل آباد
کسٹم حکام نے سرخ مرچوں کے بیج میں بھی کرپشن کر رکھی ہے

ایف بی آر حکام نے ابھی تک قبضہ میں کی گئی اشیاء کی سٹوریج کیلئے کوئی عمارت ہی نہیں بنائی،کسٹم
حکام لاہور نے مختلف اشیاء گاڑیاں وغیرہ جو قبضہ میں لے رکھی ہیں ان کو باقاعدہ رجسٹرڈ ہی نہیں کیا۔