183

مزید روہنگیا پناہ گزینوں ناقابل قبول،بنگلہ دیش کا اقوام متحدہ کوجواب

Spread the love

ڈھاکہ(جے ٹی این آن لائن) بنگلہ دیش نے اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کو بتایا وہ میانمار سے
آنے والے مزید روہنگیا پناہ گزینوں کو قبول نہیں کرے گا۔

میانمارمیں 2016-2017 کے دوران فوجی کریک ڈاؤن کے بعد سے اب تک سات لاکھ چالیس ہزار سے
زائد روہنگیا مسلمان نقکل مکانی کرکے بنگلہ دیش آ چکے ہیں۔

بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ شاہد الحقی نے میانمار پر الزام بھی عائد کیا کہ اس نے ان پناہ گزینوں کی واپسی
سے متعلق کھوکھلے وعدہ کیے۔اقوامِ متحدہ نے اس بحران کو نسل کشی قرار دیا جبکہ میانمار نے بے ریاست
قرار دی جانے والی اس اقلیت کو نشانہ بنانے کے الزام کو مسترد کیا.

بنگلہ دیش اور میانمار کے درمیان ان پناہ گزینوں کی واپسی سے متعلق جنوری 2018 میں معاہدہ ہوا تھا۔ میانمار
نے 1500 روہنگیا کو ہر ہفتے واپس لے جانے پر اتفاق کیا تھا۔ معاہدے کے تحت تمام پناہ گزینوں کو دو سال میں
واپس لے جایا جانا تھا۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں شاہد الحقی کا کہنا تھا وہاں کے ماحول کی وجہ سے ایک بھی روہنگیا نے واپس
رخائن جانے کی رضا مندی نہیں دی۔‘’کیا بنگلہ دیش ذمہ دار ہونے اور ہمسایہ ریاست کی اقلیت کے ساتھ ہمدردی
کی قیمت چکا رہا ہے؟