132

پاکستان سپر لیگ میں کوچز سابق قومی لیگ اسپنرعبد القادر کی نگاہوں میں کھٹکنے لگے

Spread the love

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان سپر لیگ میں خدمات کی انجام دہی کرنے والے کوچز سابق قومی

لیگ اسپنرعبد القادر کی نگاہوں میں کھٹکنے لگے جنہوں نے سوال اٹھا دیا ہے کہ قومی ٹیم کیلئے زیر

معاہدہ مکی آرتھر اور اظہرمحمود کس پالیسی کے تحت پی ایس ایل میں فرائض نبھا رہے ہیں کیونکہ

یہ مفادات کے تصادم کے مترادف بات ہے۔عبدالقادر کا کہنا تھا کہ پی سی بی کو چاہئے کہ وہ ویسٹ

انڈین کرکٹ بورڈ کی طرز پر نامور غیر ملکی کھلاڑیوں کو مینٹور کے طور پر ساتھ رکھے مگر

کوچنگ کیلئے سابق قومی کھلاڑیوں پر ہی بھروسہ کیا جائے جو گھر بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کے

تجربے اور مہارت کو زنگ لگ رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سابق کھلاڑیوں کے ناموں سے انکلوژرر

منسوب کرکے نہیں بلکہ ان کی اہلیت سے فائدہ اٹھا کر ہی انہیں عزت اور احترام دیا جاتا ہے لیکن

احسان مانی نے عہدہ سنبھالنے کے بعد ابھی تک ایسا کوئی کام نہیں کیا جس پر انہیں سراہا جا سکے۔

سابق لیگ اسپنر کا کہنا تھا کہ احسان مانی کے بجائے ماجد خان کو پی سی بی کا سربراہ مقرر کیا

جاتا تو ملکی کرکٹ میں بہتری کا امکان تھا جبکہ پی ایس ایل کی کامیابی میں بھی موجودہ بورڈ کا

کوئی کردار نہیں کیونکہ اس کا تمام تر کریڈٹ نجم سیٹھی کو جاتا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ایس

ایل سے ملک کو نئی صلاحیت مل رہی ہے لیکن اسے مختصر فارمیٹ تک محدود رکھا جائے کیونکہ

اس طرز کی کرکٹ سے ابھرنے والے پلیئرز کو ٹیسٹ اور ون ڈے میچوں میں کھلا کر ان ٹیموں کو

تباہ کیا جا رہا ہے اور یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ جس فارمیٹ سے پلیئر ابھرے اسے اسی طرز کی

کرکٹ میں کھلانا چاہئے۔