74

ماضی کی حکومتوں کی وجہ سے سانحہ ساہیوال جیسا واقعہ ہوا ‘شہباز گل

Spread the love

وزیراعلیٰ پنجاب کے ترجمان ڈاکٹر شہباز گل نے کہا ہے کہ ماضی کی حکومتوں کی وجہ سے سانحہ

ساہیوال جیسا واقعہ ہوا کیونکہ ماضی میں پولیس میں سیاسی بھرتیاں کی گئیں،خلیل فیملی کے ساتھ

زیادتی ہوئی ،پولیس نے اپنی گاڑی پرازخودفائرنگ کی اور ملوث لوگوں نے کیس پر بھی اثر انداز

ہونے کی کوشش کی،ہم نے رپورٹ کو دبانے کی کوشش نہیں کی اور یہ رپورٹ معاشرے کا آئینہ ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔شہباز گل نے کہا کہ ماضی

میں رپورٹس کو دبایا جاتا تھا لیکن ہم نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی)کو مقررہ وقت میں مکمل

کرایا۔جے آئی ٹی نے واضح کیا کہ خلیل کی فیملی اس سانحہ میں معصوم تھی اور انہیں بے قصور

قرار دیا ہے۔انہوںنے کہا کہ گاڑی کی طرف سے کسی موٹر سائیکل سے فائر نہیں ہوا اور بچوں کو

باہر نکال کر دوبارہ فائرنگ کی گئی جبکہ پولیس نے اپنی گاڑی پر ازخود فائرنگ کی۔شہباز گل نے

کہا کہ فائرنگ میں ملوث لوگوں نے کیس پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی، ہم نے رپورٹ کو دبانے

کی کوشش نہیں کی اور یہ رپورٹ معاشرے کا آئینہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں کی

وجہ سے سانحہ ساہیوال جیسا واقعہ ہوا کیوں کہ ماضی میں پولیس میں سیاسی بھرتیاں کی گئیں۔انہوں

نے کہا کہ خلیل فیملی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے،دو کروڑ روپے کا ٹرسٹ بنایا جائے گا اور خلیل کے

والدین کو ایک کروڑ روپیہ دیا جائے گا، خلیل فیملی سے ہر موقع پر تعاون کریں گے۔اس موقع پر

خلیل (مرحوم ) کے بھائی خلیل نے کہاکہ امیدہے کہ حکومت ،تحریک انصاف کی قیادت انصاف فراہم

کرے گی۔یاد رہے کہ 19 جنوری کو سی ٹی ڈی نے ساہیوال کے قریب جی ٹی روڈ پر ایک گاڑی پر

اندھا دھند فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں میاں بیوی اور ان کی ایک بیٹی سمیت 4افراد جاں بحق

ہوئے تھے جبکہ کارروائی میں تین بچے بھی زخمی ہوئے تھے۔واقعے کے بعد سی ٹی ڈی کی جانب

سے متضاد بیانات دیئے گئے، واقعے کو پہلے بچوں کی بازیابی سے تعبیر کیا بعدازاں ویڈیو منظر

عام پر آنے کے بعد مارے جانے والوں میں سے ایک کو دہشت گرد قرار دیا گیا تھا۔تاہم میڈیا پر معاملہ

آنے کے بعد وزیراعظم نے واقعے کا نوٹس لیا اور سی ٹی ڈی اہلکاروں کو حراست میں لے کر

تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی گئی۔جے آئی ٹی نے ابتدائی رپورٹ میں ہی سی ٹی ڈی

اہلکاروں کو قتل کا ذمہ دار قرار دیا تھا تاہم اب اس معاملے پر جوڈیشل انکوائری چل رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply