146

ملک کے طول و عرض میںبارشیں، برفباری، بلوچستان میں بڑے پیمانے پر تباہی

Spread the love

اسلام آباد،کوئٹہ ،لاہور،پشاور،مری (سٹاف رپورٹرز ، مانیٹرنگ ڈیسک ،) ملک کے طول و عرض

میں بارش اور برفباری کا سلسلہ جاری ہے ، وادی کوئٹہ سمیت شمالی بلو چستان میں شدید برفباری

کے باعث صوبے کا پنجاب،سندھ اور خیبرپختونخوا سمیت افغانستان سے بھی زمینی رابطہ منقطع

ہوگیا اور سینکڑوں گاڑیاں پھنس گئی ہیں ۔ زیارت ،کان مہترزئی،سنجاوی،توبہ اچکزئی اور توبہ

کاکڑی میں برفباری کے بعد ہنگامی صورتحال نافذ کر دی گئی جبکہ بارش اور برفباری سے

سینکڑوں مکانات منہدم دو بچوں سمیت پانچ افراد جاں بحق اورتیس سے زائد زخمی ہوگئے ،بارش

اور برفباری کے بعد پی ڈی ایم اے کے تمام ملازمین کی چھٹیاں منسوخ ،کوئٹہ کے سرکاری ہسپتالوں

سمیت تمام ضلعی ہسپتالوں میں ایمر جنسی نافذ کر دی گئی،کئی علاقوں میں سیلاب ریلے آنے سے قو

می شاہراہیں بہہ گئیں، کوئٹہ میں مسلسل بارش کے باعث شہر سیلابی منظر پیش کررہا ہے ، گیس

پریشر اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے معمولات زندگی مفلوج ہوکر رہ گئے ہیں اور شہر میں

کرفیو کا سماںہے،ملک کے دیگر صوبوں خیبر پختونخوا ، پنجاب ، سندھ ، گلگت بلتستان اور آزاد

کشمیر میں بھی بارشوں اور برفباری کے باعث چھتیں گرنے سمیت دیگر واقعات میں 3 شہر یوں کے

جاں بحق اور متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں ۔تفصیلات کے مطابق ملک میں صوبہ

بلوچستان کے راستے داخل ہونیوالے بارش و برفباری کے تازہ سلسلے نے صوبہ بلوچستان میں تباہی

مچا دی ہے ، جس میں ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔ چاغی ،نوشکی،دکی،خضدار ،تربت،آواران میں شدید

بارشوں کے بعد کاروبار زندگی معطل ہوکر رہ گئی ۔چمن میں شدید برسات اور تیز ہوائیں چلنے سے

متعدد مکانوں کی چھتیں گر گئیںجس سے 2 بچیاں جاں بحق اور 5افراد زخمی ،بجلی اور انٹرنیٹ

سروس معطل ، ندی نالوں میں طغیانی سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں۔ادھر قلعہ عبداللہ میں

پہاڑی علاقوں سے آنیوالے سیلابی ریلوں سے شہر کا رابطہ مکمل طورپر منقطع اور شہری مکمل

طور پر محصور ،درجنوں مکانات مکمل منہدم ہوگئے ہیں، وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے قلعہ

عبداللہ میں بارشوں اور برفباری کے پیش نظر سیلابی صو ر تحال کو مدنظر رکھتے ہوئے

ایمرجنسی نافذ کردی اور صورتحال سے نمٹنے کیلئے پاک فوج سے بھی مدد طلب کرلی، اس کے

علاوہ انتظامیہ ، پی ڈی ایم اور دیگر محکموں کو بھی ہنگامی بنیادوں پر امدادی کام کی ہدایت کردی

گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے تمام صوبائی اداروں کو ہائی الرٹ کر تے ہوئے متاثرہ علاقوں میں

امدادی کارروائیاں اور بارش ، برفباری اور سیلابی ریلوں سے بند قومی شاہراہوں کوکھولنے کے

اقدمات کی ہدایات بھی جار ی کر دی ہیں ۔ زیارت میں چار فٹ،کان مہترزئی میں تین فٹ،رود

ملازئی تین فٹ،توبہ اچکزی اور توبہ کاکڑی میں پانچ فٹ برفباری ہوئی ،کوئٹہ چمن شاہراہ پر واقع

مشہور باغک پل بھی سیلابی ریلے میں بہہ گیا ہے۔پنجاب کے متعدد علاقوں میں بھی بارشوں کا

سلسلہ جاری ہے۔ صادق آباد، تونسہ شریف، کوٹ ادو اور ملتان سمیت متعدد شہروں میں بارشیںتوملکہ

کوہسارمری میں برفباری کا سلسلہ جاری ہے جس سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے۔خیبر

پختونخوا کے شہرپاراچنار لوئر کرم کے گائوں ششو میں بارش کے باعث مکان کی چھت گرنے سے

ایک بچہ احمد جاں بحق جبکہ اس کے دو بھائی زخمی ہوگئے،ضلع کرم میں گزشتہ 3 روز سے

بارشوں اور پہاڑی علاقوں میں برف باری کا سلسلہ جاری ہے۔جبکہ محکمہ موسمیات نے مری اور

بالائی علاقوں میں برف باری کا سلسلہ وقفہ وقفہ سے تین دن تک جاری رہنے جبکہ سو مو ا ر تک

ملک بھر میں بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔