80

بھارتی طیاروں کی تباہی پر ہی امریکہ نے یکطرفہ بیان واپس لیا، شمیلہ این چوہدری

Spread the love

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) وائٹ ہائوس کے ایک سابق عہدیدار نے کہا ہے بھارتی ایئرفورس
کے2لڑاکا طیارے گرانے کے عمل نے امریکہ کو اس بات پر قائل کیا کہ وہ جنوبی ایشیاء کی

دوجوہری ریاستوں کے درمیان خطرناک محاذ آرائی کے خاتمے کیلئے پاکستان سے دوبارہ رابطہ قا

ئم کرے۔ہفتہ کو بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سابق امریکی صدر باراک

اوباما کے دور میں وائٹ ہائوس نیشنل سکیو ر ٹی کونسل میں پاکستان اور افغانستان کیلئے ڈائریکٹر

رہنے والی شمیلہ این چوہدری نے امریکی نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر جوہن بولٹن کے 14 فر و ری کے

پلوامہ حملے کے بعد دیئے گئے بیان کہ امریکہ بھارت کے اپنا دفاع رکھنے کے حق کی حمایت کرتا

ہے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا امریکہ نے پاکستانی فوج کی جانب سے دوبھارتی لڑاکا طیا ر ے گرانے

اور ایک پائلٹ حراست میں لیے جانے کے بعد اپنے دفاع کے بیان کو وا پس لیا،کانگریس کے اخبار

دی ہل کیلئے لکھی گئی ایک تحریر میں شمیلہ این چوہدری نے لکھا پاکستان کی جانب سے بھارتی

فضائیہ کے طیارے گر انے کے بعدہی امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے دونوں

ممالک پر تحمل کا مظاہرہ اور کسی بھی صورت میں کشیدگی سے گریز کر نے پر زور دیا اوربعد

ازاں مختلف امریکی قانون سازوں نے مائیک پومپیو کی جانب سے پاکستان اور بھارت کو صورتحال

ٹھیک کرنیکی ا پیل کی حمایت کی۔خارجہ امور پر ایوان کی کمیٹی کے چیئرمین کانگریس رکن ایلیوٹ

ایل انجیل کا کہنا تھا پاکستان کی جانب سے ونگ کمانڈر ابھی نندن کو بھارت کے حوالے کرنا اس

تنازع کے حل کیلئے بامعنی مذاکرات کو شروع کرنے کی جانب پہلا قدم ہے۔امریکی سینیٹ کی خا ر

جہ تعلقات سے متعلق کمیٹی میں ایک سینئر ڈیموکریٹ سینیٹر باب مینڈیز نے پاکستان اور بھارت کے

درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں ٹر مپ انتظامیہ سے مطالبہ کیاکہ وہ جنوبی ایشیا میں امن اور

استحکام کے فروغ کیلئے ایک متحرک کردار ادا کرے۔انہوں نے امریکی صدر کی انتظا میہ کو یاد

دلایا جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کیلئے سابق ریپبلکن اور ڈیموکریٹ انتظامیہ نے اعلی سطح پر

تعمیری کردار ادا کیا تھا۔کانگریس رکن ایلیوٹ ایل انجیل کا کہنا تھا کسی غلط اندازے کے متحمل

ہونے سے گریز کرنے کیلئے وزیر اعظم عمران خان کا ڈر ٹھیک ہے، پاکستانی رہنما ئو ں کو جیش

محمد کیخلاف واضح طور پر ضرور کارروائی کرنی چاہیے۔سینیٹر مینڈیز نے مزید کشیدگی کے

خطرے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہامیں اسلام آباد اور نئی دہلی پر زور دیتا ہوں وہ فوری طور پر مذاکرات کریں تاکہ اس کشیدگی کو کم کیا جاسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply