175

پلوامہ خود کش حملہ، ہلاکتیں49 ہوگئیں،انتہا پسند ہندوئوں کے پر تشدد مظاہرے

Spread the love

سرینگر،نئی دہلی(جے ٹی این آن لائن مانیٹرنگ ڈیسک)

مقبوضہ کشمیر میں ضلع پلوامہ کے لیتہ پورہ علاقے میں خود کش حملے میں

ہلاک ہونیوالے بھارتی فوجی اہلکاروں کی تعداد بڑھ کر 49 ہو گئی ہے۔ عہدیداروں

نے بتایا سرینگر کے ایک فوجی ہسپتال میں زیرِ علاج نو مزید اہلکار زخموں کی

تاب نہ لاکر چل بسے۔ خود کش حملہ بھارتی فوج کی سی آر پی ایف کے ایک

کانوائے پر کیا گیا تھا جس سے کانوائے میں شامل ایک بس مکمل طور پر تباہ ہو

گئی تھی۔ عہدیداروں کے مطابق ایک عسکریت پسند نے بعد میں جس کی شناخت

عادل احمد ڈار کے طور پر کی گئی اپنی کار کو جس میں کم سے کم ایک سو کلو

گرام بارودی مواد لدا ہوا تھا، سی آر پی ایف کے کانوائے میں شامل ایک بس سے

ٹکرادیا تھا جس سے ایک زور دار دھماکہ ہوا اور نہ صر ف بس مکمل طور پر

تباہ ہو گئی بلکہ اس میں سوار فوجی اہلکاروں کے پرخچے اڑ گئے۔

مقبوضہ کشمیر، خود کش کاربم دھماکا، 44 بھارتی فوجی ہلاک، متعدد زخمی

بھارت نے حملے کے لئے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا ہے اس کا بدلہ

لیا جائے گا۔ پاکستان نے واقعے میں ملوث ہونے کی سختی کے ساتھ تردید کی ہے

اور کہا ہے جمعرات کو مقبوضہ کشمیر میں کیا گیا خود کش حملہ اس کے لئے

گہری تشویش کا معاملہ ہے، خودکش حملے میں ہلاکتوں پر افسوس کرنے اور

حملے سے پیدا شدہ حفاظتی صورتِحال کا جائزہ لینے کے لئے بھارت کے وزیرِ

داخلہ راج ناتھ سنگھ سری نگر پہنچ گئے۔ انہوں نے ہوم ہامہ بڈگام میں پریس

کانفرنس کے دوران ہدایت کی ریاست میں سیکورٹی کا ازسرنو جائزہ لیا انہوں نے

الزام عائد کیا کچھ عناصر پاکستان کے ہاتھوں میں کھیل کر یہاں کا امن خراب

کرنے کی کوششو ں میں ہیں، انہوں نے کہا ایسے عناصر سے سختی سے نمٹا

جائے گا، انہوں نے یہ بھی ہدایت کی فوجی کانوائے کی نقل وحمل کے دوران

سویلیں ٹریفک پرپابندی عائد کی جائے، انہوں نے گورنر مقبوضہ کشمیر سے بھی

ملاقات کی اور ان سے کشمیر کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، سرکاری ذرائع

کے مطابق وادی میں اپنے مختصر قیام کے دوران وزیرِ داخلہ نے حفاظتی دستوں

کے مقامی کمانڈروں اور انتظامیہ کے اعلی افسران کے ایک ہنگامی اجلاس کی

صدارت کی۔ اجلاس میں خودکش حملے کے پس منظر میں ریاست بالخصوص

وادی کشمیر کی صورتِحال کے مختلف پہلوئوں پر غور و خوص کیا گیا، خودکش

حملے کی تحقیقات کے لیے بھارتی نیشنل سیکورٹی گارڈز ( این ایس جی) کے

ماہرین اور قومی تحقیقاتی ادارے نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی (ین اے آئی) کے

تفتیش کار بھی سرینگر پہنچ گئے ہیں۔ خودکش حملے میں ہلاکتوں کے خلاف

جمعے کو جموں اور خطے کے دوسرے ہندو اکثریتی شہروں اور علاقوں میں

احتجاجی ہڑتال کی گئی۔ ہڑتال کے لئے اپیل جموں کے تاجروں کی ایک انجمن نے

کی تھی، جس کی تائید مختلف سیاسی تنظیموں اور جموں ہائی کورٹ بار ایسوسی

ایشن نے کی۔ ہڑتال کے دوران جموں شہر کے مختلف مقامات پر ہونے والے

مظاہروں میں پاکستان کے خلاف نعرے لگائے گئے۔ ہڑتال کے دوران پرتشدد

مظاہرین نے کئی نجی گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا اور جموں کے مسلم اکثریتی

علاقے گجر نگر میں توڑ پھوڑ کی۔ عینی شاہدین کے مطابق موٹر سائیکلوں پر

سرینگر، بارودی سرنگ کا دھماکہ، 2 بھارتی اہلکار ہلاک، 19زخمی

سوار نوجوانوں نے، جن کے ہاتھوں میں بھارت کا قومی پرچم تھا، جموں کے پریم

نگر علاقے میں نجی گاڑیوں اور مکانوں پر پتھرائوکیا۔ اس سے پہلے مظاہرین

کے ایک گروپ نے گجر نگر سے گزرتے ہوئے سڑکوں پر پارک کاروں اور

دوسری گاڑیوں کو بلا اشتعال آگ لگا دی۔ تشدد اور پتھرا کے ان واقعات میں تقریبا

ایک درجن افراد زخمی ہوئے۔ انتہا پسند ہندوں نے جموں کے علاقوں گجر نگر

اور پریم نگر میں ایسی کم از کم پچاس گاڑیں نذر آتش کر دیں جن پر مقبوضہ

وادی کشمیر کی رجسٹریشن والی نمبر پلیٹیں لگی تھیں۔ تشدد اور بڑھتے ہوئی

کشیدگی کے پیشِ نظرحکام نے پہلے گجر نگر اور پھر پورے جموں شہر میں غیر

معینہ مدت کے لئے کرفیو نافذ کر دیا۔ ریاست کے سرمائی صدر مقام اور جموں

خطے کے چند دوسرے ہندو اکثریتی علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ سروسز بھی تا

حکمِ ثانی بند کر دی گئی ہیں۔ سرحدی ضلع پونچھ سے موصولہ ایک اطلاع میں

کہا گیا ہے کہ وہاں کے اعلی پیر بازار میں بھی ایک مشتعل ہجوم نے نجی موٹر

گاڑیوں میں توڑ پھوڑ اور مقامی مسلمانوں کی دکانوں کو نقصان پہنچانے کی

کوشش کی۔ لیکن پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مشتعل افراد کو آنسو

گیس کے استعمال سے منتشر کر دیا۔

مقبوضہ کشمیر، بھارتی فورسز کی بدترین دہشتگردی، 8نوجوان شہید

دریں اثناء مقبوضہ کشمیرمیں سیدعلی گیلانی، محمد یاسین ملک اور میرواعظ

عمرفاروق پر مشتمل مشترکہ مزاحمتی قیادت نے جموں میں ہونے والے تشدد آمیز

واقعات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی اپنے بیان میں انہوں نے انتظامیہ پر زور دیا

کہ وہ کشمیریوں کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے

مطابق مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں افراد نے گزشتہ روز سرینگر جموں ہائی وے

پر ایک دھماکے میں شہید ہونیوالے کشمیری نوجوان عادل احمد ڈار کی غائبانہ

نماز جنازہ میں شرکت کی۔ جنوبی کشمیر کے مختلف دیہات سے ہزاروں افراد

شہید نوجوان کے آبائی گائوں گانڈی باغ میں اکٹھے ہوئے جہاں شہید نوجوان کی

غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی، نماز جنازہ میں شریک کشمیریوں نے اس موقع پر

بھارت مخالف اور تحریک آزادی کشمیر و پاکستان کے حق میں فلک شگاف نعرے

لگائے اور کہا انہیں کشمیر پر بھارت کا تسلط کسی طور منظور نہیں-