199

اسلام 2050 تک دنیا کا سب سے بڑا مذہب بن جائیگا

Spread the love

نیویارک(جے ٹی این آن لائن) دنیا بھرمیں مسلمانوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور ماہرین نے امکان ظاہر کیا ہے 2050 ءتک اسلام دنیا کا سب سے بڑا مذہب بن جائے گا۔

اس وقت دنیا بھرمیں سب سے زیادہ تعداد عیسائیوں کی ہے لیکن مسلمانوں میں شرح پیدائش اور شرح اموات میں واضح فرق کی وجہ سے اسلام دنیا کا سب سے بڑا مذہب بن جائے گا۔

ورلڈ ریلیجن ڈیٹا بیس کے مطابق 1910 سے 2010 کے درمیان اسلام سب سے تیزی سے پھیلنے والا مذہب ہے جبکہ اس کے بعد سب سے تیزی سے ملحد (کسی بھی مذہب کونہ ماننے والے) لوگوں کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔

1910 میں دنیا کی مجموعی آبادی کا 34 اعشاریہ 8 فیصد عیسائی جبکہ 12 اعشاریہ 6 فیصد مسلمان تھے لیکن 2010 میں عیسائیوں کی آبادی کم ہو کر 32 اعشاریہ 8 فیصد جبکہ مسلمانوں کی آبادی بڑھ کر 22 اعشاریہ 5 فیصد ہوگئی۔

پیو ریسرچ سنٹر کے مطابق 2010 سے 2015 کے دوران مسلمانوں کے ہاں 21 کروڑ 30 لاکھ بچے پیدا ہوئے جبکہ اس دوران صرف 6 کروڑ 10 لاکھ مسلمانوں کا انتقال ہوا۔ عیسائیوں کے ہاں ان پانچ سالوں کے دوران 22 کروڑ 30 لاکھ بچے پیدا ہوئے لیکن 10 کروڑ 70 لاکھ لوگ انتقال کرگئے۔

رپورٹ کے مطابق 2050 تک خاص طورپریورپ میں مسلمانوں کی آبادی بڑھ کر10 فیصد سے زیادہ ہوجائے گی۔اس وقت دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادی کا ملک انڈونیشیا ہے لیکن 2050 تک بھارت مسلم آبادی کا حامل سب سے بڑا ملک بن جائے گا۔ جبکہ بھارت اس وقت مسلم آبادی کا دوسرا بڑا ملک ہے۔