381

سال 2019ء اور سابق صدر آصف زرداری

Spread the love

(تحریر:…عباس تبسم )

دسمبر کا مہینہ ہمیشہ سے ستمگر کے نام سے مشہور ہے، مگر اس برس کا

دسمبر نہ صرف نواز شریف اور آصف علی زرداری کےلئے مشکل بنا، بلکہ

شاید دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کےلئے ایک اور

امتحان ثابت ہوا۔ ہر طرف اس بات کے چرچے ہیں کہ نیا سال آصف علی زرداری

اور نواز شریف کےلئے جیل جانے کا سال ہو گا یا آزادی کا۔ احتساب عدالت میں

نواز شریف کےخلاف العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسزمیں 24دسمبر کو فیصلہ

سنا دی اگیا اور نواز شریف کو 7 سال قید،پونے 4 ارب جرمانے کی سزا سنادی

گئی ہے جبکہ دوسری طرف جعلی اکاﺅنٹس اور اربوں روپے کی منی لانڈرنگ

کے سلسلے میں بننے والی جی آئی ٹی نے اپنی رپورٹ مکمل کر کے سپریم

کورٹ میں جمع کرا دی ہے، جس کے ذریعے نہ صرف آصف علی زرداری بلکہ

بلاول بھٹو کےخلاف بھی شکنجہ تیار کیا جا رہا ہے۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس

میاں ثا قب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بنچ نے24دسمبر کو ہی جعلی

اکاﺅنٹس کیس کی سماعت کی اور رپورٹ کی روشنی میں حکم دیا کہ بحریہ ٹا ﺅ

ن میں آصف علی زرداری ، اومنی گروپ کی تمام موجود جائیدادیں اور ان کے

اکاﺅنٹس منجمند کر دیئے جائیں ۔ایف آئی اے کے ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ

کی طرف سے رپورٹ کی تیاری کےلئے ڈیڈ لائن دیئے جانے کے بعد ایف آئی

اے کی 40فیصد نفری اسی رپورٹ کی تیا ر ی میں لگی رہی، جس میں پشاور،

کراچی، لاہور سمیت تمام زونز کے افسران شامل تھے۔ سٹیٹ بینک اور ایس ای

سی پی کے افسران بھی ا نکی معاونت کرتے رہے۔قبل ازیں آصف علی زرداری

نے جے آئی ٹی کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرایا جبکہ بلاول بھٹو نے اپنا

تحریری بیان جمع کروایا۔

حکومت اور عدالت کے رویئے کو دیکھتے ہوئے ایک عرصے سے خاموش اور

اسٹیبلشمنٹ کےلئے نرم رویہ اختیار کرنےوالے آصف علی زرداری نے زبان

کھولی تو ایسی کھولی کہ حکومت اور عدالت دونوں کو آڑے ہاتھوں لیا۔ آصف

علی زرداری سندھ کی حد تک تو کافی عرصے سے سرگرم ہیں اور تقریبات میں

شریک ہو رہے تھے،مگر اب اچانک انہوں نے سندھ میں پیپلزپارٹی کو متحرک

کرتے ہوئے جلسے شروع کر دیئے ہیں، جو اہم قوتوں کو براہِ راست پیغام ہے کہ

کسی گرفتاری کی صورت میں پیپلزپارٹی اپنے تمام ہتھیار استعمال کرے گی، آرام

سے نہیں بیٹھے گی ۔ آ صف علی زرداری نے پیپلز پارٹی کے رہنماﺅں کو بھی بتا

دیا نئے سال سے قبل ان کو گرفتار کیا جا سکتا ہے،جس پر پارٹی نے ایسی

صورت میں آ صف علی زرداری کی طرف سے گرفتاری دینے کا فیصلہ کیا تاہم

یہ گرفتاری سندھ اور خصوصی طور پر گڑھی خدا بخش سے دی جائےگی۔

کل27 دسمبر کو سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو کی برسی ہے اور آصف علی

زرداری اس برسی پر نہ صرف طاقت کا بھرپور مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں ،بلکہ

گڑھی خدا بخش میں وہ کوئی اہم اعلان بھی کر سکتے ہیں۔ 27 دسمبر کے بعد

آصف علی زرداری سندھ سے باہر دوسرے صوبوں میں بھی پار ٹی کو متحرک

کرنے کا پروگرام بنائے ہوئے ہیں، ساتھ ساتھ قومی اسمبلی میں حکومتی اتحاد

میںدراڑیں ڈالنے کی وہ بھرپور کوشش کر رہے ہیں اس سلسلے میں بی این پی

(مینگل) کے سربراہ اختر مینگل سے ان کی ملاقات ہو چکی ہے، جو پہلے

حکومت کی طرف سے لاپتہ افراد کے سلسلے میں کئے گئے وعدے پورے نہ

کرنے پر حکومت سے نالاں ہیں۔ آصف علی زرداری اگر بی این پی کےساتھ ساتھ

ایم کیو ایم یا کسی اور ایک پار ٹی کو حکومت سے الگ کر لیتے ہیں تو وہ

حکومت کو دباﺅ میں لانے کی پوزیشن میں آ سکتے ہیں۔ تاہم حکومت اسٹیبلشمنٹ

جب تک ایک صفحے پر ہیں، ایسا ہونا مشکل نظر آ رہا ہے۔

دوسری طرف آصف علی زرداری قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز

شریف سے بھی ملاقات کر چکے ہیں، گزشتہ چند دِنوں سے آ صف علی زرداری

کا لہجہ اتنا جارحانہ ہو چکا ہے کہ ان کی اپنی پارٹی کے رہنما بھی حیران ہیں،

مگر آصف علی زرداری زیرک ترین سیاستدان ہیں اور مطلب کے بغیر کچھ بھی

نہیں بولتے۔ یوں لگتا ہے اس چوہے بلی کے کھیل سے آصف علی زرداری بھی

تنگ آ چکے ہیں،کیونکہ ان کےخلاف شکنجہ مسلسل تنگ کیا جا رہا ہے۔ قرائن

یہی بتا رہے ہیں 2019ءکا سال آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور

کےلئے اچھا نہیں ہو گا اور آصف علی زرداری کو بھی اس بات کا اندازہ ہو گیا

ہے اِسلئے وہ بھی کھل کر میدان میں آ گئے ہیں۔ آصف علی زرداری بھانپ گئے

ہیں جے آئی ٹی کی رپورٹ میں سارا ملبہ ان پر فریال تالپور اور کچھ ان کے

بیٹے بلاول بھٹو زرداری پر گرے گا۔اس کیس میں32 افراد کےخلاف تحقیقا ت ہو

رہی ہیں،جن میں آصف علی زرداری اور فریال تالپور بھی شامل ہیں،اس کیس میں

اومنی گروپ کے انور مجید اور ان کے بیٹے اے جی مجید گرفتار ہیں۔اومنی

گروپ کے جدہ سے گرفتار کئے جانےوالے چیف فنانشل افسر اسلم مسعود نے

اپنے ویڈیو پیغام میں چشم کشا انکشافات کئے ہیں اور اومنی گروپ کے اشاروں

پر کھولے گئے درجنوں اکاﺅنٹس کا کچا چٹھہ کھول کر رکھ دیا ہے۔ جے آئی ٹی

نے اپنی رپورٹ میں انکشا ف کیا ہے سندھ میں رشوت ستانی سے موصول

ہونےوالی رقوم ایک مربوط سسٹم کے ذریعے کس طرح بے نامی اکاﺅنٹس میں

پہنچتی تھیں اور وہا ں سے اومنی گروپ کے کاروبار میں اثاثوں میں شامل ہو

جاتی تھیں۔ اے جی مجید ان رقوم کو ہنڈی اور حوالہ کے ذریعے دبئی منتقل کرتا

رہا، جس سے لندن،کینیڈا، فرانس اور دبئی میں اثاثے بنائے گئے۔ جے آئی ٹی نے

ان اثاثوں کی تفصیلات بھی حاصل کر لی ہیں۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ

سیاسی سرپرستی میں بینکوں سے مشکوک اکاﺅنٹس پر 80 ارب روپے کے

قرضے حاصل کئے گئے،اِن قرضوں پر سود کی ادائیگی رشوت سے حاصل

ہونےوالی رقم سے کی گئی۔اومنی گروپ کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کےلئے

سیاسی دباﺅ استعمال کر کے بینکوں سے قر ضے ری شیڈول کرائے گئے،اس

بات کا بھی انکشاف ہوا ہے اومنی گروپ بلاول ہاﺅس کراچی، اسلام آباد،نوڈیرو

اور نواب شاہ کےلئے ایک کروڑ 30لاکھ روپے ماہانہ کی ادائیگی کرتا تھا،بچوں

کی سالگرہ کے کیک تک ان کے اکاﺅنٹس سے خریدے گئے،اس سلسلے میں

ماڈل ایان علی کا بھی دلچسپ کردار سامنے آیا ہے۔تحقیقات کے مطابق جعلی

بینک اکاﺅنٹس میں سے ایک اکاﺅنٹ زرداری گروپ کا ہے اِسی سے ایان علی کو

ادائیگی کی گئی۔ گزشتہ ماہ ایان علی نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے ایک ویڈیو شیئر

کی تھی، جس میں انہوں نے بتایا ایئر پورٹ پر گرفتاری کے وقت ان کےساتھ

آصف علی زرداری کے پرسنل اسسٹنٹ مشتاق احمد اور رحمن ملک کے بھائی

بھی تھے،مگر انہیں گرفتار نہیں کیا گیا۔آصف علی زرداری جب2008ءمیں صدر

بنے تھے تو مشتاق احمد نے ایوانِ صدر میں نوکری حاصل کی تھی اور وہ

گریڈ12 میں اسٹینو گرافر کی حیثیت سے ایوانِ صدر میں داخل ہوئے تھے، پھر

اسے گریڈ 16 میں ترقی دےدی گئی اس کے بعد وہ آصف علی زرداری کےساتھ

منسلک رہے۔

بینکنگ کورٹ آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی عبوری ضمانت میں تین

بار توسیع کر چکی ہے۔ اگر اس بار ان کی ضمانت میں توسیع نہ ہوئی تو اس بات

کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ انہیں گرفتار کر لیا جائے۔بعض ذرائع نے اس بات کا

بھی انکشاف کیا ہے کہ آصف علی زرداری کے دست ِ راست انور مجید اور

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا ایک عرصے سے قریبی تعلق ہے جیسے

سندھ میں اومنی گروپ کا کاروباری حجم بڑ ھا ۔ سندھ حکومت کا اومنی گروپ

سے تعلق بھی مضبوط ہوتا گیا اور آج تک وزیراعلیٰ سندھ اور اومنی گروپ نے

ایک دوسرے کا ہاتھ تھام رکھا ہے۔ مارچ2008ءمیں پیپلزپارٹی کی حکومت آنے

سے قبل اومنی گروپ کی صرف ایک شوگر مل اور دو کمپنیاں تھیں اب اومنی

گروپ کی 91 کمپنیاں، صنعتیں، فیکٹریاں اور اثاثے ہیں اور اس میں سے95فیصد

اثاثے گزشتہ گیارہ برسوں کی پیداوار ہیں۔ مراد علی شاہ 2008ءمیں صرف ریونیو

کے وزیر تھے،2010ءمیں ان کو سندھ حکومت کے سات محکمے مل گئے، جن

میں خزانہ، آبپاشی، توانائی، بورڈ آف انویسٹمنٹ، کول مائننگ اور محکمہ منصوبہ

بندی، ترقی شامل ہیں، اس سب کے پیچھے اومنی گروپ کا ہی جادو تھا۔ یہ سلسلہ

2008ء میں شروع ہوا،جب دادو اور ٹھٹھہ کی سرکاری شوگر ملیں صرف 22

کروڑ میں اومنی گروپ کو دے دی گئیں۔ اس وقت سندھ کی 35شوگر ملوں میں

سے آدھی اومنی گروپ کا اثاثہ ہیں اور اومنی گروپ سندھ کا شوگر کنگ ہے۔

گزشتہ گیارہ سال میں11ارب روپے کی سبسڈی دی گئی، جس میں سے بیشتر رقم

اومنی گروپ کو گئی۔ اس وقت نیب نے وزیراعلیٰ سندھ کے خلاف چار کیسوں

میں تحقیقات شروع کر رکھی ہیں، جو مراد علی شاہ کو بھی مشکل میں ڈال سکتی

ہیں۔