41

چیف الیکشن کمشنر ، سندھ، بلوچستان کے ارکان کا تقرر،وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈ ر نے نام تجویز کر دیئے

Spread the love

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ) وزیراعظم عمران خان نے الیکشن کمیشن ممبران کی تعیناتی کیلئے تین تین

نام تجویز کردئیے ہیں ، چیئرمین سینیٹ اورسپیکرقومی اسمبلی کے نام لکھے جانے والے خط میں

بلوچستان اور سندھ کیلئے نام تجویز کئے گئے ہیں ۔وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے چیرمین

سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کے نام لکھے جانے والے خط میں بتایا گیا ہے کہ آپ کی جانب سے

الیکشن کمیشن کے ممبران کی تعیناتی کے حوالے سے 5نومبر کو لکھے جانے والے خط اور اسلام

آباد ہائی کورٹ میں دائر رٹ پٹیشن پر معزز عدالت کے احکامات کی روشنی میں سندھ اور بلوچستان

کیلئے الیکشن کمیشن کے تین تین ممبران کے نام تجویز کئے گئے ہیںوزیر اعظم نے سندھ کیلئے

جسٹس ریٹائرڈ صادق بھٹی، جسٹس ریٹائرڈ نورالحق قریشی اورعبدالجبارقریشی کے نام تجویزکئے

ہیں جبکہ بلوچستان کیلئے ڈاکٹرفیض محمد کاکٹر، میرنوید جان بلوچ اورامان اللہ بلوچ کے نام

تجویزکیے گئے ہیں ۔ دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف

میاںشہبازشریف نے وزیراعظم عمران خان سپیکر قومی اسمبلی اور چیرمین سینیٹ کو کو خطوط لکھ

کر چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کیلئے تین نام بھجوا دئیے ، ،شہبازشریف نے ناصر محمود کھوسہ،

جلیل عباس جیلانی اور اخلاق احمد تارڑ کے نام تجویز کئے ہیں جبکہ سندھ اور بلوچستان کے ارکان

کیلئے بھی تین تین نام تجویز کر دیئے ہیں ۔ سندھ کے لئے نثار درانی، جسٹس (ر) عبدالرسول میمن

اور اورنگزیب حق کے نام جبکہ بلوچستان سے شاہ محمود جتوئی، محمد روف عطاء اور راحیلہ

درانی کے نام شامل ہیں۔ ۔ شہباز شریف کی جانب سے لکھے گئے خطوط کے متن میں کہا گیا ہے کہ

میری دانست میں یہ ممتاز شخصیات اس منصب کے لئے نہایت مناسب اور اہل ہیں،بغیر کسی مزید

تاخیر کے چیف الیکشن کمشنر کا تقرر کرنے کے یہ تین نام زیر غور لائیں۔ شہبازشریف نے کہا ہے

کہ اس امید کے ساتھ آپ کو تین نام بھجوارہا ہوں کہ آپ کی طرف سے جلد جواب ملے گا۔ شہباز

شریف نے کہا ہے کہ 6 دسمبر کو چیف الیکشن کمشنر کی پانچ سال کی آئینی مدت مکمل ہورہی

ہے،الیکشن کمشن کے دو ارکان کے مناصب بھی تاحال خالی ہیں،الیکشن ایکٹ2017 کے سیکشن تین

کے تحت الیکشن کمشن کا بینچ کم ازکم تین ارکان پر مشتمل ہونا چاہیے ،چیف الیکشن کمشنر، ایک یا

ایک سے زائد ارکان کا تقرر نہ ہوا توالیکشن کمشن غیرفعال ہوجائے گا۔ شہبازشریف نے اپنے خط

کے متن میں مزید کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل213 ٹواے کا تقاضا ہے کہ وزیراعظم قائد حزب اختلاف

سے مشاورت کریں،وزیراعظم قائد حزب اختلاف کی مشاورت سے پارلیمانی کمیٹی کو چیف الیکشن

کمشنر کی تقرری یا سماعت کے لئے نام بھجواتا ہے،میری دانست میں آئین کے تحت آپ کو مشاورت

کا یہ عمل بہت عرصہ قبل شروع کرنا چاہیے تھا،الیکشن کمشن جیسے آئینی ادارے کو غیرفعال

ہونے بچانے کی کوشش میں دوبارہ مشاورت کا عمل شروع کررہا ہوں،مجھے امید ہے کہ ان افرادکی

اہلیت کی آپ پذیرائی کریں گے اور قانون کے مطابق فوری زیرغور لائیں گے۔ شہباز شریف نے مزید

کہا کہ مزید وضاحت یا معلومات درکار ہوں تو آپ کو فراہم کردی جائیں گی۔ بلوچستان اور سندھ سے

الیکشن کمشن کے ارکان کی تقرری کے لئے اتفاق رائے پر مبنی مشاورت بھی ضروری ہے،مشاورت

کے لئے عدالت عظمی نے اپنے متعدد فیصلوں کے ذریعے رہنمائی مہیا کردی ہے۔ قائد حزب اختلاف

نے دوصفحات پر مشتمل اپنے خط میں عدالت عظمی کے نظائر کی تفصیل بھی درج کی ہے جس میں

کہا گیاہے کہ میرے عقلی ومنطقی استدلال کے باوجودبدقسمتی سے ہماری مشاورت میں کمشن کے

ارکان بارے اتفاق رائے نہ ہونے سے تعطل پیدا ہوا،میں آپ پر زوردیتا ہوں کہ اتفاق رائے پیدا کرنے

کے لئے اس مرتبہ مخلصانہ اور سنجیدہ کوشش کریں۔ شہباز شریف نے وزیراعظم عمران خان پر

معاملے میں فوری کارروائی کے لئے زوردیا ہے۔