Imran Khan Prim minister Pakistan 61

نئے پاکستان میں پرانے مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنا ہے، سرکاری افسر کسی کا بھی ناجائز کام نہ کریں ، عمران خان

Spread the love

لاہور(سٹاف رپورٹر) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم نے نئے پاکستان میں پرانے مائنڈ سیٹ

کو تبدیل کرنا ہے اور اب ملک میں پرانا نظام نہیں چل سکتا۔لاہور میں وزیراعظم عمران خان کی

زیرصدارت پنجاب کی بیوروکریسی اور پولیس کے سینئر افسران کا اجلاس ہوا جس میں وزیر اعلیٰ

پنجاب عثمان بزدار، چیف سیکریٹری پنجاب اعظم سلیمان اور آئی جی پولیس پنجاب شعیب دستگیر

سمیت فردوس عاشق اعوان، ذوالفقار بخاری اور بیرسٹر شہزاد اکبرنے بھی شرکت کی۔اجلاس میں

وزیراعظم نے نئی تعیناتیوں پر افسران کو مبارکباد دی اور کہا کہ بیوروکریسی اور دیگر عہدوں پر

تعیناتیاں میرٹ پر کی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی کے لیے ایک قابل بیوروکریسی کا بہت

اہم کردار ہے، ملک میں معیشت مستحکم ہو رہی ہے جس کے لیے اپنی معاشی ٹیم کو مبارکباد دیتا

ہوں۔وزیر اعظم نے پنجاب میں تھانہ کلچر کی تبدیلی کے لئے سفارشات کو حتمی شکل دینے کی ہدایت

کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی جان ومال کے تحفظ کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے،

1960 کی دہائی میں پاکستان کی گورننس، بیوروکریسی اور پالیسیوں کی مثالیں دی جاتی

تھیںوزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم نے نئے پاکستان میں پرانے مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنا ہے اور ملک میں

پرانا نظام اب نہیں چل سکتا۔دوران اجلاس وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ ہم نے اپنے دور

حکومت میں افسران کو ہر قسم کے سیاسی دباؤ سے آزاد کیا ہے، اس لیے سب افسران کو ہدایت کرتا

ہوں کہ آپ نے سب کام میرٹ پر کرنے ہیں اور کسی سیاسی شخصیت یا کسی اور کا کوئی بھی ناجائز

کام ہر گز نہ کریں، ہم افسران کی مدت ملازمت کو تحفظ فراہم کریں گے۔وزیراعظم نے وزراء

اور دیگر افسران کو ہدایت کی کہ عوام کی خدمت کرنا آپ کا اولین فرض ہے، غریب آدمی کی زندگی

میں بہتری لانے کے لیے کوشش کریں، بچوں کے خلاف جرائم کی روک تھام پر خصوصی توجہ دیں

کیونکہ آپ کا کام کمزور کو طاقتور کے خلاف تحفظ فراہم کرنا ہے۔اس موقع پر وزیراعظم نے سب

کو سختی سے تاکید کی کہ طاقت صرف عوام کی خدمت اور ان کی زندگیوں میں بہتری لانے کے

لیے استعمال کی جائے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں امن وامان اور گورننس کے نظام میں

بہتری لانے کی کوشش کی جائے، پہلے تھانوں میں طاقتور کو تحفظ فراہم کیا جاتا تھا مگر اب آپ کی

ذمہ داری ہے کہ غریب کو طاقتور کے خلاف تحفظ فراہم کریں، دریں اثناوزیراعظم عمران خان نے

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو اپنے اچھے کاموں کی تشہیر کا مشورہ دے دیا۔لاہور میں کسانوں کو

زرعی قرضوں کی فراہمی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے وزیراعلی پنجاب کو مخاطب

کرکے کہا کہ ‘میں آپ کو اچھے اقدامات اٹھانے پر داد دیتا ہوں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان کے بارے میں

کسی کو معلوم نہیں ہوتا، اس لیے اپنے کاموں کی تھوڑی تشہیر کردیا کریں۔انہوں نے کہا کہ

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے اقدامات مستقبل میں نوجوانوں کے لیے خوش آئند ثابت ہوں گے۔

انہوں نے کہا ہے کہ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی اور پرائیوٹ کمرشل بینکوں کے درمیان معاہدے کے

بعد کسان بینک سے اپنی زمینوں کی تصدیق کے بعد باآسانی قرضہ حاصل کرسکیں گے۔انہوں نے کہا

کہ معاہدے سے زرعی شعبے کو فائدہ پہنچے گا اور ملکی معیشت بہتر ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ مذہب

معاشرے میں امیر و غریب میں فرق نہیں کرتا اور فلاحی معاشرے میں کم آمدن والے طبقات کو اوپر

اٹھاتا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کم آمدن والے طبقات کی فلاح نبی کریمؐ کی سنت ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ہمارے ملک میں اسمال اور میڈیم سطح کی صنعتوں کو بھی قرضہ لینے میں

شدید مشکلات کا سامنا ہوتا ہے لیکن زرعی قرضوں کی فراہمی پہلا مرحلہ ہے اور اس ضمن میں

مزید پیش رفت ہوگی۔علاوہ ازیں احساس پروگرام سے متعلق انہوں نے کہا کہ اس مشکل وقت میں

غربت مٹاو پروگرام کے لیے 200 ارب روپے لے کررہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ احساس پروگرام کے

ذریعے تمام سرکاری اور غیر سرکاری اداروں بشمول بینکوں کو ایک نظام کے تحت لائیں گے اور

اس کے بعد جمع ہونے والی رقم کو ملک کے تمام ضرورت مند افراد کو فراہم کی جائے گی۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اس پروگرام میں شروع کرنے سے قبل ضروری ہے کہ ڈیٹا بیس کو

درس کیا جائے کیونکہ جس ڈیٹا بیس پر پہلے قرضے دیے جارہے تھے وہ نامکمل اور سقم زدہ ہے۔ان

کا کہنا تھا کہ ہمارا 95 فیصد کسان 12 ایکڑ سے کم اراضی کا مالک ہے جسے سب سے زیادہ

قرضے کی ضرورت پڑتی ہے۔انہوں نے کہا ہم نے حکومت کے پہلے سال 10 ارب ڈالر کے قرضے

کی قسط واپس کی جس کی وجہ سے روپے کی قدر پر دباؤ آیا تھا اور ہمارے پاس زرمبادلہ نہیں تھا

کہ روپے کی قدر کو مستحکم کرسکیں۔وزیراعظم نے کہا کہ روپے کی قدر بہتری خوش آئند ہے جس

کے نتیجے میں تجارتی اعتماد بڑھا اور اسٹاک مارکیٹ میں اچھے اشاریے سامنے آرہے ہیں۔