29

آئین میں تو کسی قسم کی ترمیم کی ضرورت نہیں—؟

Spread the love

(تجزیہ:… جتن آن لائن)
چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں قائم

سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو مشروط طور پر 6

ماہ کے لئے بطور چیف آف آرمی سٹاف کام کرنے کی اجازت دیدی ہے،جس کے

بعد انکی ملازمت کا انحصار پارلیمنٹ کی قانون سازی پر ہوگا، اس سلسلے میں

حکومت نے عدالت کو 6 ماہ میں متعلقہ قانون سازی کی یقین دہانی کروائی ہے،

عدالت نے حکم دیا چیف آف آرمی سٹاف کے تقرر کے بارے میں آئین کے آرٹیکل

243 کے سکوپ کے حوالے سے ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے وضاحت کی

جائے۔ کیا عدالتی فیصلے کی روشنی میں آئین میں ترمیم کرنا پڑیگی؟ اگر مقررہ

مدت میں قانون سازی نہ ہوسکی تو کیا جنرل قمر جاوید باجوہ کو گھر جانا پڑیگا؟

وہ کون سے قوانین ہیں جن میں ترمیم کرنا پڑیگی؟ کیا عدالت نے یہ فیصلہ نظریہ

ضرورت کے تحت دیا ہے؟ عدالت میں دوران سماعت آئین کے آرٹیکل 243 کا

مکمل جائزہ لیا گیا جس کے ضمنی آرٹیکل 4 میں کہا گیا ہے صدر وزیراعظم کے

مشورہ پر مسلح افواج کے سربراہوں اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی

کا تقررکرے گا، انکی تنخواہوں اور مراعات کا تعین بھی صدر مملکت وزیراعظم

کی ایڈوائس پر کریں گے-عدالتی فیصلے کی روشنی میں اس آرٹیکل میں ترمیم

کی ضرورت نہیں ، ایک پارلیمانی قانون کے ذریعے آرٹیکل 243کے دائرہ کار

تعین کیا جاسکتاہے ،پارلیمانی قانون کے تحت چیف آف آرمی سٹاف اور مسلح

افواج کے دیگر سربراہوں کی شرائط ملازمت کا تعین کیا جائے گا،عدالت نے یہ

سارامعاملہ پارلیمنٹ اور حکومت پر چھوڑ دیا ہے کہ اس سلسلے میں کیا قانون

سازی ہونی چاہیے،اب یہ پارلیمنٹ پر منحصر ہے کہ وہ چیف آف آرمی سٹاف کی

مدت ملازمت میں توسیع یا دوبارہ تقررکی اجازت دیتی ہے یانہیں،اب جنرل قمر

جاوید باجواہ کی 6ماہ بعد ملازمت کا دارومدار پارلیمنٹ کی قانون سازی پر

ہوگا،قومی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف اور اس کی اتحادی جماعتوں کو

معمولی اکثریت حاصل ہے جبکہ سینیٹ میں حزب اختلاف کے ارکان کی تعداد

حکومت اور اس کے اتحادیوں سے زیادہ ہے- آئین ترمیم ضرورت

آئین کے آرٹیکل 70 کے تحت کسی قانون یا اس میں ترمیم کا مسودہ دونوں میں

سے کسی ایوان میں بھی پیش کیا جاسکتا ہے، اگر دونوں ایوان قانون پاس کرلیں

تو اسے منظوری کے لئے صدر کو بھیج دیاجاتاہے ،دوسرا ایوان اگرپہلے ایوان

سے اتفاق نہیں کرتا تو وہ ترامیم تجویز کرکے پہلے ایوان کو بھیجے گا ،اگر

دوسرے ایوان کی تجویز کردہ ترامیم سے پہلا ایوان اتفاق کرلیتاہے تو بھی قانون

پاس کیا گیا تصور کیاجائے گالیکن اگر دوسرا ایوان پہلے ایوان کے منظور کئے

گئے مسودہ کو مسترد کردیتاہے یا پھر دوسرے ایوان کی ترامیم کی تجاویز کو

پہلاایوان منظور نہیں کرتا تو دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس ہوگا جس میں سادہ

اکثریت سے بل کے منظور یا مستردہونے کا فیصلہ کیا جائیگا۔ موجودہ صورتحال

میں 6 ماہ کے اندر اپنی مرضی کی ترامیم منظور کروانا حکومت کے لئے ایک

مشکل مرحلہ ہوگا- آئین ترمیم ضرورت

حکومت قومی اسمبلی سے چیف آف آرمی سٹاف کے بارے میں قانون منظور

کروابھی لیتی ہے تو اکثریت کے بل بوتے پر حزب اختلاف سینیٹ میں اس کے

لئے مسائل پیدا کرسکتی ہے ،سینیٹ 90روز تک کسی بل کو روک سکتاہے ،آئین

کے آرٹیکل 70(3)کے مطابق اگر 90روز تک سینیٹ قومی اسمبلی کی طرف

سے بھیجے گئے بل کو منظور نہیں کرتا تو وہ مسترد تصور کیا جائے گااور پھر

معاملہ پر غور کے لئے دونوں ایوانوں کامشترکہ اجلاس طلب کیاجائے گا۔یہ بات

دلچسپی سے خالی نہیں کہ اس معاملہ پر قانون سازی کے حوالے سے پارلیمنٹ

کے ارکان پر فلور کراسنگ کی بنیاد پر نااہلی کے آئینی آرٹیکل 63(اے) کا اطلاق

نہیں ہوتا، ارکان پارلیمنٹ اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس بھی اپنا حق رائے

دہی استعمال کرسکتے ہیں،عدالتی فیصلے سے نظر آتاہے کہ پاکستان آرمی ایکٹ

مجریہ 1952ء،پاکستان آرمی ایکٹ رولز مجریہ1954اورآرمی ریگولیشنز

(رولز)مجریہ1998ءمیں ترامیم کرنی ہوںگی لیکن اس بات کا غالب امکان ہے کہ

پارلیمنٹ میں صرف پاکستان آرمی ایکٹ مجریہ1952ءمیں ترمیم کا معاملہ جائے

گا،اگر آرمی ایکٹ میں رولز اور ریگولیشنز بنانے کا اختیار حکومت کو دے

دیاجاتاہے تو انہیں پارلیمنٹ میں ترمیم کے لئے لے جانے کی ضرورت نہیں

ہوگی،پاکستان میں نافذالعمل تقریباًتمام قوانین کے تابع رولز وضع کرنے کا اختیار

انتظامیہ کو دیاگیاہے،پاکستان آرمی ایکٹ مجریہ1952ءمیں بھی رولز وضع کرنے

کا اختیار حکومت کودیاگیاہے۔اگر حکومت 6 ماہ کے اندر اس سلسلے میں قانون

سازی میں ناکام رہتی ہے تو نئے چیف آف آرمی سٹاف کا تقررکرناپڑے گا، اگر

مذکورہ قوانین میں ترمیم کے باجود پارلیمنٹ چیف آف آرمی سٹاف کو توسیع دینے

یا دوبارہ تقررکی منظوری نہیں دیتی تو بھی جنرل قمر جاوید باجوہ کو یہ عہدہ

چھوڑنا پڑے گا کیونکہ سپریم کورٹ نے انہیں محض 6 ماہ کے لئے اس عہدہ پر

برقراررہنے کی اجازت دی ہے- آئین ترمیم ضرورت

یہ بھی پڑھیں : آرمی چیف توسیع معاملہ،عدالتی فیصلہ حکومت کیلئے امتحان

عدالت نے یہ بھی واضح کردیاہے کہ یہ میعاد 28نومبر سے شروع ہوگی،یہ حزب

اختلاف کا بھی امتحان ہوگاکہ وہ اس قانون سازی میں کن بنیادوں پر اپنے

کردارکاتعین کرتی ہے ،بعض حلقوں کی طرف سے کہا جارہاہے کہ جب چیف

آف آرمی سٹاف کے عہدہ کی معیاد میں توسیع یا ان کے دوبارہ تقرر کا قانون ہی

موجود نہیں تو جنرل قمر جاوید باجوہ کو سپریم کورٹ نے 6 ماہ کی مہلت کیوں

دی؟ ناقدین کا کہنا ہے سپریم کورٹ نے”نظریہ ضرورت” کا اطلاق کیا ہے۔ فاضل

بنچ نے اس حوالے سے بتادیاہے کہ انہوںنے یہ حکم جاری کیوں کیاہے، سپریم

کورٹ کا کہناہے کہ چیف آف آرمی سٹاف پربری فوج کی کمان ، نظم وضبط،

ٹریننگ، ایڈمنسٹریشن اوراسے جنگ کےلئے تیارکرنے کی ذمہ داری ہے، وہ

جنرل ہیڈ کوارٹرز کے چیف ایگزیکٹو کے طور پر بھی کام کرتے ہیں،عدالت نے

ان وجوہات کی بنیاد پر قراردیاہے کہ عدالتی تحمل کو بروئے کار لاتے ہوئے یہ

معاملہ پارلیمنٹ اور حکومت پر چھوڑا جانا مناسب ہوگا،عدالت نے جو فیصلہ

دیاہے وہ اس طرح کے نظریہ ضرورت کے تحت نہیںہے ،جس کا تصور جسٹس

منیر کے مولوی تمیزالدین اوردوسو کیس کے حوالے سے ہمارے ذہن میں بن

چکاہے،سپریم کورٹ نے خود کوئی فیصلہ نہیںکیا بلکہ خود کو ایک فیصلہ

کرنے سے روکتے ہوئے معاملہ پارلیمنٹ اور حکومت کو بھجوایاہے۔

آئین ترمیم ضرورت