Halat e Hazra,Current Affair 39

آرمی چیف توسیع معاملہ، عدالتی فیصلہ حکومت کیلئے دوہرا امتحان

Spread the love

(تجزیہ:.. قدرت اللہ چودھری)

چھ فوجی سربراہوں کو توسیع ملی، کبھی قانونی حیثیت کا سوال نہ اُٹھا

حیرت و استعجاب کی بات تو ہے کہ جو معاملہ کم از کم اس وقت حل ہو جانا

چاہئے تھا جب کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان کی پہلی توسیع کا معاملہ پیش آیا

تھا، جنہیں17 جنوری1951ء کو کمانڈرانچیف بنایا گیا پھر اُن کے اس عہدے کی

مدت میں 54ء میں تین سال کی توسیع کی گئی اور 57ء میں دوسری مرتبہ یہ

توسیع 1958ء تک کی گئی، پھر انہوں نے جب بطور صدر اور چیف مارشل لاء

ایڈمنسٹریٹر کُلّی اقتدار سنبھال لیا تو اپنے عہدے کو بالا و بلند کرکے فیلڈ مارشل

بنا دیا، اس عہدے پرفائز رہنے والے وہ واحد کمانڈرانچیف ہیں (جسے اب بلحاظ

عہدہ چیف آف آرمی سٹاف کہا جاتا ہے)- آرمی چیف توسیع معاملہ

دو انگریز جرنیلوں کو جو اعزاز حاصل، وہ کسی اور کو جنرل نہیں

اُن سے پہلے پاکستان آرمی کی کمانڈ دو انگریز افسروں کے سپرد رہی، اس لحاظ

سے اُنہیں جو اعزاز حاصل ہوا وہ کسی دوسرے جرنیل کے حصے میں نہیں آیا،

جب جنرل راحیل شریف، آرمی چیف تھے تو سننے میں آتا تھا اُنہیں فیلڈ مارشل

بنایا جا رہا ہے، لیکن یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا اور وہ اپنے عہدے

کی مدت پوری کرکے ریٹائر ہوگئے اور تھوڑے ہی عرصے بعد سعودی عرب

میں تشکیل پانے والے اس اسلامی فوجی اتحاد کی کمان کرنے لگے، جو عالمی

دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے بنایا گیا تھا، انہوں نے برسرِ عہدہ اپنی مدت

کے خاتمے سے طویل عرصہ پہلے اگرچہ یہ اعلان کر دیا تھا کہ وہ توسیع نہیں

لیں گے اور وقت ِ مقررہ پر ریٹائرمنٹ لے لیں گے، لیکن بعد میں شاید اُن کی

رائے بدل گئی اور وہ توسیع کے بارے میں مثبت خیالات کا اظہار کرنے لگے،

لیکن اُس وقت کے وزیراعظم نے اُنہیں توسیع نہ دی۔ آرمی چیف توسیع معاملہ

جنرل ایوب خان کو دو مرتبہ توسیع کس قانون کے تحت ملی

جنرل ایوب خان کو دو مرتبہ توسیع کس قانون کے تحت ملی، اس کی تفصیل میں

جانے کی کبھی کسی نے ضرورت محسوس نہ کی، کیونکہ اس وقت کے حالات

میں کسی کے پاس اس معاملے کی باریکیوں میں جانے کا وقت نہیں تھا، سیاسی

حکومتیں دباﺅ میں کام کر رہی تھیں اور تھوڑی تھوڑی مدت کے بعد بدل جایا

کرتی تھیں یہاں تک کہ پنڈت نہرو سے ایک جملہ منسوب ہو گیا کہ مَیں اتنی

دھوتیاں نہیں بدلتا جتنی پاکستان میں حکومتیں بدل جاتی ہیں، یہ بات درست تھی یا

غلط،لیکن امرِ واقعہ یہ ہے کہ سیاسی حکومتوں کے یہ ادوار عدم استحکام کی

بڑی عمدہ مثال تھے۔ آرمی چیف توسیع معاملہ

یہ بھی پڑھیں : بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحٌ کی یادگارعیدالاضحیٰ

27 اکتوبر58ء کو جب ایوب خان نے صدر اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کا

منصب سنبھالا تو جنرل ایوب خان کے جانشین جنرل موسیٰ خان کو کمانڈرانچیف

بنائے گئے، پھر اُن کی مدت میں ایوب خان نے توسیع کی۔ جنرل یحییٰ خان 18

ستمبر 1966ء کو کمانڈرانچیف بنے تھے اور پھر انہوں نے خود ہی اپنے عہدے

میں توسیع کر لی، لیکن وہ واحد فوجی سربراہ تھے، جو اپنی توسیع شدہ مدت

پوری نہ کر سکے، اُنہیں صدارتی منصب اور فوج کی سربراہی چھوڑ کر اقتدار

ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے کرنا پڑا، یکم مارچ 1976ء کو ذوالفقار علی بھٹو

نے جنرل ضیاء الحق کو فوج کا سربراہ مقرر کیا، انہوں نے 5 جولائی 1977ء

کو اقتدار سنبھال لیا اور1979ء میں بطور آرمی چیف اپنے عہدہ کی مدت بڑھائی-

مزید پڑھیں : قومی اسمبلی میں اصلاحِ احوال کی امید کم مگر کوشش میں کیا حرج

جنرل پرویز مشرف کو نواز شریف نے اکتوبر1998ء میں آرمی چیف بنایا، جنہوں

نے بطور صدراپنے عہدے کی مدت خود ہی 2001ء میں بڑھالی، وہ اپنی وردی

کو اپنی کھال قرار دیا کرتے تھے، اُنکا کہنا تھا جس طرح انسانی کھال کو جسم

سے نہیں اُتارا جا سکتا اسی طرح وہ فوجی وردی بھی نہیں اتار سکتے، لیکن

بہرحال ایک وقت آیا جب انہوں نے فوج کی سربراہی کا منصب جنرل اشفاق

پرویز کیانی کے سپرد کیا اور کمان کی علامت چھڑی اُنکے حوالے کرتے ہوئے

اُن کی آنکھیں چھلک پڑیں۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو 2010ء میں وزیراعظم

یوسف رضا گیلانی نے توسیع دی، اس لحاظ سے دیکھا جائے تو قیام پاکستان کے

بعد سات فوجی سربراہوں کو وقتاً فوقتاً توسیع ملی- آرمی چیف توسیع معاملہ

پہلی مرتبہ سپریم کورٹ نے آرمی چیف کو ملنے والی توسیع شدہ مدت کم کی

جنرل قمر جاوید باجوہ ساتویں سربراہ ہیں، لیکن اس سے پہلے کبھی یہ سوال نہیں

اُٹھا کہ یہ توسیع کس قانون کے تحت دی جا رہی ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ سپریم

کورٹ میں یہ سوال اُٹھا اور اس کی وجہ حکومت کی یکے بعد دیگرے کی جانے

والی غلطیاں تھیں، کئی ماہ پہلے وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا جنرل قمر

جاوید باجوہ کو توسیع دی جائے گی، بعد میں عملاً ایسا کر دیا گیا۔ سپریم کورٹ

نے یہ نوٹیفکیشن معطل کر دیا اور جمعرات کو فیصلہ سنایا کہ توسیع تین سال کے

لئے نہیں، چھ ماہ کیلئے ہو گی وہ بھی مشروط، فاضل عدالت نے اس سلسلے میں

عدالتی تحمل کا مظاہرہ کیا، حکومت کو وقت دیا وہ اس سلسلے میں قانون سازی

کرلے۔ عدالت میں یہ سوال اٹھایا گیا وزیراعظم نے کس حیثیت میں آرمی چیف کو

توسیع دی جبکہ یہ صدر کا اختیار ہے، مدت کے تعین پر بھی سوال اٹھایا گیا یہ

بھی مسئلہ اٹھا اگر سیکیورٹی صورتِحال کی وجہ سے آرمی چیف کو توسیع دی

گئی تھی تو ایسی صورتِحال سے نمٹنا ایک افسر نہیں، پوری فوج کی ذمہ داری

ہے، اگر یہ وجہ مان لی جائے تو ہر افسر دوبارہ تعیناتی چاہے گا۔

پارلیمینٹ میں حکومت اپوزیشن ورکنگ ریلیشن کا فقدان، قانون سازی مشکل مرحلہ

فاضل عدالت میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ ماضی میں جرنیل توسیع لیتے رہے کسی

نے نہیں پوچھا، اب معاملہ ہمارے پاس آیا ہے تو طے کرینگے، تین دن کی مسلسل

سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے جو فیصلہ کیا ہے اس کے تحت توسیع شدہ مدت

تین سال کی بجائے چھ ماہ ہو گئی ہے، یہ بھی نئی قانون سازی سے مشروط ہے،

جو اس عرصے میں کرنا ہو گی، گویا یہ معاملہ پارلیمینٹ کے سپرد ہو گیا، جہاں

صرف حکومت ہی نہیں اپوزیشن بھی موجود ہے، جہاں دونوں کے درمیان معمول

کے تعلقات کار بھی نہیں ہیں۔ گزشتہ دِنوں ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے صدارتی

آرڈی ننسوں کی دھڑا دھڑ منظور حاصل کی تو مشتعل اپوزیشن نے اُن کیخلاف

تحریک عدم اعتماد پیش کر دی، جو اس شرط پر واپس ہوئی کہ منظور شدہ

آرڈیننس بھی واپس لئے جائیں- اس سیاسی کشیدگی اور ماحول میں نئی قانون

سازی کس طرح ممکن ہو گی اور اپوزیشن حکومت کیساتھ تعاون کِس طرح کرے

گی یہ تو آنیوالے دِنوں میں واضح ہو گا، جہاں پارلیمینٹ کی ذمہ داری بڑھ گئی

ہے، وہاں حکومت کا امتحان بھی شروع ہو گا، تاہم وزیراعظم صورتِحال پر خوش

ہیں، انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو حکومت کی کامیابی اور ”مافیاﺅں“

کی شکست قرار دیا۔

آرمی چیف توسیع معاملہ