32

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں6 ماہ توسیع،پارلیمینٹ قانون سازی کرے، سپریم کورٹ

Spread the love

اسلام آباد (کورٹ رپورٹر) سپریم کورٹ آف پاکستان نے آرمی چیف جنرل قمر

جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں چھ ماہ کی مشروط توسیع دیتے ہوئے کہا ہے کہ

تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ معاملہ پارلیمنٹ پر چھوڑتے ہیں، پارلیمنٹ آئین

کے آرٹیکل 243 کے تحت آرمی چیف کی تقرری سے متعلق قانون سازی

کرے،حکومت نے ایک موقف سے دوسرا موقف اختیار کیا، حکومت عدالت میں

آرٹیکل 243 ون بی پر انحصار کررہی ہے ، عدالت نے آرٹیکل 243 بی کا جائزہ

لیا،عدالت نے قانون سازی کیلئے چھ ماہ کا وقت دیا ہے،آرمی چیف جنرل قمر

جاوید باجوہ نئی قانون سازی تک اپنے عہدے پر فرائض انجام دیں گے،28نومبرکو

عدالت میں پیش کیا جانے والا نوٹی فکیشن 6 ماہ کیلئے ہوگا،عدالت تفصیلی فیصلہ

بعد میں سنائیگی جبکہ دور ان سماعت سپریم کورٹ کے ججز نے کہا ہے کہ

توسیع کے حوالے سے حکومتی سمری میں آرمی چیف کی تنخواہ کا ذکر ہے اور

نہ ہی مراعات کا ہے ،آرمی ایکٹ کا جائزہ لیا تو بھارت اور سی آئی اے کہا گیا

،پارلیمنٹ آرمی ایکٹ کو اپڈیٹ کرے تو نئے رولز بنیں گے،بتایا گیا کہ جنرل کبھی

ریٹائر نہیں ہوتے، اگرجنرل ریٹائر نہیں ہوتے تو پنشن بھی نہیں ہوتی۔ جمعرات کو

عدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس

منصور علی شاہ اور جسٹس مظہر عالم پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے جیورسٹ

فاؤنڈیشن کے وکیل ریاض حنیف راہی کی جانب سے آرمی چیف کی مدت ملازمت

میں توسیع کے خلاف درخواست پر مسلسل تیسرے روز سماعت کی۔حکومت کی

جانب سے اٹارنی جنرل انور منصور خان نے دلائل دے دئیے جبکہ سابق

وزیرقانون فروغ نسیم بھی عدالت میں موجود رہے جبکہ پاکستان بار کونسل کی

جانب سے فروغ نسیم کا بار کونسل کا لائسنس بحال کر دیا۔سماعت کے آغاز میں

ہی سپریم کورٹ نے جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع کا

نوٹیفکیشن طلب کرلیا، سابق فوجی سربراہ جنرل (ر) راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ

کی دستاویز بھی طلب کرلی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ جنرل (ر) کیانی

کی توسیع کس قانونی شق کے تحت کی گئی، ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ جنرل (ر)

پرویز کیانی کی ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں کیا پنشن ملی تھیں؟اس موقع پر سپریم

کورٹ نے 15 منٹ کا وقفہ کرتے ہوئے کہا کہ 15 منٹ میں دونوں چیزیں فراہم

کریں تب تک دیگر کیسز سن لیتے ہیں۔عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس نے اٹارنی

جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سوال یہ بھی ہے آپ نے کہا ہے جنرل کبھی

ریٹائر نہیں ہوتے، اگر آرمی جنرل ریٹائر نہیں ہوتا تو جنرل راحیل شریف کس

رول کے تحت ہوئے؟۔انہوں نے کہا کہ سوال یہ بھی ہے اگر ریٹائر نہیں ہوتے تو

پنشن بھی نہیں ہوتی، جائزہ لیں گے کہ جنرل (ر) کیانی کی توسیع کن بنیادوں پر

ہوئی تھی، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس معاملے پر عدالت کی معاونت کرنا

چاہتا ہوں اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ آپ یہ دستاویزات لے آئیں پھر

آپ کو تسلی سے سن لیں گے مختصر سے وقفے کے بعد سماعت کا دوبارہ آغاز

ہوا چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ سمری میں تو عدالتی کارروائی کا بھی ذکر

کیا گیا ہے، آپ بوجھ خود اٹھائیں ہمارے کندھے کیوں استعمال کرتے ہیں؟، اپنا کام

خود کریں، ہمیں درمیان میں کیوں لاتے ہیں؟۔چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے

کہا کہ عدالت کا نام استعمال کیا گیا تاکہ ہم غلط بھی نہ کہہ سکیں۔ چیف جسٹس نے

ہدایت کی کہ سمری میں سے عدالت کا نام نکالیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ تعیناتی

قانونی ہے یا نہیں وہ جائزہ لیں گے، آج سے تعیناتی 28 نومبر سے کردی۔انہوں

نے ریمارکس دئیے کہ آج تو جنرل باجوہ پہلے ہی آرمی چیف ہیں، جو عہدہ خالی

ہی نہیں اس پر تعیناتی کیسے ہو سکتی ہے؟، لگتا ہے اس بار کافی سوچ بچار کی

گئی ہے، تعیناتی ہوئی ہی آئین کے مطابق ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کی

ایڈوائس والا حصہ سمری سے نکالیں، صدر اگر ہماری ایڈوائس مانگیں تو وہ الگ

بات ہے۔سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین کو بار بار پڑھتے ہیں تو

نئی چیز کھل جاتی ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم تو پہلی بار

پڑھتے ہیں تو کچھ نکل آتا ہے۔عدالت نے کہا کہ سمری نوٹیفکیشن میں عدالت

عظمیٰ کا ذکر نہ کریں، ہمارا ذکر غیر ضروری ہے، سمری میں عدالت کو بھی

بریکٹ میں ڈال دیا گیا،عدالت عظمی کا سمری سے کوئی تعلق نہیں جس پر اٹارنی

جنرل نے کہا کہ عدالت ان الفاظ کو حذف کر دے جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ

آپ تو کہتے ہیں کہ حکومت نے کوئی غلطی نہیں کی۔