32

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع،حکومت آج حل نکالے،ورنہ ہم آئینی ذمہ داری پوری کرینگے،چیف جسٹس

Spread the love

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)سپریم کورٹ آف پاکستان نے آرمی چیف کی مدت

ملازمت میں توسیع کے کیس کی سماعت کے دوران حکومت کو آج جمعرات تک

کوئی حل نکالنے کی مہلت دیتے ہوئے کہا ہے کہ آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی

کی ہے ، نوٹیفکیشن توسیع کا ہے، کسی نے پڑھنے کی زحمت بھی نہیں کی،

وزیراعظم نے سمری اور ایڈوائز تعیناتی کی بھیجی اور نوٹیفکیشن توسیع کا ہو

گیا،اسسٹنٹ کمشنر کو ایسے تعینات نہیں کیا جاتا جیسے آپ آرمی چیف کو تعینات

کر رہے،جائیں دو دن ہیں کچھ کریں، ساری رات اکٹھے ہوئے اور کابینہ کے دو

سیشن ہوئے، ہم نے سوچا تھا اتنے دماغ بیٹھے ہیں، اتنے غور کے بعد یہ چیز لے

کر آئے ہیں ،ہمارے لیے تکلیف کی بات ہے، حل نکال لیںبصورت دیگر ہم نے آئین

کا حلف اٹھایا ہے اور ہم آئینی ڈیوٹی پوری کریں گے جبکہ ججز نے ریمارکس

دیئے ہیں کہ ماضی میں 6 سے 7 جنرل توسیع لیتے رہے ،کسی نے پوچھا تک

نہیں، اب معاملہ ہمارے پاس آیا ہے تو طے کرلیتے ہیں،آرمی چیف کی تعیناتی

وزیراعظم کی صوابدید ہے، اصل مسئلہ آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی کا ہے،

معاملہ انتہائی اہم ہے، آرٹیکل 255 ان لوگوں کیلئے ہے، جو سروس سے نکالے

جاچکے یا ریٹائر ہوچکے ہیں،لیفٹیننٹ جنرل کے علاوہ کہیں بھی مدت کا تعین

نہیں کیا گیا، بعض لیفٹیننٹ جنرلز کو تعیناتی کے بعد 4 سال کی مدت نہیں ملتی ،

آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کی مدت کا ذکر ہی نہیں،حالت جنگ میں آرمی چیف کی

ریٹائرمنٹ میں عارضی تاخیر ہوسکتی، جس میں آپ نے ترمیم کی وہ تو آرمی

چیف سے متعلق ہے ہی نہیں، معاملہ توسیع اور نئی تعیناتی کا ہے، اس کو کیسے

قانونی طور پر ثابت کریں گے؟ہم قانون سمجھنا چاہتے ہیں ہمیں کوئی جلدی نہیں،

یہ قانون کی عدالت ہے یہاں شخصیات معنی نہیں رکھتیں، جو کام قانونی طور پر

درست نہیں اسے کیسے ٹھیک کہہ سکتے ہیں؟،دوبارہ آرمی چیف کی تعیناتی کس

قانون کے تحت ہوگی؟، کیا ریٹائرمنٹ کے بعد ریٹائرڈ جنرل کو دوبارہ آرمی چیف

بنایا جا سکتا ہے؟،بتائیں اچھی کارکردگی والے افسر کو کس قانون کے تحت عہدے

پر برقرار رکھا جاتا ہے؟، فوج کا احترام ہے، فوج کے سربراہ بارے ابہام نہیں ہونا

چاہیے،ملک میں ہیجانی کیفیت نہیں ہونی چاہیے، ہم اس کیس کا فیصلہ کریں گے۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس مظہر

عالم اور جسٹس منصور علی شاہ پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے جیورسٹ فاؤنڈیشن

کے وکیل ریاض حنیف راہی کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔آرمی

چیف کی جانب سے سابق وزیرقانون فروغ نسیم ان کا کیس لڑنے کیلئے عدالت میں

پیش ہوئے جبکہ اٹارنی جنرل انور منصور خان نے حکومتی موقف پیش کیا ۔

گزشتہ روز سپریم کورٹ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت

میں توسیع کا نوٹیفکیشن معطل کرتے ہوئے کیس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید

باجوہ کو خود فریق بناتے ہوئے آرمی چیف، وفاقی حکومت اور وزارت دفاع کو

نوٹس جاری کردئیے تھے۔بدھ کو اس کیس کی دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو چیف

جسٹس نے ریمارکس دیے کہ میڈیا پر غلط چلا کہ ہم نے ازخود نوٹس لیا ہے، میڈیا

کو سمجھ نہیں آئی تھی کہ ہم ریاض حنیف راہی کی درخواست پر ہی سماعت کر

رہے ہیں۔سماعت میں چیف جسٹس نے اس معاملے پر واضح کرتے ہوئے پوچھا کہ

کیا گمشدہ درخواست گزار کا علم ہوا؟ اس پر عدالت میں موجود ریاض حنیف راہی

کو روسٹرم پر بلایا گیا۔روسٹرم پر آنے کے بعد چیف جسٹس نے پوچھا کہ ریاض

راہی صاحب آپ کہاں رہ گئے تھے، گزشتہ روز آپ تشریف نہیں لائے، ہم نے آپ

کی درخواست زندہ رکھی، جس پر ریاض راہی نے کہا کہ مختلف حالات پیدا

ہوگئے ہیں۔اس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ ہم انہی حالات میں آگے بڑھ رہے

ہیں، آپ تشریف رکھیں۔