Imran Khan Prim minister Pakistan 50

وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس،آرمی چیف کی مدت ملازمت کے نو ٹیفکیشن میں خامیوں پر وزیر اعظم کا وزیر قانون پر اظہار برہمی،نئی سمری پرکابینہ کے تمام ارکان کے دستخط

Spread the love

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت ہونے والے

وفاقی کابینہ کے ہنگامی اجلاس میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی

دوبارہ منظوری دے دی گئی ، توسیع کی سمری پر وفاقی کابینہ کے تمام ارکان نے

دستخط کئے ۔ جس کے بعد یہ سمری صدر مملکت کو بھیج دی گئی ۔وفاقی کابینہ

کے ہنگامی اجلاس میں قانونی ٹیم نے وزیراعظم عمران خان کو آرمی چیف کی

مدت ملازمت میں توسیع کے نوٹیفکیشن کو سپریم کورٹ کی طرف سے معطل

کئے جانے کے فیصلے سے متعلق بریفنگ دی وفاقی کابینہ کے اجلاس میں تمام

اراکین نے واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ آرمی چیف کی مدت

ملازمت میں توسیع کا اختیار چیف ایگزیکٹو کے پاس ہے۔اب نئی سمری کو قانون

کے مطابق ٹھیک کیا گیا ہے۔ کابینہ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع

کی تین سال کے لیے متفقہ منظوری دی ۔بعد ازاں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے

وفاقی وزیر شفقت محمود نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں سپریم کورٹ کے فیصلے

کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی تجویز پر صدر کو آرمی چیف کی

مدت ملازمت میں توسیع کا اختیار ہے۔ پہلے بھی صدر نے وزیراعظم کی تجویز

پر آرٹیکل 243 کے تحت آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی منظوری

دی۔شفقت محمود کا کہنا تھا کہ یہ وزیراعظم کا اختیار ہے کہ کیا توسیع دینے کے

حالات ہیں یا نہیں؟ خطے کے اس وقت غیر معمولی حالات ہیں۔ بھارت دریاؤں کا

پانی روکنے کی دھمکی دے رہا ہے۔ پہلی بار بھارت نے بالاکوٹ پر حملہ کرنے

کی کوشش کی، بھارت کا یہ حملہ غیر معمولی صورتحال ہے۔ سرحدوں پر غیر

معمولی حالات کی وجہ سے مدت ملازمت میں توسیع دی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ

آپریشن ردالفساد میں آرمی چیف جنرل باجوہ کا بہت اہم کردار ہے۔ بھارت بار بار

پاکستان کو دھمکیاں دے رہا ہے اور کوئی جھوٹا فلیگ آپریشن کر سکتا ہے۔ اس

نے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگا رکھا ہے۔ ان غیر معمولی حالات کے پیش نظر

مدت ملازمت میں توسیع کا فیصلہ کیا گیا۔ سابق آرمی چیف جنرل کیانی کی بھی

مدت ملازمت میں توسیع کی گئی تھی۔