51

شرح سود13.25 ، مہنگائی12 فیصد برقرار، کرنٹ اکائوبٹ خسارے میں73.5 فیصد کمی

Spread the love

کراچی (سٹاف رپورٹر) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے آئندہ دو ماہ کیلئے مالیاتی

پالیسی کا اعلان کردیا جس کے تحت پالیسی ریٹ کو 13.25 فیصد پر برقرار رکھا

گیا ہے۔مرکزی بینک کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق مہنگائی کی رفتار

اب بھی بلند سطح پر ہے،کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کی

اہم وجہ ہے۔اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ کرنٹ اکانٹ خسارے میں کمی آنا شروع

ہوئی ہے، مالی سال20-2019 میں مہنگائی کی شرح 11 سے 12 فیصد تک رہے

گی۔مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ گذشتہ مانیٹری پالیسی اجلاس میں ہونے والے

فیصلوں کے اچھے اثرات آرہے ہیں، کرنٹ اکانٹ 4 سال بعد اکتوبر 2019 میں

سرپلس رہا، تجارتی خسارے میں کمی بھی بہت اہم ہے۔اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ

آنے والے مہینوں میں مہنگائی کی شرح میں کمی ہوتی دیکھ رہے ہیں، کھانے

پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود مہنگائی کی توقعات مستحکم

رہیں گی۔ مرکزی بینک کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اشیائخورونوش کی قیمتوں

میں اضافہ مہنگائی کا جواز بن رہے ہیں۔ مہنگائی کا زور برقرار ہے۔ جون 2019

کے مقابلے روپیہ 5.6 فیصد مستحکم ہوا۔سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ ادائیگیوں کا

توازن کا بہتر ہونے سے روپے کی قدر کو سہارا ملا۔ رواں مالی سال جاری

کھاتوں کے خسارے میں 73.5 فیصد کمی ہوئی ہے۔ رواں مالی سال ترقی کی شرح

3.5 فیصد متوقع ہے۔زری پالیسی کمیٹی کے مطابق ایک طرف‘مہنگائی بلندی کی

طرف مائل ہے۔ دوسری طرف، غذائی قیمتوں میں ہونے والے اضافے اس بلندی

کے پس پردہ بنیادی اسباب ہیں جو متوقع طور پر عارضی ہیں۔نیز، جاری کھاتے

میں مستحکم بہتری اور مالیاتی دْور اندیشی کے تسلسل کی بنا پر مارکیٹ کے

احساسات بتدریج بہتر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ زری پالیسی کمیٹی نے محسوس کیا

کہ مالی سال 20ء کے لیے اوسط گرانی کاسٹیٹ بینک کا 11 سے 12 فیصد پر

تخمینہ بڑی حد تک برقرار رہا ہے اور موجودہ زری پالیسی کو برقرار رکھنا

مناسب ہے۔اس فیصلے تک پہنچنے کی غرض سے زری پالیسی کمیٹی نے اپنے

گذشتہ اجلاس سے اب تک حقیقی شعبے، بیرونی شعبے اور مالیاتی شعبے میں

ہونے والی اہم پیش رفت پر، اور ان کے نتیجے میں بننے والی زری صورتِ حال

اور مہنگائی کے امکانات پر غور کیا۔زری پالیسی کمیٹی کے گذشتہ اجلاس سے

اب تک تین اہم تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں۔ ، جاری کھاتے میں چار سال کے وقفے کے

بعد اکتوبر 2019ء میں فاضل رقم آئی جو ملک کے بیرونی کھاتوں پر کم ہوتے

ہوئے دباؤ کا ایک واضح اشارہ ہے۔ دوسری، تخمینے کے مطابق حکومت کے

بنیادی توازن میں مالی سال 20ء کی پہلی سہ ماہی کے دوران فاضل رقم درج ہوئی

جو مالی سال 16ء کی دوسری سہ ماہی کے بعد ایسا پہلا موقع ہے۔ اس پیش رفت

کو خسارے کی تسکیک (monetization) کے خاتمے کے پس منظر میں دیکھا

جائے تو مہنگائی کا منظرنامہ معیاری لحاظ سے بہتر ہوا ہے۔ ، اعتمادِ کاروبار کے

تازہ ترین سروے سے معلوم ہوتا ہے کہ کاروباری ادارے مستقبل قریب میں

مہنگائی میں کمی کی توقع کر رہے ہیں، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ غذائی قیمتوں

میں حالیہ اضافوں کے باوجود مہنگائی کی توقعات مستحکم رہیں گی۔ تازہ ترین

اقتصادی اعدادوشمار سے معلوم ہوتا ہے کہ برآمدی نوعیت کے شعبوں اور

درآمدی مسابقت والے شعبوں میں معاشی سرگرمیاں مستحکم ہو رہی ہیں جبکہ

اندرونی نوعیت کے شعبوں میں مسلسل سست روی برقرار ہے۔ وضاحت سے بات

کی جائے تو بڑے پیمانے کی اشیا سازی میں برقی مصنوعات، انجنیئرنگ کے

سازوسامان اور کھاد کے شعبوں میں نمو ہوئی ہے، جبکہ آٹو انڈسٹری‘ غذائی

صنعت، اور تعمیرات سے منسلک فولاد اور سیمنٹ کی صنعتوں میں کمی آئی ہے۔

خریف کی اہم فصلوں کے تازہ ترین پیداواری تخمینوں سے پتہ چلتا ہے کہ زرعی

شعبے کی پیداوار پیش گوئیوں کے مطابق ہی رہے گی تاہم کپاس کی پیداوار ہدف

سے کم رہنے کا امکان ہے۔سٹیٹ بینک نے مالی سال 20ء کے لیے جی ڈی پی کی

نمو کی اپنی پیش گوئی تقریباً 3.5 فیصد پر برقرار رکھی ہے۔بیرونی شعبے میں

مسلسل بہتری ظاہر ہوتی رہی جو حالیہ پالیسی ردوبدل کے مثبت نتائج اور دیگر

عوامل کی عکاسی کرتی ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ کے دوران جاری

کھاتے کا خسارہ 73.5 فیصد کم ہو کر 1.5 ارب ڈالر رہ گیا۔ اس بہتری سے

درآمدات میں قابلِ ذکر کمی، برآمدات میں معقول نمو اور کارکنوں کی ترسیلات

میں مستقلاً اضافے کی عکاسی ہوتی ہے۔ کمزور ہوتی ہوئی بیرونی طلب کے

باوجود برآمدی حجم میں اضافہ ہوا بالخصوص چاول‘ ٹیکسٹائل مصنوعات، چمڑے

کی مصنوعات، اور مچھلی اور گوشت کے معاملے میں۔ بیرونی براہ راست سرمایہ

کاری میں اضافے کی بنا پر سرمایہ اور مالی کھاتہ بھی بہتر ہو گیا ہے، جبکہ

پورٹ فولیو (portfolio) رقوم کی مسلسل آمد سے بھی سرمایہ کاروں کا اعتماد

بحال ہونے کی عکاسی ہوتی ہے۔توازنِ ادائیگی کی سازگار صورتِ حال کی بنا پر

روپے کی قدر میں 5.6 فیصد اضافہ ہوا ہے جو جون 2019ء میں اپنی پست ترین

سطح پر تھی۔ ان سازگار حالات نے اسٹیٹ بینک کو مجموعی ذخائر دوبارہ بڑھانے

اور واجبات کم کرنے کا موقع دیا۔ مالی سال کے آغاز سے 15 نومبر تک مجموعی

ذخائر میں 1.16 ارب ڈالر اضافہ ہوا ہے جبکہ اسٹیٹ بینک اکتوبر کے اختتام تک

بیرونی کرنسی تبدلات/ پیشگی واجبات میں 1.95 ارب ڈالر کمی لایا ہے۔