tipu nuqta e nazer jtnonline 67

فن تعمیرات کا عجوبہ نہر سوئز، عالمی سمندری تجارت اور مصر

Spread the love

مصر نہر سویز.-.-.-.عالمی سطح پر فن تعمیرات کا عجوبہ کہلانے اور دو سمندروں کو جوڑنے والی نہر سوئز کے افتتاح کو 17 نومبر کو ٹھیک ڈیڑھ سو سال ہو گئے-اس نہر کو25 ستمبر 1859ء سے 17 نومبر1869ء کے درمیان میں سوئز کینال کمپنی نے تعمیر کیا تھا، جس کا باقاعدہ افتتاح 17نومبر 1869ء کو ہی ہوا، بحیرہ روم اور بحیرہ احمر نامی دو سمندروں کا ملاپ کرانے والا انسانوں کا تعمیر کردہ 193.3 کلومیٹر (120میل) طویل یہ آبی راستہ دنیا کی سب سے مصروف ترین آبی گزرگاہ ہے- عالمی سمندری تجارت کا 7 فیصد نہر سوئز سے گزرتا ہے۔ شروع میں یہ نہر ’’بلہابائی پاس‘‘ اور ’’گریٹ بٹر لیک‘‘ کے درمیان ایک سنگل لین والا بحری راستہ تھا، جس میں سمندر کا پانی روکنے کیلئے کوئی بھی لاک سسٹم نہیں تھا۔ سوئز نہر بحیرہ روم اور بحراحمر کے راستے شمالی بحر اوقیانوس اور شمالی ہندوستانی سمندروں کے درمیان واٹرکرافٹ کیلئے ایک سیدھاراستہ ہے- جو جنوبی بحراوقیانوس اور جنوبی ہندوستانی سمندروں سے ہٹ کربحیرہ عرب سے لندن تک کے سفر کا فاصلہ کم کرتا ہے۔

1956ء میں اسرائیل کی مدد سے برطانیہ اور فرانس کے نہر سوئز پر قبضے کی وجہ سے عرب اسرائیل جنگ ہوئی

Suez_Canal_drawing_1881Suez Canal Map

اکتوبر 1956ء میں اس دور کے مصری صدر جمال عبدالناصر کے نہر سویزکو ریاستی ملکیت میں لینے کے اعلان پر مصر میں تو بہت زیادہ خوشیاں منائی گئی تھیں، لیکن یورپ میں اس اقدام پر ناامیدی کا اظہار کیا گیا تھا۔ یہ آبی راستہ آج بھی مصر کیلئے آمدنی کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے- مصر کی اپنی اس ریاستی ملکیت سے توقعات مسلسل بڑھتی ہی جا رہی ہیں۔ مصر میں قومیائے جانے سے پہلے اس نہر کی ملکیت زیادہ تر برطانوی فرانسیسی کمپنی سوئز سوسائٹی کے پاس تھی۔ شروع میں برطانیہ اور فرانس نے اس دور کی قاہرہ حکومت کو مذاکرات کے ذریعے اس اقدام سے روکنے کی کوشش کی تھی۔ جب یہ مذاکراتی کوششیں ناکام ہو گئیں، تو برطانیہ اور فرانس نے اسرائیل کی مدد سے مصر کے نہر سویز والے علاقے پر قبضہ کر
لیا تھا، جس کے باعث عرب اسرائیل جنگ شروع ہوئی، جس کے بعد معاملہ ایک تنازع کی صورت میں جب اقوام متحدہ میں پہنچا تو امریکہ اور سابقہ سوویت یونین کے مشترکہ دباؤ کے باعث فرانسیسی، برطانوی اور اسرائیلی دستے اس مصری علاقے سے واپسی پر مجبور ہو گئے تھے۔

بحیرہ روم اور بحیرہ احمر کو ملانیوالا 193 کلومیٹرطویل آبی راستہ، عالمی سمندری تجارت کے 7 فیصد حصہ کا مالک

Building_of_Suez_Canal_Authoritysuez__epa_nocredit

ماہرین کا کہنا ہے نہرسویز مصر کیلئے شروع سے ہی قومی اہمیت کی ایک اہم ترین علامت ہے- قاہرہ اسے اپنی ریاستی پیشرفت کا استعارہ بھی سمجھتا ہے۔ اس کے علاوہ صدر جمال عبدالناصر کی طرف سے اس نہر کو قومیا لینے کے فیصلے کا ایک محرک عرب قوم پسندی بھی تھا۔ نہر سویزکی تعمیر سے قبل بحیرہ روم اور بحیرہ احمر کو جوڑنے والے انسانوں کے تعمیر کردہ کسی آبی راستے کا تصور تو صدیوں پرانا تھا۔ سولہویں صدی میں عثمانی ترکوں نے بھی ایسا سوچا تھا۔ پھر 1798ء میں نپولین بونا پارٹ کے دور میں فرانسیسی ماہرین تعمیرات بھی مصر گئے تھے، جہاں انہوں نے اپنے ابتدائی تعمیراتی تخمینے لگا کر یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ ایسا کوئی بھی منصوبہ حقیقت پسندانہ نہیں ہو گا۔ اس کے بعد برطانوی ماہرین کا تجربہ اور اسکا نتیجہ بھی ایسا ہی رہا تھا۔ منصوبے پر عملی پیشرفت فرڈینانڈ دے لَیسیپ نے کی تھی۔ نہر کی تعمیر کیلئے شروع میں ہزاروں یورپی کارکن وہاں لائے گئے تھے۔ پھر جب وہ بھی کم پڑ گئے، تو اس دور کے مصری حکمران محمد سعید نے 1861ء میں بالائی مصر سے مزید تقریباً 10 ہزار کارکنوں کو زبردستی بلوایا، جنہوں نے اس منصوبے میں مدد کی۔ اس کے ایک سال بعد اس پراجیکٹ پر کام کرنے کیلئے مزید 18 ہزار کارکن بلانا پڑے تھے۔

نہر سویز نے اس دور کے مصر کو بھی بہت زیادہ بدل دیا

Suez Canal view in other angle Suez Canal viewSuez Canal view

نہر سویز کی تعمیر کے منصوبے نے اس دور کے مصر کو بھی بہت زیادہ بدل دیا تھا۔ اس نہر کے کنارے آباد ہونیوالے شہروں میں سے پورٹ سعید ایک ایسا بڑا تجارتی مرکز بن گیا، جس کا رابطہ باقی ماندہ ساری دنیا کے تجارتی نیٹ ورک سے قائم ہو گیا تھا۔ شروع میں اس نہر کو ’’ہائی وے آف دا برٹش ایمپائر‘‘(برطانوی راج کے راستہ) کا نام دیا گیا تھا اور اس کی وجہ سے لندن اور ممبئی کے درمیان سمندری فاصلہ تقریباً 20 ہزار کلومیٹر سے کم ہو کر ساڑھے گیارہ ہزار کلومیٹر رہ گیا تھا۔ اس سے جہاز رانی کی بین الاقوامی صنعت کو بھی بہت توقی ملی تھی۔

نہر کے باقاعدہ افتتاح کے وقت اس دور کے مصری حکمران اسماعیل پاشا کی کہی بات سچ ثابت ہو چکی

Muhammad Ali Pasha of EgyptIsmail Pasha of Egyptjamal abdul nasir of egypt

1870ء میں اس آبی راستے سے 486 بحری جہاز گزرے تھے، جن میں تقریباً 27 ہزار مسافر سوار تھے۔ 1913ء میں ان بحری جہازوں کی تعداد تقریباً 5100 ہو گئی تھی، جس میں سفر کرنیوالے مسافروں کی تعداد بھی تقریباً 235000 ہزار بنتی تھی۔ پاناما کینال 82 کلومیٹر طویل ہے۔ توسیع کے اس منصوبے کے تحت اس آبی گزرگاہ کے مختلف مقامات کو مزید گہرا بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ واٹر نیوی گیشن گیٹس کی تعداد میں اضافہ کر دیا گیا ہے تاکہ زیادہ جہاز بحر الکاہل سے بحر اوقیانوس میں داخل ہو سکیں۔ بحری آمد ورفت کی اس ترقی سے اس نہر کے باقاعدہ افتتاح کے وقت اس دور کے مصری حکمران اسماعیل پاشا کی طرف سے 17 نومبر 1869ء کے روز کہی جانیوالی یہ بات بھی سچ ثابت ہو گئی تھی، ’’میرا ملک اب صرف افریقہ کا حصہ نہیں رہا میں نے اسے یورپ کا حصہ بھی بنا دیا ہے‘‘۔

قاہرہ کو نہر سویزسے گزشتہ مالی سال 6 ارب ڈالر آمدن ہوئی

Suze Canal map

فن تعمیرات کی عجوبہ نہر سویز کو مزید چوڑا کرنے کے منصوبے پر کام 2015ء میں مکمل ہو گیا تھا، جس پر 8.5 ارب ڈالر لاگت آئی، اس کے بعد سے اس آبی راستے کی ٹرانسپورٹ کی اہلیت بھی تقریباً دگنی ہو چکی ہے۔ اس وقت کے مصری صدر عبدالفتح السیسی کا کہنا تھا کہ نئی نہر بن جانے اور بحری جہازوں کی دو طرفہ ٹریفک سے تجارت کو فروغ ملے گا اور روزگار میں اضافہ ہو گا۔ پہلے روزانہ صرف 49 بحری جہاز ہی اس نہر سے گزر سکتے تھے مگر آج یہ تعداد 100 ہو گئی ہے۔ ان جہازوں کی حفاظت کیلئے ہیلی کاپٹرز اور مصری بحریہ کے جہاز گشت کر تے ہیں کیونکہ صدر مرسی کی حکومت کی برطرفی کے بعد سے نہر سوئز کے سینائی جزیرہ نما کے قریب شدت پسند اپنی کارروائیاں کرتے آرہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : مصر کی تاریخ ساز نہر سویز کی 150 ویں سالگرہ، قاہرہ میں منفرد نمائش

اسلامی ملک مصر کیلئے یہ نہر مالیاتی حوالے سے کتنی اہمیت کی حامل ہے، اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ مالی سال 2018-19 میں قاہرہ کو اس سے ہونیوالی آمدنی کا تخمینہ تقریباً 6 ارب ڈالر لگایا گیا تھا، جو بڑھ کر 2023 تک 13.2 ارب ڈالر ہو جائے گا۔ لیکن اگر مصر کی نہر سویز سے وابستہ ریاستی توقعات کو دیکھا جائے تو شمالی افریقہ کی اس ریاست کا خیال یہ ہے کہ وہ آج بھی اس نہر سے اتنا زیادہ فائدہ نہیں اٹھا رہی جتنا ممکن ہے۔

مصر نہر سویز