germany national flag 56

جرمنی میں خواتین اور حادثات کی تصاویر کھنچنا جرم قرار

Spread the love

برلن(جتن آن لائن مانیٹرنگ ڈیسک) جرمنی کی وفاقی کابینہ نے ایک ایسا قانونی بل منظور کر لیا جس میں خفیہ طور پر خواتین کے جسمانی اعضا کی تصاویر کھینچنا جرم قراردیدیا گیا۔ حادثوں میں ہلاک ہونیوالوں کی تصاویر لینا بھی قابل سزا جرم ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں : معجزاتی درخت، گاؤں کا روزگار اور ملازمین کی خدمات کا انوکھا اعتراف

میڈیارپورٹس کے مطابق اپ سکرٹنگ (خواتین کی مرضی کے بغیر اسکرٹ) کپڑوں کے نیچے خفیہ طور پر نازیبا تصاویر کھینچنا اب جرمنی میں قابل سزا جرم ہو گا۔ جرمنی کی وفاقی کابینہ نے وفاقی کابینہ سے منظور کردہ قانونی بل میں اپ سکرٹنگ کیساتھ ساتھ حادثوں میں ہلاک ہونیوالے افراد کی تصاویر کھینچنے کے عمل کو بھی جرم قرار دیا گیا ہے۔ اس عمل کو ربر نیکنگ کہا جاتا ہے۔

اپ سکرٹنگ اور ربر نیکنگ کرنیوالوں کو دو برس قید کی سزا

جرمنی کی وزیر انصاف کرسٹینے لامبریشٹ کا کہنا تھا کہ خواتین کی سکرٹ کے نیچے سے تصاویر کھینچنا توہین آمیز اور خاتون کی نجی زندگی میں بے جا مداخلت ہے۔ انہوں نے حادثوں میں ہلاک ہونیوالے افراد کی تصاویر لیے جانے کے حوالے سے کہا ہمیں ہلاک شدگان کے اہلخانہ کو ان کے مر جانیوالے عزیزوں کی تصویریں پھیلا کر مزید اذیت میں مبتلا نہیں کرنا چاہیے۔ نئے قوانین کے تحت اپ سکرٹنگ اور ربر نیکنگ کرنیوالوں کو دو برس قید کی سزا دی جا سکے گی۔