124

مقبوضہ کشمیرمیں لاک ڈائون برقرار،معمولات زندگی بدستور مفلوج

Spread the love

سرینگر (مانیٹرنگ ڈیسک) مقبوضہ کشمیر میں مسلسل 103 ویں روزبھی غیر

انسانی بھارتی فوجی لاک ڈائون جاری رہنے کے باعث وادی کشمیر اور جموں اور

لداخ کے مسلم اکثریتی علاقوں معمولات زندگی بدستور مفلوج رہے۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مقبوضہ علاقے دفعہ 144 کے تحت سخت پابندیاں

نافذ ہیں۔ اگرچہ زیادہ تر لینڈ لائن ٹیلی فون کام کر رہے ہیں اور پوسٹ پیڈ موبائل

فون کے ذریعے فون کالز کی اجازت ہے تاہم انٹرنیٹ سمیت پری پیڈ موبائل سروس

اور ایس ایم ایس پر مسلسل پابندی کے باعث کشمیریوںکو شدید مشکلات کا سامنا

ہے ۔ وادی میں لوگ مقبوضہ علاقے کی صورتحال کو معمول کے مطابق دکھانے

کی بھارت کی کوشش کے خلاف مزاحمت کے طورپرسول نافرمانی کی تحریک

جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ادھر ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر

میں جلد ہی تلاشی اور محاصرے کی کارروائیوں کے دوران روبوٹ استعمال

کرے گی۔ بھارتی فوج عام لوگوںکی عمارتوںپر دستی بم پھینکنے کیلئے بھی ان

ربورٹس کا استعمال کریگی ۔ بھارتی وزارت دفاع نے کم از کم پچیس برس تک کار

آمد رہنے والے تقریباً 550ربورٹس کی خریداری کا عمل شروع کر دیا ہے

جونگرانی کا کام بھی کریں گے ۔ دریں اثناء برسلز میں قائم ایک ڈس انفارمیشن

واچ ڈاگ نے بھارت کے سفارتی مفادات کیلئے لابنگ کرنے والے تھینک ٹینکس ،

این جی اوز اور جعلی میڈیا گروپوں سمیت غیرفعال کمپنیوں کا گٹھ جوڑ بے نقاب

کیا ہے۔یورپی یونین کے ممالک اور اداروںمیں جھوٹی خبروں اور اطلاعات کے

ذریعے کی جانیوالی منظم کوششوں کو بے نقاب کرنے والی ایک غیر سرکاری

تنظیم ای یو ڈس انفولیب نے 65 ممالک کے 265 ایسے جعلی میڈیا گروپوں کاپتہ

لگایا ہے جویورپی یونین اور اقوام متحدہ میں بھارت کے جغرافیائی سیاسی مفادات

کیلئے کام کررہے ہیں اور مسلسل پاکستان کو نشانہ بنارہے ہیں ۔ اس مہم کا مقصد

بھارت کے 5 اگست کے اقدام کی بین الاقوامی سطح پر حمایت حاصل کرنا ہے ۔

یورپی پارلیمنٹ کے ارکان کے وادی کشمیرکے حالیہ متنازعہ دورے کو بھی غیر

فعال تھینک ٹینکس ، غیر سرکاری تنظیموں اور میڈیا گروپوںکے بین الاقوامی نیٹ

ورک سے منسلک کیا گیا ہے۔ ڈس انفو لیب کی تحقیق میں سامنے آنیوالی غیر

مشکوک نیوز ویب سائیٹ میں ٹائمز آف لاس اینجلس ، ٹائمز آف پرتگال ، نیو دہلی

ٹائمز ، نیویارک جرنل امریکن اور ٹائمز آف نارتھ کوریہ شامل ہیں ۔ کشمیر ی

ماہرین تعلیم اور انسانی حقوق کے کارکنوںکے ایک چار رکنی پینل نے امریکی

ریاست کیلیفورنیا کی سٹین فورڈ یونیورسٹی میں ایک مباحثے کے دوران مقبوضہ

کشمیر میں حالیہ بھارتی اقدامات کو کشمیریوں کا محاصرہ اور 1947سے جاری

بھارتی نوآبادیاتی قبضے کا تسلسل قرار دیا۔ مباحثے کا اہتمام سٹین فورڈ سائوتھ

ایشین سوسائٹی نے کیاتھا جس میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے

کے پانچ اگست کے بھارتی فیصلے، مواصلاتی ذرائع کی معطلی اور مقبوضہ

علاقے میں ہزاروں فوجیوںکی تعیناتی کو زیر بحث لایا گیا۔