44

نواز شریف کانام ای سی ایل سے نکالنے کا معاملہ،شہباز لاہور ہائی کورٹ پہنچ گئے

Spread the love

لاہور(نامہ نگارخصوصی)مسلم لیگ(ن) کے سربراہ میاں شہباز شریف نے اپنے

بھائی میاں محمدنواز شریف کانام ای سی ایل سے نکالنے کے لئے ضمانتی بانڈکی

شرط عائد کرنے کے وفاقی حکومت کے اقدام کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج

کردیا،مسٹر جسٹس علی باقر نجفی اور مسٹر جسٹس سرداراحمد نعیم پر مشتمل

ڈویژن بنچ نے اس سلسلے میں دائر میاںشہباز شریف کی درخواست پروفاقی

حکومت ،وزارت داخلہ اورنیب کو آج 15نومبر کے لئے نوٹس جاری کرتے ہوئے

جواب طلب کرلیا۔فاضل بنچ نے درخواست باقاعدہ سماعت کے لئے بھی منظور

کرلی ہے ،عدالت آج دوپہر 2بجے کیس کی مزید سماعت کرے گی،فاضل بنچ نے

ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق احمد خان سے کہا کہ معاملے کی فوری نوعیت کے

پیس نظر وزارت داخلہ جائیں اور ابھی اپنے دفاتر کھول لیں،اس سے قبل ایڈیشنل

اٹارنی جنرل اشتیاق احمد خان نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ ہمیں جواب داخل

کرانے کے لئے تھوڑی سی مہلت دے دیں،فاضل جج نے میاں شہباز شریف کے

وکیل امجد پرویز ملک سے استفسار کیا کہ یہ درخواست میاں شہباز شریف کی

طرف سے ہے ،میاں نواز شریف کی طرف سے نہیں،کیا آپ کو یقین ہے کہ نواز

شریف بیرون ملک جانا چاہتے ہیں؟ امجد پرویز ملک نے کہا کہ میں اس کیس میں

نواز شریف کے وکالت نامہ پر ٹکٹ لگا کر وہ بھی پیش کر دیتا ہوں، فاقی حکومت

نے شہباز شریف کی درخواست کو سنا ہے اور اسی پر انڈیمنٹی بانڈ (تمسک

تاوان)کی شرط والاآرڈر جاری کیا ہے، فاضل بنچ نے استفسار کیا نیب کی نمائندگی

کون کر رہا ہے؟جس پر پراسیکیوٹر نیب نسیم احمد سنگھیرا نے کہا کہ مجھے ٹیلی

فون پر عدالت میں پیش ہونے کا بتایا گیا ہے، میاں شہباز شریف کے وکیل نے کہا

کہ سرکاری میڈیکل بورڈ اور پرائیویٹ میڈیکل بورڈ دونوں نے میاں نواز شریف

کو علاج کے لئے بیرون ملک لے جانے کی سفارش کی ہے ،جومیڈیکل ٹیسٹ

کروانے ہیں ان کی سہولت پاکستان میں میسر نہیں، وفاقی کابینہ نے نواز شریف

کی طبی رپورٹس مانگی تھیں، کراچی سے آنے والے ڈاکٹر طاہرشمسی بھی

میڈیکل بورڈ کا حصہ ہیں، وفاقی کابینہ نے نوازشریف کانام ای سی ایل سے

نکالنے کے لئے مشروط اجازت دی،ضمانتی بانڈ کی شرط رکھنا بدنیتی ہے ،وفاقی

حکومت نے نواز شریف کو ایک دفعہ کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دی،

عدالت نے امجد پرویز ایڈووکیٹ کو نواز شریف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے

کا آرڈر پڑھنے کا حکم دیا،فاضل بنچ نے پوچھا کہ کیا میاں شہباز شریف کا نام

بھی ای سی ایل میں شامل ہے ؟وکیل نے کہا میاں شہباز شریف کا نام عدالتی حکم

کے بعد نکالا گیاتھا، عدالت نے کہا کہ بادی النظر میں نیب اسلام آباد نے میاں نواز

شریف کا نام ای سی ایل میں شامل کروایا، عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے

پوچھا کہ2018ء میں جو نام شامل کیا گیا وہ نیب لاہور کی سفارش پر ڈالاگیا یا اس

کی سفارش نیب اسلام آباد نے کی تھی ؟ جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ ایسا لگ

رہا ہے کہ نواز شریف کیخلاف لاہور نیب کے پاس کوئی انکوائری زیر التواء

نہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا یہ ریکارڈ دیکھنا پڑے گا، عدالت نے ایڈیشنل

اٹارنی جنرل اشتیاق احمد خان سے کہا کہ حکومت وہاں پر حکم جاری کرنے کی

مجاز ہے ،جہاں پر عدالت کا کوئی حکم موجود نہیں،جب عدالت کا حکم موجود ہو

تو کیا حکومت ای سی ایل سے نام نکالنے کے لئے شرائط عائد کرسکتی ہے ؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہامیں رپورٹ اور شق وار جواب داخل کر دیتا ہوں،

پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لئے بھی وفاقی حکومت نے

اپنااختیار استعمال کیا،فاضل بنچ نے شہباز شریف کے وکیل سے پوچھا کہ اگر نیب

اسلام آباد کی ہدایت پر نواز شریف کا نام ای سی ایل میں شامل کیا گیاہے تو کیا آپ

سمجھتے ہیں کہ نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا دائرہ اختیار لاہور

ہائیکورٹ کوحاصل ہے ؟ امجد پرویز ملک نے جواب دیا کہ لاہورہائی کورٹ کو

اس کیس کی سماعت کا مکمل اختیار حاصل ہے ،نواز شریف کا نام ای سی ایل میں

شامل کرنے کے قانون کواعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کی روشنی میںچیلنج کیا

ہے،عدالت نے پوچھا یہ آئین کے کون سے آرٹیکل کی خلاف ورزی ہے؟ وکیل نے

کہا آئین کے آرٹیکل 15 کے تحت کسی بھی شہری کو آزادی کے ساتھ پاکستان میں

رہنے اور باہر جانے کی اجازت ہے، عدالتوں نے نواز شریف کو ضمانت حاصل

کرنے کے بعد رہا کرنے کا حکم دیا ، اگر نواز شریف عدالتی حکم پر عملدرآمد

نہیں کرتے تو عدالت اپنا دائرہ اختیار استعمال کرے گی اورقانون اپنا راستہ بنائے

گا،حکومت کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ، حکومت کہاں سے آ گئی؟ عدالت

نے پوچھاکہ کیاایگزٹ کنٹرول لسٹ آرڈیننس وفاقی حکومت کو اختیار دیتا ہے کہ

وہ نواز شریف کو ایک دفعہ بیرون ملک جانے کی اجازت دے اورانڈیمنٹی بانڈ کی

شرط لگائے ؟شہباز شریف کے وکیل نے کہا احتساب عدالت کی طرف سے سزا

کاحکم معطل ہوچکاہے ،جسٹس علی باقرنجفی نے کہا میرے خیال میں قید کی سزا

معطل ہوئی ہے جرمانہ معطل نہیں ہوا، ایڈیشنل ڈپٹی اٹارنی جنرل اشتیاق احمد خان

نے بھی کہا کہ نواز شریف کی سزا معطل ہوئی ہے جرمانہ اورجرم معطل نہیں

ہوا، فاضل جج نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے کہا کہ آپ حکومت کے اس آرڈر

کاکیسے دفاع کریں گے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا حکومت نے درخواست گزار

کو پورا موقع فراہم کیا ،عدالت نے پوچھا کہ ای سی ایل سے ایک دفعہ نام نکالنے

اور ضمانتی بانڈ دینے کا حکم کیا راضی نامے کی بنیاد پر جاری کیا گیا،ایڈیشنل

اٹارنی جنرل نے کہا میں ریکارڈ دیکھے بغیر نہیں بتا سکتا، میاں شہباز شریف

کے وکیل نے کہا کہ ہم نے تو حکومت کے حکم نامے کو چیلنج کیا ہے ،ایڈیشنل

اٹارنی جنرل نے کہا کہ نواز شریف کو العزیزیہ کیس میں اسلام آباد کی احتساب

عدالت نے سزاسنائی تھی ،اس لئے یہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ سے متعلقہ ہے

،عدالتی فیصلے موجودہیں کہ جہاں سزا ہوئی ہے،اسی علاقائی دائرہ اختیار کی

حامل عدالت میں ہی درخواست دائر کی جاسکتی ہے.