world-diabetes-day-14-11-2019-jtnonline 58

شوگر کا عالمی دن 14 نومبر سے ہی کیوں منسوب کیوں- – – – – ؟

Spread the love

لاہور(جتن آن لائن خصوصی رپورٹ) شوگر کا عالمی دن

14 نومبر کو پوری دنیا میں شوگر کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ 1991 سے شروع ہوا اور امسال آج بروز جمعرات 14 نومبر 2019 کو  اٹھائیسواں سالانہ شوگر کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔1991 میں اس کا آغاز انٹرنیشنل ڈایابیٹیز فیڈریشن (IDF) اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے تحت کیا گیا اور اس وقت تقریبا دنیا کے 130 سے زائد ممالک میں یہ دن منایا جاتا ہے۔

شوگر کا عالمی دن 14 نومبر سے ہی کیوں منسوب؟ جہاں یہ ایک دلچسپ سوال وہیں جواب بھی نہایت دلچسپ ہے

دراصل 14 نومبر فریڈرک بینٹنگ( Fradrick Banting) کا تاریخ پیدائش ہے۔ یہ وہ انسان تھا جس نے 1922 میں اپنے تجربات کے ذریعے انسولین دریافت کی- اس نے یہ ثابت کیا کہ یہی وہ ہارمون ہے جو جسم میں شوگر کنٹرول کرنے کیلئے ناگزیر ہے۔ فریڈرک کو اس عظیم کارنامے پر نوبل پرائز سے بھی نوازا گیا- بعد میں فریڈرک بینٹنگ کو مزید خراج تحسین پیش کرنے کی غرض سے اس کی تاریخ پیدائش 14 نومبر کو شوگر کے عالمی دن سے منسوب کیا گیا۔ اس دن کو منانے کا مقصد یہ ہے کہ عوام کو اس کے بارے میں بھرپور اور عام فہم انداز میں آگاہی فراہم کی جائے۔

پاکستان میں ہر پانچواں شخص شوگر کا شکار

شوگر اس وقت دنیا بھر کی طرح پاکستان میں نہایت تیزی سے پھیلتا ہوا مرض ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق اس وقت پاکستان میں ہر پانچواں شخص اس مرض کا شکار ہے- خطرہ ہے آئندہ دس سے پندرہ سال میں ہر تیسرا شخص اس بیماری کا شکار ہو گا۔ اگر یوں کہا جائے اس وقت پاکستان میں کوئی بھی خاندان ایسا نہیں جس میں کوئی نہ کوئی فرد شوگر کے مرض کا شکار ہے تو یہ غلط نہ ہو گا۔

شوگر(ذیابیطس) کی دو اقسام ، ٹائپ ون بچوں میں لبلبہ کی وجہ سے، ٹائپ ٹو موروثی منتقلی کا سبب

شوگر کو عموما” دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے ( اگرچہ اس کی اور بھی اقسام ہیں لیکن آسان الفاظ میں سمجھنے کیلئے اسکی یہی تقسیم بہتر ہے) ایک جسے ٹائپ ون کہا جاتا ہے جس سے عام طور پر بچے ذیادہ متاثر ہوتے ہیں- وجہ اسکی یہ ہوتی ہے کہ اس قسم کی شوگر میں انسان کا لبلبہ انسولین نہیں بناتا جو خون میں شوگر کی مقدار کو کنٹرول کرنے کیلئے لازمی ہے۔ اس کا علاج صرف انسولین سے ہی ممکن ہے۔ دوسری قسم کی شوگر وہ ہے جسے ٹائپ ٹو کہا جاتا ہے۔ یہ عموما” ان لوگوں میں ذیادہ ہوتی ہے جن کے خاندان میں ایک تو پہلے سے ہی کسی نہ کسی کو شوگر ہو- مذید اس پر یہ کہ اگر یہ لوگ بہت ذیادہ جسمانی طور پر فعال (physically active) نہ ہوں اور ان کا وزن بھی ذیادہ ہو- خاص طور پر پیٹ پر چربی (central adipocity) ذیادہ ہو تو ان لوگوں کو شوگر ہونے کا خطرہ بہت ذیادہ ہوتا ہے۔ اس دوسری قسم کی شوگر سے وزن کم کرکے اور جسمانی طور پر بھرپور فعال زندگی گزار کے بچا جا سکتا ہے۔

موٹاپے کا سبب بننے والی غذاؤں سے اجتناب، تازہ پھل، سبزیاں خشک میوہ جات کو خوراک کا حصہ بنانا

ایسی غذاوں  کا استعمال جو کہ موٹاپے کا باعث بنتی ہیں مثلا” فاسٹ فوڈ ( پیزا، برگر، کولڈ ڈرنکس وغیرہ) چکنائی اور تلی ہو ئی چیزوں کا کم سے استعمال کرنا- متبادل کے طور پر تازہ پھل، سبزیاں اور خشک میوہ جات کا مناسب استعمال کرنا موٹاپے اور شوگر سے بچا سکتا ہے۔

شوگر کا عالمی دن