67

پاکستانی لیڈر شپ مسئلہ کشمیر حل کرنے میں سنجیدہ نہیں، رانا بشارت علی خان

Spread the love

لاہور (جتن آن لائن خصوصی رپورٹ) رانا بشارت علی خان

انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ برطانیہ کے صدر اور انسانی حقوق کے ممتاز علمبردار رانا بشارت علی خان کا کہنا ہے کشمیریوں پر ڈھائے جانیوالے بھارتی مظالم پر پاکستان کی حکومت کی سمت درست نہیں- ہم عالمی سطح پر اس حوالے سے سفارتکاری کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں- ضرورت اس امرکی ہے مسئلہ کشمیر پر نعروں اور تقریروں کا سلسلہ بند اور ٹھوس عملی اقدامات اٹھائے جائیں-

یہ بھی پڑھیں : وزیراعظم عمران خان نے کشمیریوں کی مدد جہاد، خود کو انکا سفیر قراردیدیا

مسئلہ کشمیر کو دنیا بھر میں انسانی بنیادوں پر اٹھایا جائے- اقوام متحدہ اور جنیوا سمیت اہم مقامات و فورمز پر اہل اور عالمی امور کے ماہر سفارتکار تعینات کئے جائیں- بھارت کے جھوٹے پراپیگنڈے کا توڑ کرنے کیلئے بھر پور لابنگ کی جائے کیونکہ یہ وقت کی ضرورت بھی ہے اور مظلوم کشمیریوں کی آواز بھی۔

وزیرخارجہ شاہ محمود نے میری بریفنگ میں دی گئی ایک تجویز پر بھی معل نہیں کیا

لندن سے پاکستان کے دورہ پر آئے ہوئے انسانی حقوق کے عالمی سفیر کا مزید کہنا تھا کہ میں کشمیریوں کی آواز دنیا کے بیشتر ممالک میں بلند کرکے آیا ہوں- چند روز قبل جنیوا میں تاریخ کا سب سے بڑا مظاہرہ کرکے کشمیری بہن بھائیوں کیساتھ اظہار یکجہتی کیا- بھارت کا مکروہ چہرہ بھی پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کیا۔ بھارتی تنظیموں نے بے بنیاد پروپیگنڈا کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو مسخ کرکے دنیا کے سامنے پیش کیا- افسوس اس بات کا ہے پاکستان اور اس کے سفارتخانے یا ہماری تنظیمیں بھی کوئی موثر جواب نہ دے سکیں۔ رانا بشارت علی خان نے کہا میں نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو 5 اگست کے بعد کشمیر ایشو کے ہر پہلو پر بریفنگ دی- میری ایک تجویز پر بھی عمل نہیں کیا گیا-

مسئلہ کشمیر کو انسانی حقوق کی بنیاد پر پیش نہ کرنا اقوام متحدہ میں ناکامی کا بڑا سبب

اقوام متحدہ میں ہماری شکست کا بنیادی سبب بھی یہی ہے ہم نے مسئلہ کشمیر کو انسانی بنیادوں پر پیش نہیں کیا- میں پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت سے ملا، حکمرانوں کو مشورے دیتا رہا لیکن نتیجہ صفر نکلا۔ اس بنا پر میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں “پاکستان کا کوئی بڑا بھی مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے سنجیدہ نہیں”- اس حوالے سے کسی کا کوئی فوکس ہے نہ ہی کوئی اس مسئلہ کی سنگینی کو سمجھتا ہے۔

پاکستان میں گزارے 10 روز ضائع ہوگئے، یہاں کشمیر کے نام پر سیاست و دکانداری کا عمل جاری

انہوں نے بتایا کہ میری دی جانیوالی تمام بریفنگ ہوا میں اڑا دی گئیں- پاکستان نے تو کچھ نہ کیا البتہ بھارت نے میرا فیس بک اکائونٹ بند کردیا- میرے بینک اکائونٹس منجمد کروا دیئے گئے- یوں لگتا ہے جیسے ہمارے پیارے وطن میں کشمیر کے نام پر سیاست و دکانداری کی جارہی ہے- دورہ پاکستان کے دوران میں نے جو10 روز یہاں گزارے وہ ضائع ہوگئے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ اوپر سے نیچے تک جعلی افراد سے بھری ہے- ہمارے سفارت کار بھی فارغ ہیں- دیار غیر میں رہنے والے ہم عام پاکستانی اپنے سفارتکاروں سے زیادہ موثر اور سنجیدہ ہیں- اپنے تئیں مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کر رہے ہیں۔

دنیا میں بنائے گئے کشمیر سنٹرز کی کار کردگی صفر

رانا بشارت علی نے کہا پاکستان سمیت دنیا میں جو کشمیر سنٹر یا دفاتر کھولے گئے ہیں، انکی کارکردگی بھی زیروہے- ہم صرف میڈیا پرمقبوضہ کشمیر کا مقدمہ لڑ رہے ہیں- اب تک بھارت کے کسی پروپیگنڈے کا موثرجواب نہیں دے سکے۔ انہوں نے کہا اوورسیز پاکستانیوں کو اس حوالے سے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کی ضرورت ہے- یو این او اور جنیوا میں امور کشمیر سے واقفیت رکھنے والے سفارتکار لگائے جائیں- تعلیمی اداروں میں بچوں کیلئے خصوصی مضامین شامل کئے جائیں- بھارتی تنظیموں کے پروپیگنڈا کا مقابلہ کرنے کیلئے موثر لابی بنائی جائے۔

کشمیر کے نام پر جعلی فنڈ ریزنگ ہو رہی ہے

رانا بشارت علی خان نے کہا یورپ میں کشمیر کے نام پر جعلی فنڈریزنگ ہو رہی ہے- یہ کس قدر ظلم کی بات ہے عالمی ریڈ کراس کو مقبوضہ کشمیر میں رفاحی کام کرنے کی اجازت نہیں- بھارتی افواج انہیں روکتی ہے- ہم لوگ اپنا پیسہ خرچ کرکے پاکستان کا امیج بنانے کی کوشش کرتے ہیں- ہمارے سفارتخانے اس میں بھی رکاوٹ بن جاتے ہیں۔

رانا بشارت علی خان