55

آزادی مارچ کے ’’پلان بی‘‘پر عملدرآمد کیلئے جے یو آئی (ف) کا اجلاس بے نتیجہ

Spread the love

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)آزادی مارچ کے پلان بی پر عمل درآمد کیلئے جمعیت

علمائے اسلام (ف) کے اجلاس کا کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔ذرائع کے مطابق مولانا

فضل الرحمن کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں صوبائی اور ضلعی قیادت

شریک ہوئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مجلس عاملہ کے اجلاس میں شریک جے یو آئی

(ف) کے صوبائی امراء نے مشاورت کا وقت مانگ لیا ہے۔جے یو آئی ف کے

اجلاس میں آزادی مارچ کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا، مذاکرات کے حوالے سے

حکومت کی غیر سنجیدگی پر بھی بات چیت ہوئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جے یوآئی

ف کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس آج ظہرکی نماز کے بعد دوبارہ ہو گا۔

دوسری جانب سربراہ جے یو آئی (ف) نے دھرنے کے شرکاء سے خطاب اور

نجی ٹی وی کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا

فضل الرحمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے استعفے کے لیے حکمت عملی تبدیل

ہوسکتی ہے، استعفے سے کم کی نہیں استعفے کے برابر کی کوئی صورت

ہوسکے تو اس کی تجویز لائی جاسکتی ہے۔ ہم نے اس حکومت کا ڈر اور اس

حکمراں کا رعب و دبدبہ ختم کردیا ہے۔ نجی ٹی وی کو انٹر ویو میں جے یو آئی

سربراہ کا کہنا تھا کہ جیسا عمران خان چاہیں گے ویسا ہوگا، اْن کے خلاف کوئی

آواز نہیں اْٹھ سکتی، ہم نے اْس کی مت ماردی ہے۔ اس وقت تو ہم نے صرف

سڑکوں پر قدم رکھا ہے، ابھی نہ عدالت گئے اور نہ ہی کسی ادارے میں قدم رکھا

ہے۔ سڑکوں پر ہیں اور ابھی سڑکوں پر ہی قدم آگے بڑھتا رہے گا۔انہوں نے کہا

ہے کہ ان کے دبائوسے حلیف جماعتوں کو فائدہ ملتا ہے تو خوشی ہوگی، انہیں

محفوظ راستے کی ضرورت نہیں ، ضرورت اْن کو ہے۔دھرنے کے شرکاء سے

خطاب کرتے ہوئیمولانا فضل الرحمن نے کہاہے کہ کسی کو پاکستان کے نظریے،

آئین اور جمہوریت سے کھیلنے نہیں دیں گے، ہم موجودہ حکومت کو تسلیم نہیں

کرتے یہ کرسی پر بیٹھے رہیں ،عوام انہیں حکمران نہیں مانتے ،ایک منظور نظر،

نااہل شخصیت کی ملوں میں 40 فیصد چینی ذخیرہ کی گئی، کیا اس کے لیے

پاکستان حاصل کیا گیا تھا ،ہمارے مارچ کے پیچھے دنیاوی طاقت ہمارے کارکن

ہیں، دھرنے سے ہماری جماعت کے نظریاتی اہداف کو تحفظ مل گیا ہے،میں اور

میرے کارکن ایک دوسرے سے راضی ہیں، تحریک کی کوئی حد نہیں ہوتی، منزل

مقاصد کا حصول ہوتا ہے اور کارکنوں نے کہا کہ وہ بیٹھے ہیں اور بیٹھے رہیں

گے،این آر او کو بدنام کر دیا گیا ہے، اس کا مقصد ملک کو جمہوریت کی طرف

لے جانا ہے،ہم سے بیک ڈور سے بھی لوگ مل رہے ہیں ، کوئی غیر ملکی

سفارتخانہ بیچ میں نہیں ہے،فیس سیونگ ہمیں نہیں حکمرانوں کو چاہیے،عمران

خان کا استعفیٰ لینے کے لیے حکمت عملی تبدیل ہو سکتی ہے، ہمارے دباؤ سے

حلیف جماعتوں کو فائدہ ملتا ہے تو خوشی ہو گی۔ مولانا فضل الرحمان نے آزادی

مارچ کے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غرور کا پہاڑ ریت کا صحرا بن

گیا ہے، ہم نے ان حکمرانوں کو غرور خاک میں ملا دیا ہے، ہم ان حکمرانوں کو

تسلیم نہیں کرتے، یہ کرسی پر بیٹھے رہیں لیکن عوام انہیں حکمران نہیں مانتی۔

سربراہ جے یو آئی ف نے کہا کہ فاٹا کے حوالے سے عوام کو سبز باغ دکھائے

گئے، کہا گیا کہ ہم فاٹا کو ہر سال 100 ارب روپیہ دیں گے اور 10 سال تک

مسلسل دیتے رہیں گے، لیکن آج تک ایک پیسہ نہیں دیا۔حکومت کو تنقید کا نشانہ

بناتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نااہلی کا یہ عالم ہے کہ اقبال ؓکے

حوالے سے 9 نومبر کو محسوس ہی نہیں ہونے دیا گیا، اس طرح پاکستان نہیں چلا

کرتا، پاکستان کی شناخت اس کا نظریہ، آئین اور جمہوریت ہے، کسی کو پاکستان

کے نظریے، آئین اور جمہوریت سے کھیلنے نہیں دیں گے۔سربراہ جے یو آئی ف

نے کہا کہ ایک سال میں چینی، چاول اور آٹا کئی گنا مہنگا ہو گیا، 60 سے 70

فیصد ہماری برآمدات کا دار و مدار زراعت پر ہے تاہم حکومت کی زرعی پالیسی

میں کپاس کا ذکر ہی نہیں، ہمارا سٹیٹ بینک بھی خسارے میں جا رہا ہے۔انہوں نے

کہا کہ ایک منظور نظر، نااہل شخصیت کی ملوں میں 40 فیصد چینی ذخیرہ کی

گئی، کیا اس کیلئے پاکستان حاصل کیا گیا تھا اور قربانیاں اسی لیے دی گئی تھیں۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہمیں کہتے ہیں کہ عدالت کے فیصلے کو سامنے

رکھتے ہوئے جلسہ کریں، ہم نے کہا تم نے کتنی عدالتوں کے فیصلوں کو مدنظر

رکھتے ہوئے دھرنے کیے۔ ایک انٹرویو میں سربراہ جے یو آئی ف نے کہا کہ ہر

پارٹی نے انتخابی دھاندلی کا مشاہدہ کیا، دھاندلی کی تحقیقات کے لیے سربراہ بھی

حکومتی رکن کو بنایا گیا، ایک سال ہو گیا لیکن تحقیقاتی کمیٹی کے قواعد و

ضوابط بھی نہیں بنائے گئے۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد اس لیے ہدف ہے کہ یہ دار

الحکومت ہے، یہ دھرنا نہیں آزادی مارچ ہے اور ہمارے مارچ کے پیچھے دنیاوی

طاقت ہمارے کارکن ہیں، دھرنے سے ہماری جماعت کے نظریاتی اہداف کو تحفظ

مل گیا ہے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میں اور میرے کارکن ایک دوسرے

سے راضی ہیں، تحریک کی کوئی حد نہیں ہوتی، منزل مقاصد کا حصول ہوتا ہے

اور کارکنوں نے کہا کہ وہ بیٹھے ہیں اور بیٹھے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ شہباز

شریف اور بلاول نے مارچ نومبر تک ملتوی کرنے کامشورہ دیا تھا، ہم نے کہا کہ

سردیاں بڑھ جائیں گی پھر آنہیں سکیں گے۔این آر او سے متعلق سوال پر مولانا

فضل الرحمان نے کہا کہ این آر او کو بدنام کر دیا گیا ہے، اس کا مقصد ملک کو

جمہوریت کی طرف لے جانا ہے، دونوں بڑی پارٹیاں چارٹر کے ذریعے ملکی

سیاست میں واپس آئی تھیں۔سربراہ جے یو آئی ف نے کہا کہ ہم سے بیک ڈور سے

بھی لوگ مل رہے ہیں لیکن کوئی غیر ملکی سفارتخانہ بیچ میں نہیں ہے۔کشمیر

سے متعلق بھارتی اقدامات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان

نے کہا کہ حکومت کی ناکام سفارت کاری کی وجہ سے کشمیر پر یہ دن دیکھنا

پڑا، جب تک ہم تھے حالات کنٹرول رکھے کہ بھارت ایسا اقدام نہ کر سکے،

عمران خان نے کہا تھا مودی کی حکومت آئے گی تو مسئلہ کشمیر حل ہو جائے گا۔

فیس سیونگ سے متعلق سوال پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہمیں محفوظ

راستے کی ضرورت نہیں، ضرورت اْن کو ہے۔حکومتی ٹیم کے ساتھ مذاکرات کے

حوالے سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ استعفے سے کم نہیں

تو اس کے برابر کی صورت سامنے آئے، عمران خان کا استعفیٰ لینے کے لیے

حکمت عملی تبدیل ہو سکتی ہے۔دھرنے سے دیگر سیاسی جماعتوں کو فائدہ

پہنچنے سے متعلق سوال پر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ان کے دباؤ سے

حلیف جماعتوں کو فائدہ ملتا ہے تو خوشی ہو گی۔ علاوہ ازیںجمعیت علماء اسلام

(ف) نے حکومت کے خلاف آزادی مارچ کے شرکاء کو راشن فراہم کرنے کا

فیصلہ کر لیا ۔جے یو آئی (ف) نے فیصلہ کیا ہے کہ آزادی مارچ میں شریک

کارکنان کو ایک ہفتے کا راشن دیا جائے گا۔ترجمان جے یو آئی(ف) نے بتایا کہ

کارکنان کو دال، چینی، پتی، گھی، نمک اور دیگر ضروریات اشیاء کے پیکٹس

فراہم کیے جائیں گے۔ ترجمان جے یو آئی(ف) کے مطابق پارٹی کے مخیر

حضرات کے تعاون سے کارکنان کو راشن فراہم کیا جارہا ہے۔ جے یو آئی(ف) کا

کہنا ہے کہ کارکنان کو راشن فراہم کردیا جائے گا۔