Ayodhia. Hindu Community attacking at Babary Masque of India jtnonline 36

بابری مسجد کیس فیصلہ، سیکولر انڈیا پرہندوتوا کی جیت

Spread the love

نئی دہلی(جتن آن لائن مانیٹرنگ ڈیسک) بابری مسجد کیس فیصلہ….. بھارتی سپریم کورٹ نے تعصب پر مبنی فیصلہ سناتے ہوئے تاریخی بابری مسجد کی زمین ہندؤوں کے حوالے کر دی جبکہ مسلمانوں کو مسجد تعمیر کرنے کے لیے متبادل کے طور پر علیحدہ زمین فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔ ہفتہ کے روز بھارت عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس رانجن گنگوئی کی سربراہی میں 5 رکنی بنچ نے بابری مسجد کی زمین سے متعلق محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا اور مسجد کی زمین ہندوؤں کے حوالے کر دی، 5 رکنی بنچ میں مسلمان جج ایس عبدالنذیر بھی شامل تھے۔ فیصلے کے ابتدائی حصے میں عدالت عظمیٰ نے بابری مسجد کے مقام پر نرموہی اکھاڑے اور شیعہ وقف بورڈ کا دعویٰ مسترد کردیا۔

مسلم مسجد کے اندر، ہندو باہر اپنی اپنی عبادات کیا کرتے تھے۔ عدالت میں پیش کردہ تاریخی شواہد

چیف جسٹس رانجن گنگوئی نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ بابری مسجد کیس کا فیصلہ متفقہ ہے- ہندو ایودھیا کو رام کی جنم بھومی جبکہ مسلمان اس جگہ کو بابری مسجد کہتے ہیں- تاریخی شواہد سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بابری مسجد کی تعمیر خالی زمین پر نہیں کی گئی تھی- مسلمان مسجد کے اندرونی مقام پر عبادت کرتے تھے، جبکہ ہندو مسجد کے باہر کے مقام پر اپنی عبادت کرتے تھے۔ ہندوؤں کی جانب سے یہ دعویٰ کہ دیوتا رام کا جنم بابری مسجد کے مقام پر ہوا تھا غیر متنازعہ ہے، جبکہ مذکورہ زمین کی تقسیم قانونی بنیادوں پر ہونی چاہیے۔

شواہد سے پتہ چلتا ہے مسجد کی جگہ پر رام کی جنم بھومی تھی، سپریم کورٹ

بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا عدالت کے لیے مناسب نہیں کہ وہ مذہب پر بات کرے- عبادت گاہوں کے مقام سے متعلق ایکٹ تمام مذہبی کمیونٹیز کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔ فیصلے کے مطابق شواہد سے پتہ چلتا ہے مسجد کی جگہ پر رام کی جنم بھومی تھی اور بابری مسجد کے نیچے اسلامی تعمیرات نہیں تھیں- بابری مسجد کو خالی پلاٹ پر تعمیر نہیں کیا گیا۔

ایودھیا سمیت بھارت بھر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات، تعلیمی ادارے بند

دوسری جانب بھارتی میڈیا کے مطابق اتر پردیش میں تمام سکول، کالج اور تعلیمی ادارے 11 نومبر تک بند کرنے کا اعلان کیا گیا تھا- ایودھیا سمیت پورے بھارت میں سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی- تا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جاسکے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے تناظر میں ایودھیا سمیت پورے اترپردیش کو سیکیورٹی کے حصار میں قید کردیا گیا- جس کے تحت تمام دھرم شالے بند کردیے گئے جبکہ غیر مقامی افراد کو شہر سے نکلنے کا حکم دیا گیا۔

ناخوشگوار واقعات کا خدشہ، انٹرنیٹ سروس معطلی کا بھی امکان

علاوہ ازیں کسی بھی ممنوعہ اجتماع سے بچنے کے لیے جموں کشمیر، اتر پردیش اور گووا میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی جبکہ متعدد ریاستوں میں تمام تر تعلیمی ادارے بند ہیں۔ دوسری جانب فیصلے کے پیشِ نظر علی گڑھ میں رات کو ہی موبائل فون سروس معطل کردی گئی تھی جبکہ حکام کا کہنا تھا حالات کے پیشِ نظر ایودھیا میں بھی انٹرنیٹ سروس معطل کی جاسکتی ہے۔

بھارتی سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائیکورٹ کے ستمبر 2010 کے فیصلے کیخلاف دائر 14 اپیلوں پر سماعت کی

واضح رہے سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے ستمبر 2010 کے فیصلے کیخلاف دائر 14 اپیلوں پر سماعت کی، جس میں سنّی وقف بورڈ، نرموہی اکھاڑہ اور رام لالہ کے درمیان ایودھیا میں 2.77 ایکڑ متنازع زمین کو برابر تقسیم کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ دوسری طرف بابری مسجد کیس کے مسلمان فریق سنی وقف بورڈ نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وکیل ظفریاب جیلانی نے کہا ہے سپریم کورٹ نے تسلیم کیا کہ نماز ہوئی پھر کیسے نظر انداز کر دیا، ہم عدالتی فیصلے کا احترام کرتے ہیں لیکن تحفظات برقرار ہیں۔ فیصلے سے کسی کی جیت ہوئی نہ ہی ہار لہذا احتجاج اور مظاہرے نہیں ہونے چاہیں۔

ہمارا موقف سمجھا نہیں گیا، وکیل ظفر یاب جیلانی

مسلم فریق کے وکیل نے کہا سپریم کورٹ کا فیصلہ ہمارے حق میں نہیں، 5 ایکڑ زمین ہمارے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ ہماری شریعت کے مطابق ہم اپنی مسجد کسی کو نہیں دے سکتے۔ مسجد اللہ کی ہے اور اسے فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے میں تضاد ہے۔ جن ثبوتوں کو ہندووں کے حق میں لیا گیا وہی مسلمانوں کے ثبوت مسترد کر دئیے گئے۔ وکیل ظفریاب جیلانی نے کا کہنا تھا ہمارا موقف سمجھا نہیں گیا ہمیں متبادل زمین نہیں چاہیے۔ خیال رہے بھارت کی عدالت عظمیٰ نے بابری مسجد کی زمین پر مندر تعمیر کرنے اور مسلمانوں کو متبادل جگہ فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا مسلمانوں کو پانچ ایکٹر متبادل زمین دی جائے اور بابری مسجد کے صحن میں مندر تعمیر ہوگا۔

مسلم پرسنل لا بورڈ کو چاہیے مسجد کیلئے پانچ ایکڑ کی زمین نہ لے

دریں اثنا صدر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین اسدالدین اویسی نے بابری مسجد مقدمے سے متعلق فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہمیں مسجد کیلئے 5 ایکڑ زمین کی خیرات کی ضرورت نہیں۔ ایک بیان میں اسدالدین اویسی نے کہا بھارت کا مسلمان اتنا گیا گزرا نہیں وہ مسجد کی تعمیر کیلئے 5 ایکڑ زمین نہ خرید سکے، مسلم پرسنل لا بورڈ کو چاہیے مسجد کیلئے پانچ ایکڑ کی زمین نہ لے کیونکہ وہ بھی بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے سے مطمئن نہیں ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے سے حقائق پر عقیدے کی جیت ہوئی ہے جس سے ہمیں تکلیف پہنچی ہے اور ہم مطمئن نہیں ہیں۔

انصاف انصاف ہوتا ہے عدالتوں کے فیصلے بھائی چارگی کے لیے نہیں ہوتے۔ اسدالدین اویسی

انصاف انصاف ہوتا ہے عدالتوں کے فیصلے بھائی چارگی کے لیے نہیں ہوتے۔ اسدالدین اویسی نے کہا بھارت کو ہندو ریاست بنانے کے عمل کا آغاز ایودھیا سے ہونے جارہا ہے۔ ہماری ساری لڑائی قانونی اور اپنے حق کے لیے تھی، پانچ ایکڑ زمین کیلئے نہیں۔ انہوں نے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہا اب یہ لڑائی رکے گی نہیں، ڈر اس بات کا ہے سنگھ پریوار مزید مساجد پر دعویٰ کرے گا، 6 دسمبر 1992 کو انہوں نے ہی پانچ سو سال پرانی مسجد کو شہید کیا تھا۔

بابری مسجد کیس کا فیصلہ ٹوئیٹر کے ورلڈ وائیڈ ٹرینڈ پینل پر چھایا رہا

بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ کے اس متعصب فیصلے پر سوشل میڈیا صارفین اپنے رد عمل کا اظہار کر رہے ہیں۔ ٹوئٹر کے ورلڈ وائیڈ ٹرینڈ پینل پر سرفہرست 5 ٹرینڈز اسی فیصلے کے موضوع پر بن گئے۔ ہیش ٹیگ ایودھیا ورڈکٹ، رام مندر، جے شری رام اور اسی متعلق دیگر موضوعات ٹرینڈ کر رہے ہیں۔

بابری مسجد کیس فیصلہ