23

کرتارپور، پوری سکھ کمیونٹی کو مبارکباد دیتا ہوں،عمران خان

Spread the love

نارووال(نامہ نگار)وزیر اعظم پاکستان عمران نے کرتار پور راہداری منصوبے

کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کشمیریوں کے حقوق لوٹا

دئیے جائیں تو برصغیر پرامن اور ترقی پذیر خطہ بن سکتا ہے میں نے جب

وزارت عظمی کو عہدہ سنبھالا تھا کہ مودی کو پیغام دیا تھا کہ مسئلہ کشمیر کو

کشمیریوں کی خواہش کے مطابق حل کر دیں تو برصغیر میں پر امن اور ترقی

یافتہ خطہ بن سکتا ہے کشمیر میں 9لاکھ فوج سے80لاکھ کشمیریوں پر مظالم

کروائے جارہے ہیں اور انہیں بند کروا رکھا ہے جو کہ انسانیت کی تذلیل ہے اگر

مودی میری بات سن رہے ہیں تو پھر کہتا ہوں کہ انصاف سے امن قائم ہوگا

کشمیریوں کو اگر انصاف مل گیا تو برصغیر آزاد ہو جائے گا اور پھر دیکھیں یہ

خطہ کس طرح ترقی کر تا ہے وزیر اعظم پاکستان نے کہا کہ منمون سنگھ جب

وزیر اعظم تھے تو انہوں نے مجھے کہا کہ اگر مسئلہ کشمیر کا حل ہو جائے تو

برصغیر کی قسمت بدل سکتی ہے لیکن مجھے افسوس ہے کہ ہمارے امن کے پیغام

کا جواب کشمیر میں کرفیو لگا کر دیا گیا۔ہمارے نبی پاک ﷺ کا فرمان ہے کہ

ایک قتل پوری انسانیت کا قتل ہے تو باباجی گرونانک دیوجی مہاراج کا پیغام بھی

امن اور بھائی چارے کا ہی تھا جس پر دینا کے تمام مذاہب یقین رکھتے ہیں انہوں

نے کہا کہ میں پوری دنیا سے آئے ہوئے سکھ یاتری دیکھ لیں کہ آپکامدینہ تیار

ہوچکا ہے اوربابا گرو نانک دیوجی کے550ویں جنم دن کے موقع پر پوری سکھ

کمیونٹی کو مبارکباد دیتا ہوں عمران خان نے کہا کہ حضور نبی کریم ﷺ، تمام

انبیاء اور صوفیا کرام پوری دنیا کے لئے صرف دو پیغام لیکر آئے جو ایک امن

اور دوسرا انصاف ہے ،جس معاشرہ میں انصاف نہیں ہوگا وہ معاشرہ جانوروں

سے بھی بدتر ہے وزیر اعظم نے کہا کہ کوئی سوچ سکتا تھا کہ ساوتھ افریقہ میں

خون کی ہولی کو کوئی روک سکتا ہے لیکن نیلسن منڈیلا نے 27سال جیل کاٹنے

بعد باہر آکر سب ظالموں کو معاف کر دیا اور اس خطے میں انسانیت کو جوڑ دیا

جو رہتی دنیا تک نیلسن منڈیلہ کو دعائیں دیںگے انہوں نے کہا کہ لیڈر وہ ہوتا جو

انسانوں کو اکھٹا کرے وہ نہیں جو نفرتیں پھیلا کر ووٹ حاصل کرے ، وزیر اعظم

نینوجوت سنگھ سندھوکی شاعری اور جذبات سے بھری تقریر کا حوالہ دیتے

ہوئے کہا کہ سندھو نے دل سے تقریر کی اور دلوں میں خدا بستا ہے اور آج خدا

نے ان کی دلی خواہش پوری کر دی سندھو نے جب مجھے کہا کہ باڈر کھول دیں

تو مجھے اُس وقت یہاں آکر کرتار پور کی اہمیت کا انداز ہوا کہ مسلمانوں کو چار

کلومیٹر دور کھڑا کرکے مکہ مدینہ نہ جانے دیا تو مسلمانوں کے دلوں پر کیا بیتے

گی اس لئے راہداری منصوبہ کے ذریعے سکھوں کے مدنیہ کرتار پور کو کھول

دیا گیا اورمیں آج سکھوں کے چہروں پر خوشی دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کرتا

ہوں،وزیر اعظم نے راہدداری منصوبے پر کام کرنے والے FWOسمیت سارے

شعبے شامل ہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے انتہائی قلیل مدت میں اتنا

بڑا کمپلکس کھڑاکیا اور مجھے نہیں پتہ تھا کہ میری حکومت میں اتنے تیز کام

کرنے والے موجود ہیں جسطرح ان سب نے مل کر دس ماہ کے قلیل عرصہ میں یہ

سب کام کیا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہم اس سے بھی تیز اور اچھا کام کر سکتے

ہیں ،افتتاحی تقریب میں پاکستان کی خصوصی دعوت پر سابق بھارتی وزیر اعظم

منمون سنگھ،وزیر اعلی بھارتی پنجاب امرت سنگھ، سیاسی رہنماء اور سابق کرکٹر

نوجوت سنگھ سندھو،اداکار سنی دیول ،سکھوں کے مذہبی رہنماء ہرپریت

سنگھ،وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی،وزیر داخلہ برگیڈئیر اعجاز شاہ،وزیر

مذہبی امور نورالحق قادری،معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق

اعوان،گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور،وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار،سینٹر

فیصل جاوید،عثمان ڈار اور ابرار الحق کے علاوہ دنیا بھر سے آئے ہوئے سکھ

مردوخواتین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔افتتاحی تقریب سے قبل وزیر اعظم

عمران خان نے راہدری کمپلکس کا تفصیلی دورہ کیا جہاں پر میوزیم لائبیری،بارہ

دری،مہمان خانہ اور لنگر خانے کا معائنہ کیا اور راہدداری منصوبے کے کام پر

اطمینان کا اظہار کیا۔