A Woman facing sleeping problem and looking the drugs. 50

بے خوابی سے بچیئے، فالج اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھا دیتی ہے، نئی تحقیق

Spread the love

لاہور(جتن آن لائن ہیلتھ نیوز) بے خوابی فالج اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھا دیتی ہے، یہ بات چین میں ہونیوالی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ پیکنگ یونیورسٹی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جن لوگوں کو بے خوابی کی شکایت ہوتی ہے، ان میں جان لیوا امراض کا خطرہ بھی نمایاں حد تک بڑھ جاتا ہے۔

بے خوابی کا شکار افرد پر نظر رکھ کر انہیں ایسے امراض کے خدشہ سے بچایا جا سکتا ہے، محقیقین

تحقیق کے دوران 5 لاکھ کے قریب افراد کا جائزہ لینے کے بعد دریافت کیا گیا کہ بے خوابی کے شکار افراد میں ہارٹ اٹیک یا فالج جیسے جان لیوا امراض کا خطرہ 20 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ تحقیقی ٹیم میں شامل لی منگ لی نے بتایا ان نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ جن افراد کو سونے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، اگر ان کو نظروں میں رکھا جائے تو فالج، ہارٹ اٹیک اور دیگر امراض کی شرح کو کم کیا جاسکتا ہے۔ اس تحقیق میں شامل رضاکاروں کی اوسط عمر 51 سال تھی اور انہیں ماضی میں فالج یا امراض قلب کا سامنا نہیں ہوا تھا۔ ان افراد سے محققین نے پوچھا کیا انہیں ہر ہفتے کم از کم 3 دن بے خوابی کی کسی قسم کی علامات جیسے سونے میں مشکل یا سونے کے بعد بار بار جاگنا، صبح بہت جلد اٹھ جانا یا دن میں کاموں کے دوران نیند کی کمی کی وجہ سے توجہ مرکوز کرنے میں مشکلات وغیرہ کا سامنا تو نہیں ہوتا؟

یہ بھی پڑھیں: لیٹ کر موبائل فون کا استعمال آنکھوں اور دماغ کیلئے خطرناک

سوال کے جواب میں 11 فیصد افراد کو سونے میں مشکلات یا بار بار جاگنے کی شکایت تھی، 10 فیصد بہت جلد بیدار ہوجاتے تھے اور 2 فیصد کو نیند کی کمی کی وجہ سے دن بھر توجہ مرکوز رکھنے میں مشکل محسوس ہوتی تھی، تاہم محققین نے یہ تعین نہیں کیا کہ یہ لوگ بے خوابی کی مکمل اصطلاح پر پورا اترتے تھے یا نہیں۔ ان افراد کا اوسطا 10 سال تک جائزہ لیا گیا اور اس عرصے کے دوران ایک لاکھ 30 ہزار سے زائد رضاکاروں میں فالج، ہارٹ اٹیک اور دیگر ملتے جلتے امراض کے کیسز سامنے آئے۔

تین مخصوص علامتوں والے افراد

جن افراد میں بے خوابی کی تینوں علامتیں موجود تھیں، ان میں ان امراض کا خطرہ بے خوابی سے محفوظ افراد کے مقابلے میں 18 فیصد زیادہ ہوسکتا ہے، محققین نے اس حوالے سے فالج یا ہارٹ اٹیک کے خطرے کا باعث بننے والے دیگر عناصر جیسے تمباکو نوشی، الکحل کا استعمال اور جسمانی سرگرمیوں کی دوری کو بھی ایڈجسٹ کرنے کے بعد یہ تنیجہ نکالا-جن لوگوں کو سونے میں مشکل یا بار بار جاگنے کی شکایت ہوتی ہے ان میں یہ خطرہ 9 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔
تحقیق کے دوران 55 ہزار سے زائد افراد میں بے خوابی کی اس علامت کو دیکھا گیا تھا اور ان میں سے 32 فیصد یا 17 ہزار سے زائد کو فالج یا ہارٹ اٹیک کا سامنا ہوا۔ جو لوگ بہت جلد اٹھ جاتے ہیں اور پھر سونے میں ناکام رہتے ہیں، ان میں ان امراض کا خطرہ 7 فیصد تک بڑھ جاتا ہے جبکہ توجہ مرکوز رکھ پانے میں ناکام افراد میں یہ امکان 13 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔

مستقبل میں مزید تحقیق، تشخیص و علاج ممکن بنانے کا عمل جاری

محققین کا کہنا ہے بے خوابی کی علامات اور ان امراض کے درمیان تعلق نوجوان اور ایسے افراد میں زیادہ مضبوط ہوتا ہے جو تحقیق کے آغاز میں ہائی بلڈ پریشر کے شکار نہیں تھے اور اب مستقبل میں مزید تحقیق پر یہ دیکھا جائے گا کس طرح ان گروپس میں جلد تشخیص اور علاج کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ محققین نے کہا کہ تحقیق میں بے خوابی کی علامات اور ان جان لیوا امراض کا شکار ہونے کی وجہ اور اثرات پر روشنی نہیں ڈالی گئی بلکہ اس میں بس تعلق ثابت ہوا ہے-