36

بغداد میں عراقی فورسز کی فائرنگ سے مزید 10مظاہرین ہلاک،35زخمی

Spread the love

بغداد(مانیٹرنگ ڈیسک)عراق کے دارالحکومت بغداد کے وسطی علاقے میں

عراقی فورسز کی فائرنگ سے مزید 10مظاہرین ہلاک،35زخمی ہوگئے ۔

سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ایک مرتبہ پھر براہ

راست فائرنگ کردی جس سے کم از کم 6 اور بصرہ میں 4 مظاہرین ہلاک

اور35زخمی ہوگئے ،تاہم عراقی سیکیورٹی فورسز نے کہاہے کہ بصرہ میں عوام

دھرنا ختم کرانے کی کوشش کے دوران بعض گمراہ شرپسند عناصر نے شہریوں

اور سیکیورٹی فورسز پر آتشی ہتھیاروں کے ذریعے حملہ کیا ۔میڈیارپورٹس کے

مطابق عراقی ذرائع نے بتایاکہ سیکیوٹی فورسز اور مظاہرین میں بغداد میں شہداء

پل کے نزدیک جھڑپیں ہوئیں اور سیکیورٹی فورسز نے شاہراہ الرشید پر مظاہرین

پر براہ راست فائرنگ کی ۔عراقی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کی ایک اطلاع کے

مطابق مظاہرین نے جنوبی بندرگاہ اْم قصر کو بند کردیا ۔ادھراقوام متحدہ نے عراق

میں حکومت مخالف احتجاجی تحریک کے دوران میں مظاہرین کی ہلاکتوں میں

اضافے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا اورکہاکہ سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس

نے عراق میں جاری مظاہروں میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں مسلسل

اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔عراق سے مظاہرین کے خلاف براہ

راست گولیاں چلانے کی پریشان کن رپورٹس مسلسل موصول ہورہی ہیں۔بیان کے

مطابق سیکریٹری جنرل نے تمام کرداروں پر زوردیا کہ وہ تشدد سے گریز کریں

اور تشدد کی تمام کارروائیوں کی سنجیدگی سے تحقیقات کریں۔انھوں نے ایک

مرتبہ پھر عراقی حکومت اور مظاہرین کے درمیان بامقصد اور معنی خیز بات

چیت کی ضرورت پر زوردیا ہے۔س سے قبل بغداد آپریشنز کے کمانڈر نے باور

کرایا تھا کہ رشید اسٹریٹ پر مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ

کرنے والی فورس کو گرفتار کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ۔عراق کے

جنوب میں ام قصر بندرگاہ کے ذمے داران کے مطابق درجنوں مظاہرین نے ٹائر

جلا کر بندرگاہ کا داخلی راستہ بند کر دیا۔ انہوں نے ٹرکوں کو خوراک اور دیگر

سامان منتقل کرنے سے بھی روک دیا۔پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز

نے مقامی حکومت کی عمارت میں جمع ہونے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے

لیے براہ راست فائرنگ اور آنو گیس کے گولوں کا سہارا لیا۔