47

عراق میں اچانک خونیں احتجاج، مشرق وسطیٰ اور درپرایجنڈا؟

Spread the love

عراق خونیں احتجاج

2017ء میں داعش کیخلاف جنگ کے خاتمے کے بعد سے عراق ایک پرامن اور آزاد ملک ،جہاں تیل کی پیداوار ریکارڈ سطح پر ہے لیکن اس کے باوجود انفرا اسٹرکچر تباہ حال ہے۔ جنگ سے متاثرہ شہروں کی تعمیرنوشروع نہیں ہوسکی- حال ہی میں کرپشن، بیروزگاری اور مہنگائی کیخلا ف جاری احتجاج نے عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی کی حکومت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کی جھڑپوں میں اب تک 250 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ سینکڑوں زخمی ہوچکے ہیں۔ اگرچہ یہ مظاہرے اور احتجاج بظاہر مہنگائی اور کرپشن کیخلاف ہیں مگر پردے کے پیچھے کچھ اور قوتیں اس احتجاج کی ڈوریاں ہلارہی ہیں۔

امریکہ کو عراق کے انکار کے بعد مظاہرے

عراقی وزیراعظم کی حکومت ایران کے قریب سمجھی جاتی ہے۔ عراقی پارلیمنٹ ملک سے امریکی فوج کے انخلاء کی قرارداد منظور کر چکی ہے۔ چند ہفتے قبل شام سے واپس منگوائی جانیوالی امریکی فوجیوں کوعراق میں تعیناتی کی اجازت دینے سے بھی عراقی حکومت نے انکار کردیا۔ جس کے بعد سے احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا۔ اچانک شروع ہونیوالے ان مظاہروں نے عراقی حکومت کو حیران کردی کیونکہ وہ ایسے مظاہروں کی ہرگز توقع نہیں کر رہے تھی۔ مظاہروں کی زیادہ غور طلب بات یہ ہے کہ یہ سنی نہیں شیعہ اکثریتی علاقوں میں ہورہے ہیں جو عراقی حکومت کا سپورٹ بیس ہے۔

یورپی خبررساں اداروں کی عراقی حکومت پر تنقید سے بھرپور رپورٹنگ

مظاہروں کی ابتدا ہوئی تو یورپی خبررساں اداروں نے اپنی اپنی رپورٹس دیں کہ داعش کو شکست کے 2 سال بعد بھی تیل کی دولت سے مالا مال حکومتی خزانہ عوام کی تقدیر نہ بدل سکا۔ 4 کروڑ ملکی باشندے بدترین حالات میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ عوام کو بجلی، صاف پانی، صحت اور روزگار میسر نہیں- عراقی نوجوان کرپٹ رہنماؤں سے تنگ ہیں، اسلئے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ مسلح گروپ اب بھی جتھوں کی صورت میں حکمرانی کر رہے ہیں۔ صدام حسین کے دور سے جاری کرپشن اب فرقہ وارانہ سیاسی جماعتوں کی حکمرانی میں عروج پر ہے۔ احتجاج کی بظاہر بتائی جانیوالی وجوہات اپنی جگہ لیکن ان مظاہروں کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ کسی جانی پہچانی سیاسی قیادت کے بغیر ہو رہے ہیں۔ عراق خونیں احتجاج

سوشل میڈیا پر مظاہرین کو اکسانے کی مہم، مرکز فلوجہ نہیں ناصریہ، نجف اور کربلا

سوشل میڈیا پر احتجاج و مظاہروں کی اپیلوں پر لوگ اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ مشرق وسطیٰ پر نظر رکھنے والوں کا خیال ہے مظاہرے ایران کو سبق سکھانے کیلئے ہیں۔ پہلے پہل مظاہرین نے وزیراعظم عادل عبدالمہدی کی حکومت کیخلاف نعرے بلند کیے لیکن پھر یہ نعرے تبدیل ہو کر ایران مخالف ہوگئے۔ شیعہ جماعتوں کی حکومت کیخلاف پھوٹنے والے مظاہروں کا مرکز سنی اکثریتی علاقہ فلوجہ نہیں شیعہ اکثریتی علاقے ناصریہ، نجف اور کربلا ہیں۔ مظاہرین نے نہ صرف ایران مخالف نعرے بازی کرتے ہیں بلکہ ناصریہ میں ایرانی قونصل خانے، تمام پارٹی دفاتر اور سرکاری املاک کو بھی نذرِ آتش کردیا۔ کربلا میں مظاہرین نے بتایا وہ ایرانی قونصل کے سامنے مظاہرہ کرنے آئے تھے اور ان کا ایک مقصد وہاں سے ایرانی پرچم اتار کر عراقی پرچم لگانا تھا۔ عراق خونیں احتجاج

مظاہرین کے ایرانی عمارت پر دھاوے، ایران نواز ملیشیا کی جوابی فائرنگ

مظاہرین کو روکنے کیلئے عراقی فورسزکے علاوہ ایران نواز ملیشیا بھی استعمال ہوئی۔ نجف اور کربلا میں بھی حالات مختلف نہیں۔ ایران نواز ملیشیا نے نہ صرف مظاہرین پر فائرنگ اور تشدد کیا بلکہ مظاہروں کا ساتھ دینے والے میڈیا ہاؤسز پر بھی حملے کیے، انہیں کریک ڈاؤن کا نشانہ بنایا گیا۔ عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کی پیشکش کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے اگر سیاستدانوں کا ان کے متبادل اور اصلاحات پر اتفاق رائے ہو جاتا ہے تو وہ اپنا عہدہ چھوڑ دیں گے، تاہم مظاہرین کا کہنا ہے یہ کافی نہیں۔ وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے کہا کئی روز سے جاری مظاہروں کی وجہ سے اربوں ڈالر کا نقصان اور لوگوں کی روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے۔ عراق خونیں احتجاج

آیت اللہ خامنہ ای کا ایل عراق کیلئے بڑے پیغام پر مبنی ٹوئٹ

ایران نے بظاہر تو ان مظاہروں کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے اپنی ٹویٹ میں کہا ایران عراق دو ایسے ملک ہیں، جن کے دل اور روحیں ایک اللہ پر ایمان اور امام حسین علیہ السلام سے محبت کے رشتے میں بندھی ہیں۔ یہ بندھن ہر نئے دن کیساتھ مضبوط ہوگا۔ دشمنوں کی طرف سے نااتفاقی پیدا کرنے کی کوششں ناکام ہونگی۔ ایران کا سرکاری ردِعمل اپنی جگہ لیکن ان مظاہروں سے ایرانی حکومت کو دھچکا پہنچا ہے۔ بیروت سے دمشق اور بغداد سے صنعا تک معاملات کو کنٹرول میں لینے کی کوشش و خواہش کی قیمت اب ایران کو اپنے پڑوس میں چکانا پڑرہی ہے۔ عراق خونیں احتجاج

عراقی پارلیمنٹ کی برطرفی، سعودی عرب کے سرکاری خط کا متن

ایران نواز میڈیا نے سعودی عرب کا ایک سرکاری خط بھی شائع کیا جو ان کے مطابق سعودی عرب کی مرکزی خفیہ ایجنسی ”جنرل انٹیلی جنس پریزیڈنسی“ کا میمو ہے، جس کے مطابق سعودی حکومت عوامی احتجاج شروع ہونے کے کئی ہفتے پہلے سے مظاہروں اور ان کے نتیجے میں حکومت کی تبدیلی کی منصوبہ بندی کر رہی تھی۔ 8 اکتوبر کے اس میمو میں 25 اکتوبر کو چہلم امام حسین علیہ السلام کے بعد مظاہروں کیلئے اہلکاروں کو ہدایت کی گئی۔ اس دستاویز کے مطابق عراقی پارلیمنٹ کی برطرفی ریاض کی پہلی ترجیح ہے، دوسرا مقصد ایران نواز ملیشیا ”حشد الشعبی “کو تتر بتر کرنا ہے، اس کے بعد تیسرا مقصد ان مظاہروں کی آڑ میں عراقی فوج اور شیعہ یونٹوں کا خاتمہ ہے۔

سوشل میڈیا مہم میں بھی سعودی عرب کے ملوث ہونے کا شبہ

ایرانی میڈیا کے مطابق سعودی ایجنسی نے عراق میں موجود ایجنٹوں کو ہدایت کی کہ وہ مظاہروں کی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ سوشل میڈیا پر عراق میں ہونیوالے مظاہروں سے متعلق سب سے زیادہ ٹویٹس بھی عراق کے باہر سے کئے جارہے ہیں، ٹوئٹر پر چلائی گئی ٹارگٹڈ میڈیا مہم میں مظاہرین کو سرکاری املاک کی توڑ پھوڑ اور ان پر قبضے پر اکسایا جا رہا ہے۔ بیرون ملک سے میڈیا مہم کا یقین اس لئے بھی کیا جا رہا ہے کہ مظاہروں کے دوران توعراق کے ان علاقوں میں انٹرنیٹ سروسز معطل ہیں، لیکن اس بندش کے باوجود بھی ان مظاہروں سے متعلق کوریج عرب دنیا میں”ٹاپ ٹرینڈ“ ہے۔

مظاہروں کے درپردہ بیرونی ہاتھ کا پختہ شبہ 
بیرونی ہاتھ کا شبہ مظاہروں سے پہلے سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملوں کی وجہ سے بھی پختہ ہوتا ہے۔ سعودی تیل تنصیبات پر حملے جنوبی عراق کے شیعہ اکثریتی علاقے میں ایران نواز ملیشیا حشد الشعبی پر ڈرون حملے اور اس کے نتیجے میں سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملے ان مظاہروں کی وجہ بتائے جاتے ہیں۔ امریکہ ایران نواز عسکری گروہوں کو شام، لبنان اور عراق میں پابندیوں اور فضائی حملوں کا نشانہ بنا رہا ہے۔ عراق میں ہزاروں امریکی فوجی تعینات ہونے کے باوجود اسرائیل کا ایران نواز ملیشیا پر ڈرون حملہ عراقی حکومت کیلئے بھی خفت کا باعث بنا۔ عراق نے سرکاری طور پر اسرائیلی ڈرون حملوں پر کوئی بات نہیں کی لیکن امریکہ نے عراق اور شام پر اسرائیل کے 9 ڈرون حملوں میں سے عراق پر ایک ڈرون حملے میں اسرائیل کے ملوث ہونے کی تصدیق کی۔ عراق خونیں احتجاج

عراقی شیعہ دھڑوں اور حشد الشعبی میں بھی اختلافات

عراق میں ایران نواز حشد الشعبی پر اسرائیلی ڈرون حملے کے بعد عراق سے امریکی فوجی انخلا کے مطالبے نے بھی سر اٹھایا اور ایران نواز ملیشیا سید الشہدا بریگیڈ کے سیکریٹری جنرل ابو آلا الولائی نے کہا امریکی فوجی ہمارے ہاتھوں یرغمال بھی بن سکتے ہیں۔ عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی کیلئے اس صورتحال میں توازن برقرار رکھنا مشکل ہو چکا ہے۔ اسی وجہ سے جب ایران نواز ملیشیا نے عراقی سرزمین سے سعودی تیل تنصیبات پر حملے کیے تو عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے اس کی تردید کی۔ عراق کے اندر شیعہ دھڑے اور حشد الشعبی بھی اختلافات کا شکار ہیں۔ عراق خونیں احتجاج

ملیشیا گروہوں کو عراقی حکومتی کنٹرول میں لانے کا حکم

وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے حشد الشعبی سمیت تمام ملیشیا گروہوں کو عراقی کنٹرول میں لانے کا حکم جاری کیا تھا، جس پر 31 جولائی تک عملدرآمد ہونا تھا لیکن اس حکم نامے پر عمل نہیں ہوسکا۔ حشد الشعبی نے اپنی فضائیہ بھی تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا، جس پر بااثر عراقی شیعہ عالم مقتدیٰ الصدر نے شدید ردِ عمل دیا اور کہا عراق دوبارہ بدمعاش ریا ست بن جائیگا۔ مقتدیٰ الصدر نے تہران کا دورہ کرکے ایرانی سپریم لیڈر سے بھی ملاقات کی اور تحفظات سے آگاہ کیا۔

امریکہ اور اسرائیل کی مظاہرین کیساتھ ہمدردیاں

ادھرامریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے عراقی مظاہرین کے حق میں بیان دیکر اشارہ دیا کہ امریکہ بھی عراق میں حکومت کی تبدیلی چاہتا ہے۔ عراقی حکومت مظاہرین کے جائز مطالبات پر توجہ دے۔ رہی سہی کسر اسرائیلی وزیر خارجہ اسرائیل کاٹز نے ٹویٹ کرکے پوری کردی۔ اسرائیل کاٹز نے لکھا وقار اور آزادی کیلئے احتجاج کرنیوالے عراقی عوام سے اسرائیل کو ہمدردی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب ایران اور قاسم سلیمانی کے ہاتھوں عراقی مظاہرین کے قتل کی مذمت کرتے ہیں۔ عراق ایک طویل و شاندار تاریخ کا حامل اور اسرائیل میں رہنے والے عراقی یہودی اب بھی اپنے عراق میں قیام کو پیار سے یاد کرتے ہیں۔

سعودی عرب کی یمن میں امن کیلئے “ریاض ڈیل‌”

سعودی عرب نے اپنے اوپر سے عراق میں جاری مظاہروں کی پشت پناہی کا الزام ہٹانے کیلئے خطے میں امن کی ایک نئی کوشش کی ہے جسے”ریاض ڈیل “ کا نام دیا گیا ہے- یہ ڈیل یمن میں حکومت اور باغیوں کے درمیان اقتدار کی شراکت کا معاہدہ ہے، جس پر دستخط ریاض میں ہوئے۔ اس موقع پر ابوظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید النہیان، یمنی صدر عبدربہ منصور ہادی، جنوبی عبوری کونسل ( ایس ٹی سی ) کے صدر عیدرس الزبیدی، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، بعض عرب، مغربی ممالک کے حکام اور سفراء بھی موجود تھے۔ فریقین میں یہ معاہدہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کی نگرانی میں مذاکرات کے کئی ادوار کے بعد طے پایا۔ یمنی صدر عبدالربہ منصورہادی کی حکومت اور جنوبی عبوری کونسل کے درمیان اس سمجھوتے کے تحت ان کی عملداری میں گورنریوں کے درمیان تعاون کو مربوط بنایا جائیگا۔ عراق خونیں احتجاج

سعودی عرب اور ایران نواز یمن مخلوط حکومت کا قیام، معاہدے کا اہم نکتہ

معاہدے کے اہم نکات کے مطابق سات روز میں یمن کی قانونی حکومت کی جنوبی شہر عدن میں واپسی ہوگی، وزارت داخلہ اور دفاع کے تحت تمام فوجی اداروں کا اجتماع کیا جائیگا اور ایک موثر حکومت قائم کی جائیگی۔ اعلامیہ کے مطابق یمن میں حکومت اور باغیوں کے درمیان اقتدار کی شراکت کا طے پانیوالا ریاض معاہدہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کی یمن کے تذویراتی مفادات، سالمیت اور خود مختاری کے تحفظ کی خواہش کا عکاس ہے۔ عراق خونیں احتجاج

امریکہ سمیت خطے کے تمام ممالک جنگ کے دہانے پر، جنگ چھڑنا

انتہائی مشکل فیصلہ ، غلطی کا نتجیہ پورے خطے کی تباہی و بربادی

عراقی عوام کے مظاہروں کو پہلے ہی بیرونی مدد اور حمایت کے اشارے مل چکے ہیں، ان حالات میں ایران نواز ملیشیا حکومت کو برطرف کرکے کنٹرول خود بھی سنبھال سکتی ہے۔ لیکن ایسا کوئی بھی قدم مشرق وسطیٰ اور عراق کو نئے بگاڑ کی طرف لے جائیگا۔ سعودی عرب اپنی تیل تنصیبات پر حملوں کا بدلہ لینا چاہتا ہے لیکن مکمل جنگ بھی نہیں چاہتا۔ ایران بھی کھلی جنگ سے گریز کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ امریکہ ایران پر جنگ مسلط کرنے کی پوزیشن میں نہیں کیونکہ اس صورت میں خلیج میں اس کے اتحادی ایرانی نشانے پر ہونگے اور اتحادی یہ خطرہ مول لینے کو تیار نہیں۔ اس سب کے باوجود مشرق وسطیٰ جنگ کے دہانے پر بیٹھا ہے۔ عراق میں امریکی فوجیوں کیخلاف ایران نواز ملیشیا کی کوئی کارروائی، حزب اللہ کا اسرائیل پر حملہ، اسرائیل کا ایران کے اتحادی گروہوں پر شام، لبنان یا عراق میں حملہ نئی جنگ چھیڑ سکتا ہے۔

عراق خونیں احتجاج