62

تمام ملاقاتیں بے نتیجہ،ڈیڈ لاک برقرار ،حکومتی کمیٹی نے مذاکرات کا اختیار پرویز الہٰی کو دیدیا

Spread the love

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نتیجہ خیز مذاکرات

اور جے یو آئی ف کے دھرنے کے خاتمے کیلئے کوئی درمیانی راستہ نکالنے

کی خاطر ملاقاتوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے تاہم ابھی تک ہونے والی تمام ملاقاتیں

اور مذاکرات بے نتیجہ رہے ہیں مسلم لیگ ق کے رہنما اور سپیکر پنجاب اسمبلی

چودھری پرویز الہٰی نے گزشتہ چوبیس گھنٹون مین مولانا فضل الرحمن سے تین

ملاقاتین کی ہیں ۔ بدھ کے روز ہونے والی ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو

کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، مختلف تجاویز بھی

زیر غور ہیں۔چودھری پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ کئی چیزیں ساتھ ساتھ چل رہی

ہیں، تھوڑا صبر اور محنت کی ضرورت ہے۔ محنت اس لیے ہو رہی ہے تا کہ

مثبت طریقے سے معاملہ منطقی انجام کو پہنچے۔ ہمارے مقصد کو کامیابی ملے

گی لیکن ٹائم لگے گا۔بدھ کے روز حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس

مین مذاکراتی کمیٹی کے ارکان اپوزیشن سے مذاکرات کے حوالے سے تمام

اختیارات پرویز الہٰی کے حوالے کریئے۔بعد ازاںچوہدری پرویز الہی نے وزیراعظم

عمران خان سے رابطہ کر کے مولانا فضل الرحمن سے ملاقاتوں کے حوالے سے

آگاہ کیا۔چوہدری پرویز الہی نے ڈیڈ لاک کے خاتمے کے لیے تجاویز پیش کیں۔

ذرائع کے مطابق پرویز الٰہی نے تجویز دی کہ ماحول ساز گار ہونے تک قومی

اسمبلی کااجلاس نہ بلایا جائے۔ چوہدری پرویز الٰہی نے کہاکہ اسیر ممبران کے

پروڈکشن آرڈر جاری کیے جانے چاہیے، اپوزیشن کا اعتماد بحال کیا جائے، پھر

مطالبات پر بات کی جائے۔انہوںنے کہاکہ وزرا کو اپوزیشن کے خلاف سخت بیان

بازی سے اجتناب کرنا چاہیے، مولانا کوئی عہدہ نہیں چاہتے، مطالبات پر سنجیدہ

بات چیت کی جائے۔ انہوںنے کہاکہ ڈیڈ لاک کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں

جاری رکھوں گا، مو۔ چوہدری برداران نے تمام پیش رفت پر وزیراعظم کو آگاہ کر

دیا۔ وزیراعظم عمران خان نے چوہدری برادران کے مفاہمتی کردار کی تعریف کی

۔ وزیر اعظم نے کہاکہ آپ کی صلح جو اور شرافت کی سیاست کا شروع سے قائل

ہوں۔ دوسری طرف حکومت کی مذاکراتی کمیٹی نے مذاکرات کے حوالے سے تمام

اختیارات چودھری پرویز الہٰی سونپ دیئے ہیںدریں اثناجمعیت علمائے اسلام ف

کی مرکزی عاملہ اور صوبائی امراء نظماء کا اجلاس مولانا فضل الرحمان کی

سربراہی میں اْن کی رہائش گاہ پر ہوا جس میں مولانا فضل الرحمان کی رات گئے

چوہدری برادران سے ملاقات پر بات چیت کی گئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں

مولانا عبدالغفور حیدری، مولانا عطاء الرحمان اور اکرم خان درانی شریک ہوئے،

اجلاس میں آزادی مارچ کی صورت حال اور انتظامی معاملات پر مشاورت کی

گئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں حکومت سے ہونے والے مذاکرات اور حکومتی

تجاویز پر بھی مشاورت کی گئی اور رہبر کمیٹی کی سفارشات پر غور بھی کیا گیا۔

بعد ازاںمولانا فضل الرحمن نے پنڈال میں کارکنوں سے ملاقات کی اور کچھ دیر ان

کے ساتھ رہے ۔ بدھ کو جے یوآئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن پنڈال میں

پہنچے اور کارکنوں سے ملاقات کی مولانا فضل الرحمن کچھ دیر کارکنوں کے

ساتھ رہے اور پھر دوبارہ کنٹینرپر چلے گئے ۔دوسری طرف آزادی مارچ کے

شرکاء موسمی بیماریوں میں مبتلا ہونا شروع ہوگئے، گزشتہ بارہ گھنٹوں کے

دوران میڈیکل کیمپ میں ڈھائی سو مریضوں کا علاج اور ادویات فراہم کی گئیں۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الغفور حیدری نے کہا

ہے کہ وزیراعظم سے کوئی رعایت نہیں چاہتے ان کی پیشکش کو مسترد کرتے

ہیں، وزیر اعظم کا استعفیٰ چاہتے ہیں ہمارا دھرنا نہیں ، آزادی مارچ ہے ، دھرنا

ہوسکتا ہے ڈی چوک پر ہو۔ مولانا عبد الغفور حیدری نے کہاکہ ہمارے کارکن

ہمارے قابو میں ہیں ، کنٹینر ہٹائے جائیں،۔ انہوںنے کہاکہ ذوالفقار بھٹو تین ماہ بعد

دوبارہ الیکشن کے لیے تیار ہوگئے تھے ان کو تو حکومت میں پندرہ ماہ ہوگئے۔

انہوںنے کہاکہ ادارے اس حکومت کو کب تک چلاتے رہیں گے۔ جبکہ جے یو آئی(

ف) کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں کے آزادی مارچ کے چھٹے روز بھی

شرکا بدستور ایچ نائن گرا ونڈ میں موجود رہے،اسلام آباد میںگرج چمک کے ساتھ

بارش اور تیز ہوائوں کے باعث سرد موسم نے آزادی مارچ کے شرکا کی

مشکلات میں اضافہ کر دیا ،تیز ہوائیں چلنے سے ایچ نائن کے میٹرو ڈپو گرانڈ

میں موجود شرکا کے کئی خیمے بھی اکھڑ گئے۔ جس کے نتیجے میں کچھ لوگوں

نے پولیس کے کنٹینرز میں پناہ لی تو بعض شرکا کو رات میٹرو اسٹیشن میں

گزارنی پڑی۔بارش کے بعد جلسہ گاہ میں ہر طرف کیچڑ ہوگیا جس نے آزادی

مارچ کے مظاہرین کو مشکلات میں ڈالے رکھا۔