61

عراق، مظاہروں میں شدت، سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ، مزید 13 جاں بحق

Spread the love

بغداد(جتن آن لان مانیٹرنگ ڈیسک) عراق میں ہونیوالے حکومت مخالف مظاہروں کو منتشر کرنے کیلئے سیکیورٹی فورسز نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں مزید 13 مظاہرین جاں بحق ہوگئے، اب تک ہونیوالی ہلاکتوں کی تعداد 260 سے تجاوز کرگئی۔ عراق مظاہرے

یہ بھی پڑھیں : مظاہرے سول نافرمانی میں تبدیل، ایرانی قونصلیٹ پر حملہ، پرچم نذرآتش

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق عراق میں ہونیوالے حکومت مخالف مظاہروں نے ایک بار پھر شدت اختیار کرلی اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 13 افراد سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے جاں بحق ہوئے۔

مظاہرین کی زیادہ تر ہلاکتیں بغداد میں ہوئیں، میڈیا رپورٹ

رپورٹ کے مطابق جاں بحق ہونیوالے افراد کو دارالحکومت بغداد میں نشانہ بنایا
گیا، حالیہ ہلاکتوں کے بعد اب تک مجموعی طور پر جاں بحق ہونیوالے مظاہرین کی تعداد 260 سے تجاوز کرگئی۔ یاد رہے عراق کے مختلف علاقوں میں یکم اکتوبر سے حکومت مخالف مظاہروں کا آغاز ہوا جو ہر گزرتے دن کیساتھ شدت اختیار کرتا جارہا ہے- عراق مظاہرے

ملک میں مکمل نئے انتخابات، مظاہرین کا مطالبہ

مظاہرین نے حکومت پر کرپشن کا الزام عائد کرتے ہوئے وزیراعظم سے فوری عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہوا ہے۔ گزشتہ دنوں عراقی صدر نے اپنے سرکاری خطاب میں ملک بھر میں نئے انتخابات کرانے کا عندیہ دیتے ہوئے بتایا تھا وزیر اعظم عادل عبدالمہدی عہدہ مشروط طور پر چھوڑنے کیلئے تیار ہیں۔ لیکن مظا1%D91ظی ٧%%D ګی ԁ D8Eعک %D5%8%ت AF ػ%چܒ ۋں ԁ ًک BA9Ռ %8A ئ %A%D86%A8%7%ثت ؒ DBE%88%A ں%ہ ٺ-
D8A%B8 %2 ے9%1%D8C%B8%5 و%ع848ٯ ؽ8المہدی بھی اپنا متبادل اور قابل عمل اصلاحاتی ایجنڈا سامنے لانے کی شرط پر عہدہ چھوڑنے کا عندیہ دے چکے ہیں-

امریکہ، اسرائیل کی مظاہرین کی حمایت، عراقی حکومت پر تنقید

امریکہ اور اسرائیل نے بھی مظاہرین کی کھل کر حمایت کرتے ہوئے عراقی حکومت کو مظاہرین کے مطالبے پر عمل کرنے کا مشورہ دیا ہے- دونوں ایران مخالف ممالک کے ایسے بیانات اس جانب اشارہ دے رہے ہیں کہ دال میں کچھ کالا نہیں ساری دال ہی کالی ہے-

عراق مظاہرے