59

آزادی مارچ،مولانا فضل الرحمن کا اجتماع کو 12ربیع الاول کو سیرت طیبہ کانفرنس میں تبدیل کرنے کااعلان

Spread the love

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل

الرحمن نے آزادی مارچ کے اجتماع کو 12ربیع الاول کو سیرت طیبہ کانفرنس میں

تبدیل کرنے کااعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایک سال میں تین بجٹ پیش

کرکے بھی محصولات کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام حکومت کو اب ایک دن کی

بھی مہلت نہیں دے سکتے،ہم اسی طرح ڈٹے رہے تو یقینا اپنے مقاصد میں کامیاب

ہوں گے، آزادی مارچ میں وکلا کی شرکت نے ثابت کر دیا مارچ قانونی لحاظ سے

بھی جائز ہے، یہاں یکطرفہ احتساب نہیں چلے گا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے

خلاف ریفرنس بد نیتی پر مبنی ہے ،یہاں عدل وانصاف نہیں، حکمرانوں کے

احتساب کیلئے نیب بے بس ہے،ایسی آئینی حکومت چاہتے ہیں جو آئین پاکستان کی

عکاس ہو۔ بدھ کو آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل

الرحمن نے کہاکہ میرے لئے سب سے تکلیف دہ مرحلہ یہ تھا جب رات کو بارش

برس رہی تھی اور آپ کھلے آسمان تلے استقامت کا پہاڑ بنے ہوئے تھے ،آپ نے

جس استقامت کیساتھ ساری رات اور دن بھر ٹھنڈی ہوائوں اور ٹھنڈے موسم کو

برداشت کیا یہ اللہ کی طرف سے ایک امتحان تھا لیکن دنیا کیلئے پیغام تھااور

پاکستان کے حکمرانوں کیلئے پیغام تھا کہ یہ اجتماع تما ش بینوں کا نہیں ،یہ

اجتماع کوئی پکنک کا اجتماع نہیں ، یہ اجتماع کسی عیاشی کااجتماع نہیں ، یہ

اپنے نظرئیے اور موقف کے ساتھ استقامت کے ساتھ کھڑے ہونے والوں کااجتماع

ہے اور اس استقامت میں آج اس امتحان سے کامیابی سے گزرے ہیں اور انشاء اللہ

آنے والے امتحانات کو بھی اسی کامیابی کے ساتھ عبور کریں گے اور منزل پر دم

لینگے ۔انہوںنے کہاکہ اس ملک میں ہم ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں پوری

قوم حکمرانوں کے اقتدار میں زندگی کو شرمندگی تصور کررہے ہیں۔ انہوںنے

کہاکہ تمام سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں نے اپنے خیالات کا ذکر کیا ہے اور آج

بھی اپنے خیالات کا ذکر کررہے ہیں ، یہ ربیع الاول کا مہینہ ہے اور انشاء اللہ

12ربیع الاول کو آزادی مارچ کوسیرت طیبہ کانفرنس میں تبدیل کر دینگے ۔

انہوںنے کہاکہ نبی کریم ؐ نے قوم کو یہی بتایا کہ خوف اور ایمان دونوں اکٹھے نہیں

رہ سکتے ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ اس وقت پاکستان مالیاتی بحران سے

گزر رہا ہے اور ہم آنے والے مستقبل میں مزید مالیاتی بحران کی طرف جائیں گے

،اگر اگلا بجٹ ان نا اہلوں کے حوالے ہوگیا تو پاکستان مکمل طورپر بیٹھ جائے گا ۔

انہوںنے کہاکہ ان حکمرانوں نے ایک سال میں تین بجٹ پیش کئے اور تین بجٹ

پیش کر کے محصولات کا ہدف حاصل نہیں کر سکے اور سالانہ بجٹ میں آج

پاکستان کو دیوالیہ پن کے دہانے پر کھڑا کر دیا ہے اور اگلا بجٹ بھی یہ پیش کر

تے ہیں تو پھر ہم دیوالیہ پن کی طرف نہیں دیوالیہ قرار دیئے جائیں گے اور ہمیشہ

معیشت کا جہاز سمندر غرق ہو جائیگا انہوںنے کہاکہ ہم ملک کو بچانے کیلئے آئے

ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان سویت یونین کے مقابلے تگڑا ملک نہیں وہ بہت بڑا

ملک تھا ،دنیا کی بڑی طاقتوں میں سے امریکہ کے مقابلے میں برابر کی طاقت

تھی ،جہاد افغانستان کی وجہ سے چودہ سالوں میں سویت یونین اپنا وجود برقرار

نہیں رکھ سکا ،آج ہم اسی صورتحال سے گزر رہے ہیں ،اگر ملک کو بچانا ہے تو

نا اہل حکمرانوں کو مزید قت دینے کیلئے تیار نہیں ۔ انہوںنے کہاکہ میں اپنی وکلاء

برادری ، سپریم کورٹ کے وکلاء ، پاکستان بار کونسل کے نائب صدر ، سپریم

کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور کابینہ کے اراکین کو آزادی مارچ میں

شرکت کر نے پر خوش آمدید کہتا ہوں ۔ انہوںنے کہاکہ وکلاء برادری نے آزادی

مارچ میں شرکت کر کے ہمیں اپنی تائید سے نوازا ہے ،یقینا اس شعبے سے وابستہ

سینئر وکلاء اس آزادی مارچ میں شریک ہوئے تو اس کا معنی یہ ہے کہ آزادی

مارچ قانونی اور آئینی بات سے جائز ہے ان کے آنے سے آئینی اور قانونی سند

حاصل ہوتی ہے ،ہمیں تقوت ملی ہے شاید اتنی تقوریت کسی اور طرف نہیں ملی ہو

۔انہوںنے کہاکہ پاکستان میں آزادی کہاں ہے ؟ جسٹس شوکت صدیقی نے ایک

فیصلہ دیا اور وہ کچھ قوتوں کیلئے تکلیف دہ تھا تو اس کا انجام کیا کیا گیا ؟آج

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف موجودہ حکومت کی

خواہش پر ریفرنس چل رہا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اس حکومت

کے خواہشات کے برعکس فیصلے دئیے تھے۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ دنیا

کو کیا پیغام دے رہے ہیں کہ کوئی جج عوام کے حق میں فیصلہ دیتا ہے اور

حکمرانوں کے مفاد کے خلاف جاتا ہے تو اس کے خلاف ریفرنس دائر کردیا جاتا

ہے۔انہوں نے کہا کہ یہاں عدل وانصاف نہیں، حکمرانوں کے احتساب کیلئے نیب

بے بس ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ ہمیںکہا جاتا ہے کہ آپ احتجاج ضرور

کریں اور عدالتوں کے فیصلوں کی روشنی میں کریں ، عدالتوں کے فیصلے کون

سے ہیں ؟ایک فیصلہ جسٹس شوکت صدیقی نے کیا تھا آج اس کا انجام کیا کر دیا ؟

ایک جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کیا تھا اور اس کے فیصلوں کے خلاف سپریم

کورٹ میں نظر ثانی کی درخواست دائر کی جاتی ہے ، نظر ثانی درخواست دائر

کر نے کا مطلب ہے کہ عدالت کے فیصلے غلط تھے اور مجھے کہتے ہوں کہ آپ

عدالتوں کے فیصلے پر عمل کریں ۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ ہم وکلاء کے

مطالبات کو تسلیم کر تے ہیں اور بد نیتی پر ریفرنس واپس لینے کا مطالبہ کرتے

ہیں ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ چار سو اداورں کو ختم کر نے کی بات کی گئی

ہے ، چار سو اداروں کے ساتھ ہزاروں لوگوں کاروز گار وابستہ ہے تم نے صرف

ووٹ حاصل کر نے کیلئے جھوٹ بولا تھا ، کہتے تھے ہم کروڑ نوکریاں دینگے

،جھوٹ کی بنیاد پر قائم کی گئی حکومت کو نو جوان تسلیم نہیں کرتے ، کیا

حکومت کو گرانا قومی فرایضہ نہیں ، ہم قومی فریضہ کو ادا کر نے کیلئے نکلے

ہیں یہاں کوئی رات کو مجرے نہیں ہورہے ہیں ،خدا کا فضل ہے کہ یہاں پر قوم

کے محترم لوگ ہیں ،عزت دار لوگ ہیں یہ کوئی پکنک منانے کیلئے نہیں آئے ہیں

،یہ کوئی عیاشی کیلئے نہیں آئے ہوئے ہیں ،ماضی میں جو کچھ مناظر دیکھے

تھے میری شرافت اجازت نہیں دیتی کہ اس کا تذکرہ کروں ۔ انہوںنے کہاکہ چار سو

محکموں کو ختم کر نے کا کہا گیا،کروڑوں نوکریاں تو دور کی بات ،لاکھوں

لوگوں کو بے روز گار کر دیا گیا ، پچاس لاکھ گھر بنانے کی بات ہوئی ہے ،

تجاوزات کے نام لاکھوں گھر گرا دیئے گئے لیکن ایک نئی اینٹ نہیں رکھی گئی ۔

انہوںنے کہاکہ اخبارات کے ذریعے خبریں آرہی ہیں افغانستان میں پاکستان کے

سفارتخانے کے عملے کو ہراساں کیا جارہا ہے ،یہاں ہمارا دفتر خارجہ خاموش ہے

،یہاں کوئی پوچھ گچھ نہیں ہے ،کس طرح لوگ پاکستان سے باہر جا کر نمائندگی

کرینگے جن کو اپنی حکومت کی طرف سے تحفظ بھی حاصل نہیں ہے، یہاں کوئی

احتجاج بھی نہیں ہورہاہے ۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ ہم نے اس ملک کا بہت

نقصان کر لیا ہے ملک مزید نقصان بر داشت کر نے کیلئے متحمل نہیں ۔انہوںنے

کہاکہ نومبر آرہا ہے اور یہ علاقہ اقبال کی پیدائش کا دن ہے ، یہ علامہ اقبال کی

پیدائش کے دن کرتار پور بارڈر کھول رہے ہیں ،پتہ نہیں ان کا کیا پروگرام ہے ؟

حج پر اخراجات 5 لاکھ روپے کردیئے گئے اور سکھوں کے لئے پاکستان میں

انٹری مفت ہوگی،کیا ہم آئندہ یہ دن اقبال ڈے کی بجائے رنجیت سنگھ اور بابا نانک

کے دن کے طور پر تو نہیں منائیں گے۔انہوںنے کہاکہ پاسپورٹ کی شرط ختم کر

دی گئی ہے ایک طرف کہتے ہیں کشمیر کے محاذ پر بڑی ٹینشن ہیں پھر کرتارپور

پرپینگیں بڑھا ئی جارہی ہیں ، ان کی پالیسی میں تضاد ہے۔ انہوںنے کہاکہ یہ قومی

مطالبہ ہے قوم پسپا ہونے کوتیار نہیں ہے ، صوبے وسائل چاہتے ہیں ،اپنا حق

مانگ رہے ہیں کسی کو اس بات کا کوئی حق حاصل نہیں کہ کسی صوبے کو ا

پنے وسائل سے محروم کر سکے۔انہوںنے کہاکہ انشاء اللہ یہ سفر جاری ہے اور

جاری رہے گا۔ انہوںنے کہاکہ آزاد مارچ کے شرکاء کی استقامت کو سلام پیش کرتا

ہوں ۔