45

بجلی کی قیمت میں پھر 2 روپے 37 پیسے فی یونٹ اضافہ

Spread the love

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی

کی قیمت میں 2 روپے 37 پیسے فی یونٹ اضافہ کردیا۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ

ایجنسی نے نیپرا کو بجلی کی قیمت میں اضافے کی درخواست دی تھی جس پر

سماعت کے بعد نیپرا نے بجلی کی قیمت میں اضافے کی منظوری دی۔نیپرا کی

جانب سے بجلی کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے جس کے مطابق

بجلی کی قیمت میں 2 روپے 37 پیسے اضافے کی منظوری ستمبر کی فیول پرائس

ایڈجسٹمنٹ کی مد میں دی گئی ہے۔بجلی مہنگی ہونے سے صارفین پر 33 ارب

روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔نیپرا کی جانب سے بجلی کی قیمت میں اضافے کا

اطلاق کراچی کے صارفین پر نہیں ہوگا۔۔نیپرا کے مطابق ستمبر میں بجلی کی

پیداواری لاگت 5.21 روپے فی یونٹ رہی جبکہ فرنس فیول لاگت 2.84 روپے فی

یونٹ تھی۔ صارفین سے نومبر کے بلوں میں وصولیاں کی جائیں گی۔نیپرا نے

سینٹرل پاور پرچیزنگ اتھارٹی (سی پی پی اے )سے استفسار کیا کہ ستمبر میں

فرنس آئل سے مہنگے پاور پلانٹس کیوں چلائے؟ جس کے جواب میں سی پی پی

اے حکام کا کہنا ہے کہ اگر فرنس آئل پلانٹس نہ چلاتے تو اضافی لوڈشیڈنگ کرنا

پڑتی۔ جس پرنیپرا نے مہنگے فرنس آئل سے پیدا بجلی کوماہانہ فیول ایڈجسمنٹ

میں شامل کرنے سے انکار کردیا اور پی پی اے کے فرنس آئل والے پلانٹس

چلانے کا جوازمسترد کر دیا سی پی پی اے نے ستمبرکیلئے دو روپے ستانوے

پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست کی تھی۔ نیپرا کے پوچھنے پرکہ ستمبر میں

فرنس آئل سے مہنگے پاور پلانٹس کیوں چلائے سی پی پی اے حکام نے بتایا کہ

فرنس آئل پلانٹس نہ چلاتے تواضافی لوڈشیڈنگ کرنا پڑتی۔گزشتہ حکومت میں لوڈ

مینجمنٹ کو فرنس آئل پرترجیح دی جاتی تھی تاہم موجودہ حکومت کی پالیسی ہے

کہ جیسے بھی ممکن ہو زیرو لوڈ شیڈنگ کریں گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں

سال ستمبر میں بارہ سو میگاواٹ زیادہ بجلی پیدا ہوئی ۔نیپرا حکام کا کہنا تھا کہ

ستمبر کیلئے بجلی کی قیمت میںدو روپے سنتیس پیسے فی یونٹ اضافہ بنتا ہے جس

سے صارفین پر33 ارب روپے کا بوجھ پڑے گا  تاہم فرنس آئل کے باعث طلب

شدہ پچپن پیسے کا اضافہ صارفین پرمنتقل نہیں کیا جارہا اس کا فیصلہ سی پی پی

اے کی طرف سے ٹھوس جواب پر کیا جائے گا جس سے صارفین کو سات ارب

روپے کا ریلیف حاصل ہو گا۔