49

آج پھر بڑی بیٹھک، مولانا کا حکومت خاتمہ سے کم پرآمادہ نہ ہونے کا اعلان

Spread the love

اسلام آباد،لاہور(جتن سٹاف رپورٹر، جنرل رپورٹر) حکومتی مذاکراتی اوراپوزیشن کی رہبر کمیٹیوں کے درمیان ہونیوالے مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوگئے۔ دونوں اطراف کی مذاکراتی کمیٹیوں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ آج بروز منگل دوپہر تین بجے ایک دفعہ پھر مذاکرات کا دور ہوگا۔ پیر کو حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ اور وزیردفاع پرویز خٹک نے رہبر کمیٹی کے سربراہ اکرم خان درانی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا ہم نے مذاکرات میں اپوزیشن کے مطالبات سنے اور اپنی تجاویز سامنے رکھی ہیں۔ پرویز خٹک کے مطابق اب دونوں کمیٹیاں اپنے بڑوں کے سامنے ساری صورتحال رکھیں گی، جس کے بعد آج دوبارہ بیٹھک ہو گی، تمام متعلقہ امور پر تبادلہ خیال کیا جائیگا۔ امید ہے اس ملاقات کا اچھا نتیجہ نکلے گا۔

یہ بھی پڑھیں : آزادی مارچ ،اپوزیشن کا مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

اپوزیشن جماعتوں کی رہبر کمیٹی کے کنوینر اکرم خان درانی کا اس موقع پر کہنا تھا مذاکرات کا دوسرا دور آج میری رہائش گاہ پر ہوگا۔ حکومتی کمیٹی کے سامنے وزیراعظم کے استعفے سمیت اپنے تمام مطالبات رکھے اور ان پر بھی بات ہوئی ۔

چوہدری برادران کی مولانا فضل الرحمن سے ملاقات

مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت اور سپیکر قومی اسمبلی چودھری پرویز الہٰی نے گزشتہ روز مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد صحافیون سے گفتگو میں چودھری پرویزالہٰی نے کہا مولانافضل الرحمان سے دیرینہ تعلقات ہیں۔ جے یو آئی اورحکومت کے درمیان معاملات اور مسائل جلد حل ہونے چاہئیں۔ ہماری ہرممکن کوشش ہے ماحول میں بہتری لائی جائے- نیت اچھی ہوتو چیزیں جلد ٹھیک ہوجاتی ہیں۔ نہیں چاہتے موجودہ صورتحال کی وجہ سے نئےمسائل پیدا ہوں- مایوسی گناہ ہے ہم نے مایوسی کی طرف نہیں جانا۔ اس موقع پر اکرم درانی نے کہا چودھری برادران کی کوششوں کی سراہتے ہیں-

ہم عالمی برادری میں پاکستان کو تنہائی سے نکالنا چاہتے ہیں،سربراہ جے یو آئی (ف)

قبل ازیں دھرنے سے خطاب میں جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا اے پی سی اجلاس میں تمام سیاسی جماعتوں کے مارچ میں شمولیت سے متعلق شکوک و شبہات دم توڑ گئے- 2014 میں انہوں نے ایک دھرنا دیا، جس میں حکومت اور اپوزیشن ایک طرف تھیں اور عمران خان ایک طرف تھا، خدا جانے یہ کس کا نمائندہ ہے- عمران خان پہلے سلیکٹڈ تھے اب ریجیکٹڈ ہوگئے ہیں- ہم پاکستان کو طاقتور، عالمی برادری کی نگاہ میں محترم دیکھنا چاہتے ہیں- ناجائز حکمران کے ہوتے معاملات ٹھیک نہیں ہوں گے- انہیں جانا ہوگا اور اس سے کم پر بات نہیں بنے گی- ہم نے جو آواز بلند کی وہ پوری قوم کی آواز ہے- ہم عالمی برادری میں پاکستان کو تنہائی سے نکالنا چاہتے ہیں۔ یہ سوچتے تھے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اس کیلئے رحمت بنیں گے، مسئلہ کشمیر حل ہوگا- مودی کامیاب ہوگیا اور جو کشمیر کیساتھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے- لیکن میں پیغام دینا چاہتا ہوں کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے- حکومت خاتمہ مولانا اعلان

خارجہ پالیسی ناکام، داخلی طور پر پاکستان غیر مستحکم ، ادارے اضطراب میں ہیں

حکومت نے پاکستان کو قرضوں میں جکڑ دیا- پوری طرح آئی ایم ایف کےشکنجے میں ہیں- جتنا وقت ان کو ملے گا ایک ایک دن پاکستان کے زوال کا دن ہوگا۔ خارجہ پالیسی انکی ناکام، داخلی طور پر پاکستان غیر مستحکم ، تمام ادارے ملکی استحکام سے متعلق اضطراب میں ہیں۔ ہم آئین کو میثاق ملی سمجھتے ہیں اور آئین سے باہر کوئی بات نہیں کر رہے- پاکستان میں غیر منتخب لوگ اقتدار پر قابض ہوں گے تو اضطراب ہوگا، وزیراعظم سے ذاتی اختلاف نہیں قومی مسئلہ ہے- کم سے کم وزیراعظم کا استعفیٰ اور زیادہ سے زیادہ اسمبلیوں کی تحلیل چاہتے ہیں- اصلاحات کے بغیر الیکشن منظور نہیں۔ایسے الیکشن کا کیا فائدہ جس میں پھر ایک فوجی پولنگ کے اندر اور دوسرا باہر کھڑا ہو۔ موجودہ الیکشن ایکٹ پر بھی عمل کرلیا جائے تو نتائج بہتر ہوسکتے ہیں۔

معاہدہ ہوا تو ضامن کی ضرورت نہیں

اے پی سی نے طے کردیا ہے مارچ میں بیٹھے کارکن اب سب کے کارکن ہیں۔ مقتدر حلقوں سے موجودہ صورتحال میں کوئی ملاقات نہیں ہوئی ۔ مریم نواز کی ضمانت کی خبر سنی ہے ابھی رہا نہیں ہوئی، مریم نواز مارچ میں شرکت کریں گی یا نہیں ابھی نہیں کہہ سکتا۔ معاہدہ ہوا تو ضامن کی ضرورت نہیں ۔ تحریک عدم اعتماد ہی نہیں استعفیٰ بھی تو آئینی آپشن ہے- ڈی چوک سے پرانا تعفن ختم نہیں ہوا۔ کورکمانڈرز کانفرنس نے تناؤ نہ ہونے کی بات کرکے تصدیق کردی تناو موجود ہے۔ حکومت خاتمہ مولانا اعلان

مولانا نے ٹریلر چلایا تو حکومت کے ہاتھ پاﺅں پھول گئے ہیں، پرویز اشرف، احسن اقبال

دھرنا سے خطاب میں پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا ہم پاکستان کو گرداب سے نکالنے کیلئے یہاں اکٹھے ہوئے ہیں، آج ہر شہر ی کا اتفاق ہے حکومت ان کیلئے مشکلات لے کر آئی ہے- ابھی تو مولانا نے ایک ٹریلر چلایا تو حکومت کے ہاتھ پاﺅں پھول گئے ہیں- مسلم لیگ (ن) کے رہنما سردار ایاز صادق نے کہا حکومت نے سارا زور مسلم لیگ (ن) کیخلاف کارروائیوں میں لگایا ہوا ہے، مزدور سمیت ہر طبقہ اس حکومت سے تنگ ہے، گلے گھونٹ کر پاکستان نہیں چلا سکتے- اب تمہارے جانے کا وقت آگیا ہے- تم لوگوں سے زیادتی کر رہے ہو، تمہیں لوگوں کی آہ لگے گی-

ان ہاﺅس تبدیلی اور مڈٹرم الیکشن، مسلم لیگ ن کا مشاورتی اجلاس میں فیصلہ

دوسری طرف اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کی زیر صدارت ن لیگ کا اہم مشاورتی اجلاس ہوا، جس میں ملک کی موجودہ صورتحال، آزادی مارچ ، دھرنا، پارٹی قائد نوازشریف کی صحت اور علاج سمیت دیگر امور پر تفصیلی غورخوض کیا گیا- اجلاس کے بعد ن لیگ کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے آزادی مارچ کی سیاسی حمایت جاری رکھیں گے، تاہم کسی بھی ماورائے آئین، پر تشدد احتجاج اور غیر جمہوری اقدام کی حمایت نہیں کریں گے۔ نوازشریف کے اصولوں کی روشنی میں (ن) لیگ عمران خان سے استعفی لینے کیلیے بھرپور کردار ادا کرے گی۔ اناڑی حکومت نے معیشت تباہ، ملک کو تنہا کر دیا ہے- ملک میں چوردروازوں سے قانون سازی کی جارہی ہے، ایوان صدر آرڈیننس فیکٹری بن چکا ہے۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ان ہاﺅس تبدیلی اور مڈٹرم الیکشن پر زور دیں گے-

حکومت خاتمہ مولانا اعلان