38

آزادی مارچ ،اپوزیشن کا مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

Spread the love

اسلام آباد لاہور (سٹاف رپورٹر) اسلام آباد جے یو آئی کی سربراہی میں احتجاج

اور دھرنے کے حوالے سے حکومت کی مذاکراتی کمیٹی اور اپوزیشن جماعتوں

کی رہبر کمیٹی کے درمیان ملاقات ہوئی ۔ ملاقات کے بعد حکومتی کمیٹی کے

سربراہ پرویز خٹک نے کہا کہ ملاقات ہوئی جس میں جمیعت علمائے اسلام کے

دھرنے کے بارے میں بات چیت ہوئی۔ پہلے مرحلے میں ہم کامیاب ہوئے، ہم نے

رہبر کمیٹی کی باتیں اوران کے مطالبات سنے ہیں ، یہ مطالبات ہم جاکر اپنی قیادت

کے سامنے رکھیں گے آج تین بجے دوبارہ مذاکرات ہو نگے امید ہے اچھے نتائج

نکلیں گے دونوں کمیٹیوں نے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ اپوزیشن کمیٹی

کے سربراہ اکرم درانی کا کہنا تھا کہ پرویز خٹک کو رہبر کمیٹی کی طرف سے

خوش آمدید کہتا ہوں۔ آج ہم نے اپنے مطالبات ان کے سامنے رکھے ہیں۔ حکومتی

کمیٹی سے کل دوپہر میرے گھر پر دوبارہ ملاقات ہوگی۔اس سے قبلمولانا فضل

الرحمان کے زیر صدارت ہونے والی اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی)

میں دھرنا مزید دو دن تک جاری رکھنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔پیپلز پارٹی اور ن

لیگ نے بھی دھرنا مزید دو دن تک جاری رکھنے کی حمایت کر دی ہے۔ دونوں

جماعتیں پشاور موڑ میں دھرنا دینے کی مخالف نہیں بلکہ ڈی چوک جانے کی

مخالف ہیں۔ذرائع کے مطابق اے پی سی میں بھی دونوں بڑی جماعتوں نے ڈی

چوک جانے کی مخالفت کی۔ اے پی سی میں اتفاق کیا گیا کہ مذاکراتی کمیٹیاں جب

تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچتیں، دھرنا جاری رہے گا۔آل پارٹیز کانفرنس (اے پی

سی) نے آزادی مارچ کو جاری رکھنے اوراحتجاج کا دائرہ ملک بھر میں پھیلانے

کا فیصلہ کیا ہے جبکہ مسلم لیگ (ن)اورپاکستان پیپلز پارٹی نے ایک بار پھر ڈی

چوک میں دھرنے کی مخالفت اور اجتماعی استعفوں کی تجویز رد کر دی۔ جے یو

آئی(ف) کے مرکزی سیکریٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ

احتجاج جاری ہے اور جاری رہے گا، آل پارٹیز کانفرنس میں تمام جماعتیں یک

زبان تھیں، اے پی سی نہایت کامیاب تھی کیونکہ تمام جماعتیں یک زبان ہیں تمام

جماعتوں کا کردار مثبت تھا۔پیر کو جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا

فضل الرحمن کی زیر صدارت آزادی مارچ کی حکمت عملی طے کرنے کے لیے

اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی)مولانا فضل الرحمن کی

رہائش گاہ پر ہو ئی جس میں 9 اپوزیشن جماعتیں شریک ہوئی۔آل پارٹیز کانفرنس

میں شریک رہنماں میں جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سیکریٹری جنرل مولانا

عبدالغفور حیدری، نیشنل پارٹی کے سینیٹر میر کبیر احمد شاہی، رہبر کمیٹی کے

رکن شفیق پسروری، عوامی نیشنل پارٹی کے جنرل سیکریٹری میاں افتخار حسین

،پیپلز پارٹی کے راجہپرویز اشرف، نیئر بخاری ، فرحت اللہ بابر ، مسلم

لیگ(ن)کے ایاز صادق اور ڈاکٹر عباداللہ شریک ہوئے۔اپوزیشن کی آل پارٹیز

کانفرنس کے دوران آزادی مارچ پر مشاورت،مطالبات کی منظوری اور اپوزیشن

جماعتوں کے موقف پر فیصلہ کن لائحہ عمل پر غورکیاگیا۔ذرائع کے مطابق مولانا

فضل الرحمان نے اجلاس کے دوران کہا کہ چھوٹے مفادات کو عوامی مشکلات پر

ترجیح نہ دیں، کیا حکمرانوں کے خلاف احتجاج صرف جے یو آئی ف کا فیصلہ

تھا؟ آپ سب مل کر عوامی حکمرانی کے لیے ٹھوس ، جامع حکمت عملی بنائیں،

خدارا عوام کی آنکھوں میں دھول نہ جھونکیں، آپ خلوص دل سے حکمت عملی

بنائیں،