46

آزادی مارچ بنا دھرنا، پیچھے ہٹنا گناہ کبیرا، مولانا فضل الرحمن

Spread the love

اسلام آباد( جتن آن لائن سٹاف رپورٹر) آزادی مارچ بنا دھرنا

جمعیت علما اسلام ( ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے عمران خان سن لو یہ تحریک اور سیلاب آگے بڑھتا جائیگا اور تمھیں اٹھا کر باہر پھینک دینگے، ہم نے اپنی جان ہتھیلیوں پر رکھی ہوئی ہے، یہاں سے جائینگے تو پیش رفت کیساتھ جائینگے، پیچھے ہٹنے کو گناہ کبیرا سمجھتے ہیں، اگر اس سیلاب نے وزیراعظم ہاﺅس کی جانب بڑھنے کا فیصلہ کر لیا تو کسی کا باپ بھی ہمیں نہیں روک سکتا لیکن ہم پرامن لوگ ہیں، اپنے مقصد کے حصول تک جنگ جاری رکھیں گے، یہ توپلان اے ہے ہمارے پاس بی اور سی باقی ہے-

جععہ جعمہ آٹھ دن کے سیاستدان ہمیں سیاست مت سکھائیں

جمعہ جمعہ آٹھ دن سے سیاست کرنیوالے ہمیں سیاست سکھانے کی کوشش کر رہے ہیں- مسئلہ ایک شخص کے استعفی کا نہیں قوم کی امانت کا ہے- آج ایک اسلام آباد بند ہے کل پورا پاکستان بھی بند ہو سکتا ہے- آزادی مارچ سے اسرائیل اور قادیانی پریشان، کیونکہ انکی 40 سالہ سرمایہ کاری پر پانی پھیر دیا ہے- آئندہ کسی کی جرات نہیں ہو سکے گی کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات کرے-

فوج قابل احترام، آئینی دائرہ میں رہ کر کام کرنا ہوگا

ہم فوج کا احترام کرتے ہیں ہرادارے کو اپنے دائرے میں رہ کر کام کرنا ہو گا، یہاں ہر ادارہ ہی مداخلت کر رہا ہے- ملک میں جمہوری ادارے بے معنی اور جمہوریت برائے نام رہ گئی ہے، اب فیصلہ عوام کا ووٹ کریگا، عوام کے ووٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں ہوگی، ڈی چوک تنگ یہ کھلی جگہ ہے- اسلام آباد کی تاریخ کا یہ سب سے بڑا اجتماع ہے اور آج سے قبل نہ تو اتنا بڑا اجتماع ہوا اور نہ ہو گا۔ آزادی مارچ بنا دھرنا

یہ بھی پڑھیں : ادارے ناجائز حکمرانوں کی پشت پناہی نہ کریں، مولانا فضل الرحمن

اتوار کو مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا میں تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان سے رابطے میں ہوں اور کوشش ہے آج پیر کو ان کیساتھ ایک اجلاس ہو سکے۔ کارکنوں کو بیٹھے چار روز ہو گئے ہیں لیکن انکا جوش و خروش بڑھتا جا رہا ہے، ہم آخری بازی لگانے کو تیار ہیں، ہم ایک مقصد لیکر آئے ہیں- عوام یہاں خود اپنی امانت حاصل کرنیکی جنگ لڑ رہا ہے- اپوزیشن کے ووٹوں کو اکٹھا کیا جائے تو دھاندلی کے باوجود حکومت کے ووٹوں سے زیادہ ہیں- ہمیں الیکشن کمیشن میں شکایت جمع کرانے کا کہا جا رہا ہے لیکن الیکشن کمیشن تو ہم سے زیادہ بے بس ہے۔ اگر وہ بے بس نہ ہوتا تو لوگوں کو اتنی بڑی تعداد اسلام آباد میں نہ ہوتی۔ اپوزیشن اور حکومت نے فیصلہ کیا کہ کسی بھی ٹربیونل میں نہیں جانا- دھاندلی کی تحقیق پارلیمانی کمیٹی کرے گی لیکن آج تک اس کا اجلاس نہیں ہوسکا۔ آزادی مارچ بنا دھرنا

قابل احتساب پارٹی کو جانا، عوام کو ووٹ کا حق دینا ہوگا

تحریک انصاف فارن فنڈنگ کا کیس الیکشن کمیشن میں ہی زیر سماعت ہے، پانچ سال ہو گئے کوئی فیصلہ نہیں آیا تو دھاندلی کا کیا فیصلہ کرے گا۔ تم عدالت میں پیش نہیں ہوتے تمہیں دوسری پارٹیوں کے افراد پر اعتراض ہے کہ یہ کرپٹ ہیں آپکی ساری پارٹی اور سارا ٹبر ہی کرپٹ ہے۔ قابل احتساب پارٹی پاکستان پر حکومت کررہی ہے، ان حکمرانوں کو جانا، عوام کو ووٹ کا حق دینا ہوگا اس کے علاوہ تمہارے پاس کوئی اور چارہ نہیں۔ اگر حزب اختلاف کے قائدین ہمارے ساتھ ایک پیج پر ہیں تو ہم اگلے اقدامات پر بھی باہمی مشاورت کریں گے۔

دینی مدارس پاکستان کی تہذیب کا ایک مضبوط عنوان

دینی مدارس پاکستان کی تہذیب کا ایک مضبوط عنوان ہیں جسے ہذف نہیں کیا جا سکتا اگر ایسی کوشش کی گئی توانہی لوگوں کا خاتمہ ہو گا۔ آئین تمام اداروں کا دائرہ کار ہے اگر وہ اپنے دائرے میں رہیں گے تو کوئی فساد نہیں ہو گا۔ اس اجتماع میں ہر طبقہ فکر کے لوگ ہیں ہم انہیں مایوس نہیں کریں گے۔ ہم تم سے بہتر سیاستدان ہیں تم سے بہتر حکومت کرنا جانتے ہیں۔ سونے کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا ہونیوالے ہمیں غریب کی سیاست بتائیں گے۔ ہم صلاحیت رکھتے ہیں ہمیں راستہ نہ دکھاﺅ۔ ہم نے اپنی جان اپنی ہتھیلیوں پر رکھی ہوئے ہیں، ہم آپکی حیثیت جانتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا ایوان میں بیٹھنا ایوان کی توہین ہے یہ تو گالم گلوچ بریگیڈ ہے ہم سنجیدہ بات کرتے ہیں۔ آزادی مارچ بنا دھرنا

جے یوآئی کا اجلاس، تین نکاتی پلان بی پر تبادلہ خیال

اس سے قبل مولانا فضل الرحمان کی وزیراعظم عمران خان کو مستعفی ہونے کیلئے دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے چند گھنٹے پہلے امیر جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت پارٹی کا طویل مشاورتی اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم کو مستعفی ہونے کیلئے دی گئی 2 روزہ مہلت کے بعد آئندہ کی حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دوران اجلاس سینیٹر طلحہ محمود اور کامران مرتضی کو بھی طلب کیا گیا اور پلان بی جس کے مطابق اسلام آباد لاک ڈاون، ملک گیر پہیہ جام اور ملک گیر شٹر ڈاون شامل ہیں پر غور کیا گیا-

آج آل پارٹیز کانفرنس بلانے، دھرنا جاری رکھنے کا فیصلہ

مولانا فضل الرحمان نے ناکامی کیساتھ واپس جانے کا آپشن مسترد کردیا اورمزید مشاورت کیلئے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس حوالے سے اکرم خان درانی کو تمام قائدین سے رابطوں کا ٹاسک دیا گیا۔ کشمیر ہائی وے پر دھرنا جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جے یو آئی اراکین نے کسی بھی نوعیت کے حتمی فیصلے کا اختیار مولانا فضل الرحمان کو دیدیا۔

آزادی مارچ بنا دھرنا