57

ادارے ناجائز حکمرانوں کی پشت پناہی نہ کریں، مولانا فضل الرحمن

Spread the love

اسلام آباد (جتن آن لائن سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک) مولانا فضل الرحمن

جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے ترجمان پاک فوج کا بیان واضح کرتا ہے ناجائز حکمرانوں کے پیچھے کون ہے، ہم اردوں کیساتھ تصادم نہیں چاہتے انہیں مستحکم، طاقتوراور غیرجانبدار دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم اگر محسوس کریں گے کہ اس ناجائز حکومت کی پشت پر ادارے ہیں، تو پھر دو دن کی مہلت ہے پھر ہمیں نہ روکا جائے کہ اداروں سے متعلق ہم کیا رائے قائم کرتے ہیں، ہم مزید صبر و تحمل کا مظاہرہ نہیں کر سکتے۔

وزیراعظم عمران خان کو مستعفی ہونے کیلئے کل تک کی مہلت

قبل ازیں آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب میں سربراہ جمعیت علما اسلام (ف) مولانا فضل الرحمن نے وزیراعظم عمران خان کو مستعفی ہونے کیلئے دو دن کی مہلت دیتے ہوئے واضح کیا ہے پاکستان کے عوام کا سمندر اس بات کی قدرت رکھتا ہے کہ وزیراعظم کوان کے گھر کے اندر جا کر گرفتار کرلیں، کسی ادارے کیساتھ تصادم نہیں چاہتے، پاکستان پر حکومت کرنے کا حق پاکستان عوام کا ہے، کسی ادارے کو پاکستان پر مسلط ہونے کا کوئی حق حاصل نہیں-

یہ بھی پڑھیں : آزادی مارچ کی اسلام آباد انٹری، مولانا کا دھرنے کا عندیہ

ہمیں کہا جاتا ہے سرحد پر تناﺅ ہے آزادی مارچ نہ کریں، دوسری طرف راہداری کھول بھارت کیساتھ دوستی کی پینگیں بڑھائی جا رہی ہیں، کوئی مائی لعل مستقبل میں پاکستان کی سر زمین پر ناموس رسالت کو چھیڑ نہیں سکے گا۔ ہمیں مذہب کارڈ استعمال کرنے کا کہا جاتاہے، ہم آئین کے مطابق بات کرتے ہیں، پاکستان اور اسلام ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوسکتے، میں میڈیا کیساتھ ہوں، میڈیا عائد کردہ پابند ی فوراً اٹھا لیں اگر نہیں تو ہم بھی کسی پابندی کے پابند نہیں ہونگے-

کرپٹ نواز،زرداری نہیں، پی ٹی آئی جو سارا فارن فنڈ کھا گئی

مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا آپ کہتے ہیں نوازشریف اورزرداری کرپٹ ہے، ہم کہتے ہیں آپ کی پوری پارٹی فارن فنڈ کھا گئی، پورا ٹبر چور ہے، ہم پر امن ہیں اور ہمارے پرامن ہونے کا احترام کیا جائے، رحیم یار خان میں ٹرین حادثہ کی اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رہبر کمیٹی موجود ہے، مشاورت کے ساتھ تجاویز طے کی جائیں گی۔

یہ اجتماع سنجیدہ، پوری دنیا بھی اسے سنجیدگی سے لے

آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب میں مولانا فضل الرحمن کا مزید کہنا تھا یہ قومی اجتماع ہے ان کے جذبے اور ولولے کو سلام پیش کرتا ہوں۔ ہمارے اجتماع میں تمام سیاسی قائدین موجود ہیں،سب کا باہمی یکجہتی کا فیصلہ درحقیقت قومی یکجہتی کا اظہارہے۔ ہمارا مطالبہ کسی ایک تنظیم یا جماعت کا نہیں پوری قوم کا ہے۔ یہ سنجیدہ اجتماع ہے، پوری دنیا سنجیدگی سے لے۔ ہم اس ملک میں انصاف پر مبنی نظام چاہتے ہیں، جو عوام کی مرضی سے ہو۔ ہم اس وقت پوری قوم کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کئے ہوئے ہیں، مطالبہ ایک ہی ہے 25 جولائی کے الیکشن فراڈ الیکشن تھے، نتائج تسلیم کر تے ہیں نہ موجودہ حکومت کو۔

جس ریاست کی معیشت بیٹھ جائے وہ کیسے اپنا وجود برقرار رکھ سکتی ہے؟

مولانا فضل الرحمن نے کہا ایک ہی فیصلہ کرنا ہے اس حکومت کو جانا ہے، ایک سال کی مہلت بہت، مزید دینے کیلئے تیار نہیں، یہ قوم آزادی چاہتی ہے اس ملک میں نااہلی کے نتیجے میں معیشت تباہ ہوگئی ہے جس ریاست کی معیشت بیٹھ جائے وہ ریاست اپنا وجود برقرار نہیں رکھتی۔ اگر سویت یونین کا اپنا وجود برقرار نہیں رہا تو پاکستان بھی اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتا ہے۔ نااہل حکمرانوں کو اعتراف کرتے ہوئے ریاست کی حاکمیت سے خود دستبردار ہو جانا چاہیے۔

کشمیریوں کو حق خودارادیت دلوانے کی جنگ ہم لڑیں گے

نااہل حکمرانوں نےکشمیر کو بیچ دیا ہے، کہتے ہیں کشمیر کی بات کررہے ہیں،
کشمیریوں کو تو آپ نے مودی کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہے۔ آج کا اجتماع تمام سیاسی جماعتوں کا اجتماع ہے، یہ ایک آواز کیساتھ اعلان کرتا ہے حکومت کی پرواہ کئے بغیر عوام کشمیریوں کی جنگ لڑیں گے، ان کے حق خود ارادیت کی جنگ لڑیں گے اور کشمیری عوام کو کبھی بھی اپنے آپ کو تنہا محسوس نہیں ہونے دینگے۔

خوشحالی کے خواب دکھانے والوں نے ایک سال میں عوام کا بھرکس نکال دیا

موجودہ نااہل حکمرانوں نے کہا تھا پاکستان میں خوشحالی آئے گی، آج لوگ بھوک سے مر رہے ہیں، روزگار، گھر ملے گا، برسرروزگار لوگ نوکریوں سے فارغ، صاحب گھر بے گھر ہو رہے ہیں، انہوں نے کہا لوگ باہر آئیں گے، باہر سے دو بندے آئے، ان میں ایک سٹیٹ بینک کا گورنر اور ایف بی آر کا چیئر مین ہے، ان دو کے علاوہ کوئی نہیں، وہ بھی آئی ایم ایف نے بھیجے ہیں۔ ہم مغربی معیشت کو تسلیم نہیں کرتے ہیں، ہم قرآن و سنت کے مطابق معاشی نظام چاہیں گے-

کرپشن کیخلاف لڑنے کے دعویدار ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ پر خاموش کیوں؟

مولانا فضل الرحمن نے کہا نیا پاکستان کس کا پاکستان ہے؟ کیوں پاکستا ن کے تصورات کو تبدیل کیا جارہا ہے، کہا جاتا ہے ہم کرپشن کیخلاف لڑ رہے ہیں، چند روز قبل ورلڈ اکانومک فورم کی رپورٹ پڑھیں، جس میں کہا گیاہے ایک سال کے دوران کرپشن کم ہونے کی بجائے دو فیصد بڑھ گئی ہے، تم نے کرپشن میں اضافہ کیا ہے، تم چوروں کے چور ہو۔ عوام کا فیصلہ آچکا، اب اس حکومت کو جانا ہی جانا ہے۔

پنڈال میں ڈی چوک ڈی چوک اور گو نیازی گو کے نعرے

اس موقع پر آزادی مارچ کے شرکاء نے ڈی چوک جانے کی آوازیں لگائیں تو مولانا فضل الرحمن نے کہا آپکی آواز میں نے، بلاول بھٹو زرداری، محمود خان اچکزئی، خواجہ آصف، اویس احمد نورانی، احسن اقبال، نوازشریف اور آصف علی زرداری نے بھی سن لی ہے، ہم جن کو سنانا چاہتے ہیں وہ بھی سن لیں۔ مولانا فضل الرحمن نے شرکا آزادی مارچ سے پوچھا آپ استعفے سے کم راضی ہو سکتے ہیں تو بتا دیں جس پر شرکاء نے گو نیازی گو کے نعرے لگائے۔ انہوں نے کارکنوں کو ہدایت کی یہاں استقامت کیساتھ میدان میں جمے رہنا ہے، اگر استعفیٰ نہ دیا تو ملکر فیصلہ آپ نے کرنا ہے، ووٹ آپکی امانت اور ملکیت ہے،اس پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔

معیشت چٹکیوں میں ٹھیک کرسکتے ہیں، شہبازشریف، پی پی نے روزگار دیا سلیکٹڈ نے بیروزگار کیا، بلاول بھٹو

قبل ازیں صدر مسلم لیگ (ن) شہباز شریف اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بھی آزادی مارچ سے خطاب کیا- دونوں رہنمائوں کا شرکا مارچ سے کہنا تھا حکومت کا جانا ٹھہر چکا، عمران خان پر شدید تنقید کے نشتر چلاتے ہوئے شہباز شریف نے کہا حکومت ہمارے حوالے کی جائے معشیت چٹکیوں میں درست کر دیں گے- بلاول بھٹو کا کہنا تھا پی پی جب بھی اقتدار میں آئی عوام کو روزگار دیا، نااہل اور سلیکٹڈ حکمرانوں نے برسرروزگار افراد کو بھی بیروزگار کر دیا- محمود خان اچکزئی سمیت دیگر سیاسی قائدئن نے بھی اپنے خطاب میں موجودہ حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا-

مولانا فضل الرحمن