66

قصوروار کون؟ ہمارا نظام پولیس وعدل، منصف، اشرافیہ یا معاشرہ

Spread the love

قصوروار کون؟

گزشتہ دنوں سانحہ ساہیوال کا فیصلہ سنایا گیا جس میں عدالت نے تمام ملزموں کو شق کے فائدے دے کر بری کردیا- معزز عدالت نے ساتھ ہی یہ ریمارکس دیئے کہ استغاثہ ملزموں کےخلاف ٹھوس شواہد پیش کر سکا، کسی گواہ نے گواہی دی نہ ہی ملزموں کی شناخت کی جا سکی، ایسے میں عدالت کا کام شواہد، گواہوں کی روشنی میں سزا یا بری کرنا ہوتا ہے- معزز جج نے اپنے فیصلے میں کہا مذکورہ کیس میں استغاثہ ملزموں پر عائد الزام ثابت ہی نہیں کرسکا تو عدالت کیا کرے، اس لئے ملزموں کو شک کی بنا پر باعزت بری کیا جاتا ہے- قصوروار کون؟

سوشل میڈیا پر غم وغصے کا اظہار، آؤ دیکھا نا تاؤ لگ گئے بھاشن دینے، خود کو ساہوکاراور دوسروں ٹھہرانے لگے گناہ گار

جناب یہ فیصلہ آنا تھا کہ سوشل میڈیا پر ہم سب غم وغصے کا اظہار کرنا شروع ہو گئے- آؤ دیکھا نا تاؤ لگ گئے بھاشن دینے میں خود کو ساہوکار اور دوسروں کو گناہ گار قرار دینے- یہ تو ابھی ہم نے اپنی پردہ پوشی کی ہے ورنہ اودھم تو اس سے بھی زیادہ مچایا گیا اور ابھی بھی مچ رہا ہے- مگر کسی کو یہ کہتے نہیں سنا کہ ہم فیصلے کےخلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے اور گواہاہی دیں گے-
ایسے میں بھلا ہو وزیراعظم عمران خان کا جنہوں نے فیصلہ سامنے آتے ہی فوری طور پر بڑا فیصلہ کیا اور پنجاب حکومت کو سانحہ ساہیوال کیس کے فیصلے کو عدالت عالیہ میں چیلنج کرنے کا حکم دیا- صوبائی حکومت نے بھی حکم کی فوری تعمیل کرتے ہوئے عدالت میں کیس کے فیصلے کیخلاف اپیل دائر کرادی ہے- قصوروار کون؟

یہ بھی پڑھیں : 500 کرپٹ لوگوں کو جیل یاترا کی خواہش اور ہمارے شیخو جی

اس ضمن میں معاون خصوصی اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے اس بات کی بھی یقین دہانی کروائی ہے کہ اگر سانحہ کے لواحقین چاہیں گے تو ان کیساتھ مکمل تعاون کیا جائے گا۔ بحیثیت پاکستانی اگر ہم اس بات کا جائزہ لیں کہ محترم عدالتوں میں لاکھوں کی تعداد میں سنے جانیوالے مقدمات کے دہائیاں گزر جا نے کے بعد بھی فیصلے نہیں ہوتے، ایسے میں اتنے اہم کیس کا فیصلہ چند ماہ میں سامنے آنا ہماری عدالتوں کی بہتر کارکردگی کا ثبوت ہے۔

تفتیش سے پراسیکیوشن اور عدالتی نظام تک ناانصافی ہی ناانصافی

ہماری عدالتوں کا نظام اتنا غیر یقینی اور ناانصافی پر مبنی ہو چکا ہے کہ اتنی جلدی کسی کیس کا فیصلہ سنایا جانا اچھنبے سے کم نہیں لگتا- لیکن سانحہ ساہیوال کیس میں جس طرح ہماری معزز عدالت نے پراسیکیوشن، تفتیش اور دیگر قانونی عوامل میں پولیس اور سرکاری وکلا کی ناقص کار کردگی، غفلت، لاپرواہی اور معاشرے کی بے حسی کو اپنے فیصلے میں نمایاں انداز میں پیش کرکے عوام اور ان کے محافظوں کو آئینہ دیکھایا ہے وہ تاریخ کا حصہ بن گیا ہے جسے ہماری آنیوالی نسلیں پڑھیں گی یا سنیں گی تو اپنے اسلاف پر فخر کے بجائے نادم ہونگی-

سانحہ ماڈل ٹاؤن ایک اور بڑی مثال، لواحقین انصاف کیلئے تاحال دربدر

ایسا ہی ایک اور سانحہ ماڈل ٹائون جس کے لواحقین ابھی تک اپنے کیسں کا فیصلہ سننے کے منتظر ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جلد از جلد پراسیکیوشن، تفتیش اور دیگر قانونی عوامل پورے کئے جاتے اس میں اتنی ہی تاخیر سے کام لیا جارہا ہے اس ضمن میں ہم اپنی عدلیہ کو بھی قصور وار گردانیں تو بے جا نہ ہو گا کیونکہ اس کے پاس ازخود نوٹس کا اختیار ہے اور وہ چاہے تو جتنی جلدی انصاف کے تقاضے سانحہ ساہیوال میں پورے کئے گئے اتنی ہی جلدی سانحہ ماڈل ٹائون کے کیس کا بھی فیصلہ سنا سکتی ہے، چاہے وہ لواحقین کے حق میں ہو یا ان کیخلاف لیکن فیصلہ تو ہوتا جو 5 سال گزرنے کے باوجود بھی نہیں ہو سکا۔ سانحہ کے لواحقین آج بھی اپنے پیاروں کے غم میں نڈھال، انصاف کے منتظر ہیں لیکن انصاف انہیں ملتا نظر نہیں آتا- قصوروار کون؟

مملکت خداد کی تباہی و بربادی کے ہم سب ذمہ دار

ہم باشندے تو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے کہلاتے ہیں لیکن ہم بذات خود اس مملکت خداد کو تباہ و برباد کرنے پر تلے ہیں۔ ورنہ ہمارے پیارے وطن میں ایسے واقعات کا تصور تک نہ ہوتا- اگر کبھی ایسا سانحہ رونما ہو بھی جاتا تو اس میں ملوث عناصر کو ایسے عبرت ناک سزا ملتی کہ صدیوں یاد رہتی اور کوئی دوسرا ایسی لاقانونیت کا سوچ کر بھی کانپ اٹھتا- قصوروار کون؟

اشرافیہ اور عوام کیلئے انصاف کے تقاضوں میں واضح فرق اور بے حسی

دوسری جانب ہماری عدالتوں نے کس طرح ہنگامی بنیادوں پر مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کو طبی بنیادوں پر رہائی کا پروانہ تھمایا وہ بھی بطور ثبوت تاریخ کا حصہ بن گیا ہے کہ مملکت خداد میں ہونیوالے فیصلے طاقتور انسانوں اور اعلیٰ عہدوں پر فائز لوگوں کیلئے تو بروقت ہی نہیں کسی بھی وقت ہو سکتے ہیں، لیکن کوئی غریب جتنا بھی بیمار ہو، لاچار ہو، چلنے پھرنے سے قاصر ہو اسکا فیصلہ اس کے نمبر پر ہی کیا جائیگا (کیونکہ میرٹ کا دوردورہ ہے- بغیر میرٹ یہاں چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی) چاہے وہ اپنے کیے کی سزا دس سال سے بھگت رہا ہو لیکن فیصلہ آنے کے بعد اسکی وہ سزا اس سزا کا حصہ نہیں ہو گی جو وہ کاٹ چکا ہے اسی وجہ سے کئی مقدمات میں یا تو مجرم یا مدعی فیصلہ ہونے سے قبل خالق حقیقی کو جا ملتا ہے یا پھر اس قابل نہیں رہتا کہ وہ مزید فیصلے کی تاریخیں بھگتے۔ قصوروار کون؟

ماڈل کورٹس کی تیزیاں اور بڑھتے انسانیت سوز واقعات

مملکت خداد کی عدالتوں میں دائر کیسوں کے بر وقت فیصلوں کیلئے گزشتہ ایک سال سے قائم ماڈل کورٹس کی کارکردگی کی بڑی بڑی خبریں آرہی ہیں لیکن جرائم میں کمی واقع ہو رہی ہے ناں اصلاح معاشرہ بلکہ آئے روز ایسے انسانیت سوز واقعات سامنے آ رہے ہیں کہ باضمیر انسان سن کر کانپ اٹھتا ہے-

کہنے کو کلمہ گو مگر—–؟

جب میں اپنے آپ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ کیا ہمارا نظام پولیس، نظام ِعدل کسی حد تک بہتری کی جانب گامزن ہو سکتے ہیں تو فوراََ اندر سے آواز آتی ہے سٹھیا تو نہیں گئے، یہ زمانہ پیسوں کی چمک، طاقت کے زعم، بے حسی و خود غرضی کے عروج کا دور ہے، اندھی آنکھیں انکوائری، تفتیش، پراسیکیوشن اور فیصلہ کرتے وقت احکامات الہٰی کو ملحوظِ خاطر نہیں لاتیں۔ کسی کو اپنے بچے کا بہترین مستقبل پیارا ہے تو کوئی اچھے گھر کی تگ و دو میں مصروفِ عمل ہے ہم لوگ آخرت کو بھول چکے ہیں، ہمیں انصاف سے کوئی سروکار نہیں بس پیسہ ہی ہمارا دین اور ایمان ہے- قصوروار کون؟

سانحہ ساہیوال کیس کے فیصلہ سے یہ بات تو طے ہو گئی — !

سانحہ ساہیوال کے کیس کے فیصلے سے یہ بات تو طے ہو گئی ہے ہمارا معاشرہ محض ناصح ہے نصیحت قبول کرنیوالا نہیں، انصاف کا طلبگار ہے انصاف دینے والا نہیں، پرامن ماحول میں زندگی بسر کرنے کا خواہاں مگر خود پرامن بننے کو تیار نہیں- نماز پڑھنے میں آگے ہے قائم کرنے میں نہیں، روزے رکھ کر خدا پر احسان جتلاونے والوں میں سے ہے روزے کا اصل مفہوم اپنانے تو تیار نہیں،زکوٰۃ خیرات دینے میں دنیا میں سب سے آگے ضرور ہے مگر دکھاوے کیلئے غریب کا حقیقی معنوں میں غم خوار نہیں- تلاوت کلام پاک کرنیوالوں میں سے ہے کلام الٰہی پر عمل پیرا ہونے کو تیار نہیں- قصوروار کون؟

احکامات الٰہی اور قول مولائے کائناتّ

خداوند قدوس نے ایسے ہی معاشرے کیلئے اپنی نازل کردہ کتاب قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ہے جیسا معاشرہ ہوگا ان پر ارباب اختیاربھی ویسے ہی ہونگے- جبکہ مولائے کائنات حضرتِ علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ نے تو مزید واضح کر دیا کہ کفر پر مبنی معاشرہ تو قائم رہ سکتا ہے، ناانصافی پر مبنی معاشرہ نہیں-

سوال آخر ایسا کیوں ؟ — جواب انتہائی سادہ مگر عمل مشکل

سوال یہاں یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہمارا معاشرہ اس قدر اخلاقی انحطاط کا شکار کیوں ہے تو جواب انتہائی سادہ اور آسان ہے کہ ہم سب اپنا محاسبہ کرنے اور اپنے اندر موجود برائیوں، خامیوں، نفسانی کمزریوں کو دور کرنے کی سعی تو کجا سوچ تک اپنے زہنوں میں لانے کو تیار نہیں- دعا ہے رب محمد و آل محمد
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں ہدایت عطا فرمائے- الہٰی آمین

قصوروار کون؟