82

قادیانیت کا یورپ میں استحکام، پاکستان میں دہشت گردی کیلئے فنڈنگ

Spread the love

قادیانیت استحکام

909 مچم روڈ پر ہی ریحان اور شہزاد کیساتھ انکی رہاشگاہ پر شفٹ ہو چکا تھا، اسے پیسوں کی کمی تو نہ تھی اس کے باوجود کرائے کی مد میں اسکی کنٹری بیوشن بہت کم تھی، البتہ وہ کھانے پینے کیلئے وافر چیزیں لا کر کچن میں رکھ دیتا تھا، جس پر دونوں بھائی بہت خوش تھے، فراغت کے کافی دنوں بعد 909 کو اپنوں کی جانب سے وہ خاص پیغام موصول ہوا جس کے بارے میں وہ روزانہ سوچتا اور اس پر تھوڑا بہت کام بھی کر رہا تھا، ملک بھر سے پاکستانی پرویز مشرف کے آنے، 9،11 واقعہ کی آڑ میں یورپ منتقل ہو چکے تھے، ان افراد نے مستقل قیام کی خاطر ربوہ سے پنپنے والی مرزا غلام احمد کی جماعت احمدیہ سے اپنا تعلق جوڑ رکھا تھا-

یہ بھی پڑھیں : بلیک منی، جہادی، نوجوان اور 909 کا مشن

لندن میں مقیم کچھ بااثر پاکستانی نژاد لوگ اس سلسلے میں ان سے اچھی خاصی رقم لیکر انہیں وزارت داخلہ میں کلیئر کروا رہے تھے اور یہ رقم جماعت احمدیہ کو منتقل کی جا رہی تھی، دوسرا بہت سے پاکستانی پٹھان بھائی خود کو افغان ظاہر کرکے برطانیہ کا مستقل قیام کا ویزہ حاصل کر چکے تھے، برطانیہ کی جانب سے پاکستان سے جب ایسے افراد کی چیک لسٹ مانگی جاتی تو پاکستانی وازارت خارجہ کی جانب سے کمپیوٹرائزڈ نظام نہ ہونے کی دلیل کے باعث برطانیہ سر پیٹ کر رہ جاتا تھا- یہ سب واقعات 2005 سے پہلے کے تھے-

پاکستان میں دہشت گردوں کا اودھم

پاکستان میں دہشت گردوں نے اودھم مچا رکھا تھا، افغانستان میں نام نہاد جہاد کی آڑ میں دھڑا دھڑ دہشتگردی کیلئے نوجوانوں کو تربیت دی جارہی تھی اور اس مقصد کیلئے فنڈنگ لندن سے ہو رہی تھی، افغان افراد دھڑا دھڑ حوالہ ہنڈی کے ذریعے قبائلی علاقوں میں پیسے بجھوا رہے تھے، اور وہ وہاں سے افغانستان منتقل ہو رہے تھے، ادھر برطانیہ یہ تمام تر معلومات مکمل طور پرامریکہ کے ساتھ شیئر کر رہا تھا- قادیانیت استحکام

مزید پڑھیں : عراق جنگ، فلسطین پر صہیونی مظالم اور نوجوان حسن

ایسے افراد کی تفتیش کے حوالے سے یہ آسانی ضرور تھی کہ 90 فیصد دہشت گردوں کے سہولت کار لندن میں ہی مقیم تھے- 90 فیصد سے زائد جاہل اور انپڑھ ہونے کی وجہ سے نجی ٹیکسی چلا رہے تھے جس میں کافی پیسہ تھا اور ایک ڈرائیور جائز ناجائز طریقے سے اس شعبہ میں رہتے ہوئے ہفتہ وار 6 سے7 سو پائونڈ کمارہا تھا- قادیانیت استحکام

پٹھان ڈرائیورز کا ڈیٹا اور تصاویر اکٹھی کرنے کا ٹاسک

909 کو تمام مشہور کیب آفسز سے ان پٹھان ڈرائیوروں کا ڈیٹا اور انکی تصاویر اکٹھی کرنے کا ٹاسک ملا تھا، جبکہ اس کیساتھ ساتھ اسے ان افراد کے بارے میں بھی معلومات اکٹھی کرنے کا کہا گیا تھا جو خود کو احمدی بنا کر وہاں رہ رہے تھے، یہ لوگ پاکستانی اخبارات کی مدد سے جھوٹی تشدد آمیز خبروں کے تراشے پیش کرکے برطانوی ہوم آفس میں پیش کرتے تھے- پاکستان میں حالات کی سنگینی کے باعث اس کی سو فیصد تصدیق ممکن نہ تھی، 909 کو ان تمام افراد کی سرگرمیوں کا پتہ چلانا تھا، یہ 2004 تھا-

احمدی جماعت کو درپیش چیلنجز، مزار مسرور کا شاطر پن

مرزا مسرور کو احمدی جماعت کی سربراہی 22 اپریل 2003 کو سونپی جا چکی تھی، مرزا مسرور احمد کو دو بڑے چیلنجز کا سامنا تھا، اول یہ کہ اپنی جماعت کو مزید مضبوط بنانے کیلئے کثیر تعداد میں فنڈز کی ضرورت تھی، دوئم احمدی لڑکیاں کالجوں میں پاکستانی اور دیگر ممالک کے مسلم نوجوانوں کیساتھ دلگی میں مصروف ہو رہی تھیں، مرزا مسرور احمد نے جمعہ کے خطبہ میں اور جماعت کی میٹنگز میں کچھ باتیں واضح کر دی تھیں ان میں کسی ایک بھی احمدی لڑکی کا پاکستانی نوجوان کیساتھ معاشقہ قابل قبول نہ ہوگا۔ کسی بھی نوجوان لڑکی کو باغی بننے پر اس کے والدین کی طرف سے تشدد کا نشانہ نہیں بنایا جائیگا۔ قادیانیت استحکام

احمدی لڑکیوں پر ادھیڑ عمر افراد کا پہرہ

150 کے قریب ادھیڑ عمر احمدی افراد کالجوں میں پڑھنے والی تمام جماعت کی لڑکیوں کی خفیہ ریکی کریں گے اس مقصد کیلئے ان کے والدین کو اپنی بیٹیوں کے فون نمبر، کالج کا نام اور پتہ، لڑکی کے آنے جانے کے اوقات کی تفصیلات جمع کروانا ہوں گی۔ جن والدین نے اپنی بچیوں کے باغی پن کی شکایات درج کروائیں تھیں انہیں سال میں ایک مرتبہ فیملی کے ہمراہ جماعت کی فنڈنگ پر یورپ کے کسی بھی ملک کی سیر کیلئے جانا ہو گا، جہاں جماعت اور والدین کی آپس کی باہمی خفیہ گفت و شنید کیساتھ پہلے سے منتخب باروزگار احمدی نوجوان سے لڑکی کی اچانک ملاقات یا پھر دو خاندانوں کا آپس میں میل ملاپ شامل تھا۔

احمدی لڑکیوں کی خواہشات، مزاحمت اور —؟

مرزا مسرور نے تمام احمدیوں کے چھوٹے اور بڑے بچوں کی اصلاحی کلاس خود لینے کی بھی ذمی داری سنبھال لی تھی۔ احمدی جماعت کی لڑکیاں باغی پن کا شکار ہو رہی تھیں، وہ سگریٹ اور شراب پینا چاہتی تھیں، گھومنا چاہتی تھیں، ہر قسم کا گوشت کھانا چاہتی تھیں، لیکن انہیں اس ضمن میں سخت ترین مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا-

یہ بھی پڑھیں : افغان جنگ، رائل آرمی اور “جو” کی ڈیٹ پر آمادگی

احمدی سربراہ مرزا مسرور نے ربوہ سے ماسوائے تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے آنیوالے نوجوانوں کے دیگر پر برطانیہ آنے پر پابندی لگا دی تھی۔ جماعت کی جانب سے 2004 میں برطانوی ہوم آفس کو باقاعدہ خط لکھا گیا تھا جس میں درخواست کی گئی تھی کہ ایئر پورٹ پر خود کو احمدی ظاہر کرنیوالے شخص کی جب تک لندن ہیڈ کوارٹر کی جانب سے تصدیق نہیں ہوتی اسے ملک میں گھسنے نہ دیا جائے- یہی وجہ تھی 2004 میں جعلی احمدی بن کر برطانیہ میں گھسنا یا پھر قیام حاصل کرنا ناممکن ہو گیا تھا۔

مرزا مسرور کا خفیہ نیٹ ورک اور انگریز سرکار کو ٹیکہ

مرزا مسرور نے ایک خفیہ نیٹ ورک بناتے ہوئے انگریز سرکار کو ہی اندر سے چونا لگانے کا پروگرام بنایا اور غیر قانونی مقیم پاکستانیوں کو خفیہ نیٹ ورک کے ذریعے احمدی بننے کی دعوت دینے اور بدلے میں خطیر رقم حاصل کرنے کا باقاعدہ آغاز کر دیا، اس پروگرام میں صرف بڑی عمر کے غیر قانونی افراد کو فائدہ پہنچانا اور ان سے بڑی رقم ہتھیانا مقصود تھا۔ یوں اسکی جماعت کو باقاعدہ پیسے ملنا شروع ہو گئے تھے۔ ان پیسوں کو لیگل کرنے کیلئے بیرون ملک سے جو بھی احمدی طائفہ آتا وہ خواہ چندہ دے یا نہ دے اس کے نام کیساتھ عطیہ کی گئی رقم لکھ دی جاتی، یوں مرزا مسرور نے تھوڑے ہی عرصہ میں لاکھوں پائونڈ ہتھیا لئے۔

احمدی پلیٹ فارم میں پناہ لینے والوں سے اپنے مزموم عزائم کی تکمیل

اس کے علاوہ وہ افراد جنہوں نے پیسے دے کر احمدی پلیٹ فارم سے برطانیہ میں سکونت حاصل کی اگر جمعہ کے روز مارڈن میں واقع عبادت گاہ میں حاضری نہ لگواتے تو جماعت کی جانب سے انہیں بلیک لسٹ کروا دیا جاتا، اس پر ان بے چاروں کو نہ صرف حاضری لگوانا پڑتی بلکہ فنڈز بھی دینا پڑتے، حالانکہ ان تمام افراد کے گھروں میں جا کر دیکھا جا سکتا تھا کہ ان کے گھروں میں بڑا بڑا کلمہ طیبہ لکھا ہوتا تھا، یہ بھی جماعت کی طرف سے ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اپنے مسلمان رشتہ داروں اور دوستوں میں خود کو احمدی ظاہر نہ کریں- جن کو شک ہو کلمہ طیبہ لکھا دیکھ کر ان کا شبہ جاتا رہے۔ قادیانیت استحکام

اہل تشیع علماء کو شہید کرنے کا منصوبہ، جرمنی اور برطانیہ سے فنڈنگ

909 قادیانیوں کی اس مسجد میں مستقل حاضر ہوتا تھا، اس کے مسلمانوں کی کیخلاف ظاہری باغی پن پر مرزا مسرور اندر ہی اندر خاصا خوش تھا، 909 سے اسکی اچھی خاصی دوستی تھی، وہ ہر ملاقات پر اسے کہتا ایک دن تم ہمارے بھائی بن جاؤ گے بلکہ ابھی سے ہو، 909 کو اس کے اپنوں نے بتایا تھا کہ اطلاعات ہیں پاکستان میں اہل تشیع مسلمانوں کو قتل کرنے کیلئے اس جماعت کی جانب سے براستہ جرمنی خفیہ فنڈنگ ہو رہی ہے- برطانوی سفارتخانہ کا عملہ بھی اس میں شریک ہے۔ پاکستان میں برطانیہ، جرمنی، جاپان سمیت دیگر کئی ممالک کے سفارتخانوں میں صرف احمدی جماعت سے تعلق رکھنے والے کو ہی بھرتی کیا جا رہا تھا اور یہ اس جماعت کی بڑی کامیابی تھی

قادیانیت استحکام

— جاری —

Agent 909 Dr,I.S introduction