48

حکومت نے تاجروں کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے، شناختی کارڈ کے زریعے خرید و فروخت کی شرط تین ماہ کیلئے موخر

Spread the love

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) حکومت نے دو روزہ ہڑتال کے بعد تاجروں کا مطالبہ

مانتے ہوئے شناختی کارڈ کے زریعے خرید و فروخت کی شرط پر کاروائی تین

ماہ کیلئے موخر کر دی جبکہ تاجر رہنمائوں نے معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے

کہاہے کہ ہم پورے ملک میں ہڑتال ختم کر نے کااعلان کرتے ہیں ،امید ہے

حکومت اور ہم معاہدے پر کار بند رہیں گے ۔ذرائع کے مطابق وزارت میں مشیر

خزانہ کی سربراہی میں حکومتی ٹیم اور تاجروں کے درمیان بدھ کو دوسرے روز

بھی مذاکرات جاری رہے جو کامیاب ہوئے ۔ مذاکرات میں پاکستان تحریک انصاف

کے مرکزی رہنما جہانگیر ترین بھی شامل تھے ۔مذاکرات کے بعد حکومت اور

تاجروں کے درمیان گیارہ نکاتی معاہدے پا گیا ۔ تاجروں ساتھ طے پانے و الے

معاہدے کے مطابق 10 کروڑ تک کی ٹرن اوور والے تاجر سے 1.5 فیصد ٹرن

اوور ٹیکس کے بجائے 0.5 فیصد ٹرن اوور ٹیکس لیا جائے گا، 10 کروڑ تک کی

ٹرن اوور والا تاجر ودہولڈنگ ایجنٹ نہیں بنے گا۔ معاہد کے مطابق سیلز ٹیکس

میں رجسٹریشن کے لیے سالانہ بجلی کے بل کی حد 6 لاکھ روپے سے بڑھا کر

12 لاکھ روپے کردی گئی ہے، کم منافع رکھنے والے سیکٹرز کے ٹرن اوور

ٹیکس کا تعین از سر نو کیا جائے گا جو تاجروں کی کمیٹی کی مشاورت سے ہوگا،

جیولرز ایسوسی ایشنز کے ساتھ مل کر جیولرز کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر

حل کیا جائے گا، آڑھتیوں پر تجدید لائسنس فیس پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس کا از سر

نو جائزہ لیا جائے گا،تاجروں کے مسائل کے فوری حل کے لیے ایف بی آر اسلام

آباد میں خصوصی ڈیسک قائم ہوگا جس میں 20/21 گریڈ کا افسر تعینات ہوگا اور

ماہانہ بنیاد پر تاجروں کے نمائندوں سے ملاقات ہوگی، نئے تاجروں کی کمیٹیاں

نئے رجسٹریشن کے سلسلے میں بھرپور تعاون کریں گی، ایک ہزار مربع فٹ کی

کوئی بھی دکان سیلز ٹیکس میں رجسٹریشن سے مستثنیٰ ہوگی اور اس کا فیصلہ

تاجروں کی کمیٹی سے مشاورت سے ہوگا،ہول سیل اور ریٹیلرز دونوں کا کاروبار

کرنے والوں کی سیلز ٹیکس میں رجسٹریشن کا فیصلہ تاجروں کی کمیٹی کی

مشاورت سے ہوگا، شناختی کارڈ کی شرط پر خرید و فروخت پر تادیبی کارروائی

31 جنوری 2020 تک موخر کردی گئی ہے۔ معاہدے کے بعد مشیر خزانہ حفیظ

شیخ نے اپنی ٹیم اور تاجروں کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے

معاہدے کی تصدیق کی اور تاجروں کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوئے ہیں ۔مشیر

خزانہ حفیظ شیخ نے کہا کہ شناختی کارڈ کے زریعے خرید وفروخت کی شرط

پرکارروائی تین ماہ کیلئے 31 جنوری تک موخر کرنے پر اتفاق ہوگیا ہے، 10

کروڑ تک سالانہ سیلزوالے تاجروں کو ود ہولڈنگ ایجنٹ نہیں بنایا جائے گا، سیلز

ٹیکس رجسٹریشن کیلئے بجلی کے بل کی حد 6 لاکھ روپے سالانہ سے بڑھا کر 12

لاکھ روپے سالانہ ہوگی، ٹریڈرز کے مسائل کے فوری حل کے لئے ایف بی آر

اسلام آباد میں خصوصی ڈیسک قائم کیا جائے گا۔مشیر خزانہ نے کہا کہ نیا

رجسٹریشن اور ٹیکس ریٹرن فارم اردو میں مہیا کیا جائے گا، ملکی اور مقامی

سطح پر مسائل کے حل کیلئے تاجر نمائندگان کی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی،

جیولرز کے مسائل ،آڑھتیوں کی سالانہ فیسوں میں کمی کیلئے تاجروں کی کمیٹی

الگ سے مسائل حل کروائے گی، کم منافع والے ہول سیلرز کیلئے ٹرن اوور کی

شرح کو تاجروں کی کمیٹی کی مشاورت سے مزید کم کیا جائے، دس کروڑ تک

سالانہ سیل پرٹرن اوور ٹیکس کی شرح کو 1.5% سے کم کرکے 0.5% کر دیا گیا

ہے۔تاجر برادری کے مرکزی رہنما کاشف چوہدری اورآل پاکستان انجمن تاجران

کے صدر اجمل بلوچ نے حکومت اور تاجروں کے درمیان مذاکرات کامیاب ہونے

کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ شناختی کارڈ کی شرط پر خریدو فروخت پر

کارروائی 31 جنوری تک مؤخر کردی گئی ہے۔