Halat e Hazra,Current Affair 99

المیہ کشمیر کا 72 واں یوم پیدائش، دنیا کی انصاف پسندی پر سوالیہ نشان

Spread the love

(تحریر: — ابو رجا حیدر)(المیہ کشمیر)

آج کا دن کشمیر کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، اور اہل ِ پاکستان بھی اسے اسی حوالے سے یاد رکھتے ہیں کہ 71 سال پہلے اکتوبر کی ستائیس تاریخ ہی کو بھارتی فوج کشمیر میں داخل ہوئی تھی، کسی قانونی جواز کے بغیر اپنے ناپاک قدموں سے اس جنت کو پامال کیا تھا۔ برصغیر کو انگریزوں کی غلامی سے نجات ملی تو انگریزوں کے زیر سایہ ساڑھے چار سو سے زائد نوابی ریاستوں کو بھی یہ حق دیا گیا کہ وہ بھارت اور پاکستان میں سے کسی بھی ملک کے ساتھ الحاق کر سکتی ہیں۔

تقسیم ہند فارمولے کے تحت کشمیر پاکستان کا حصہ

ریاست جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی بھاری اکثریت تھی۔ تقسیم ہند کے اصولوں کے مطابق اسے پاکستان کا حصہ بننا چاہئے تھا۔ اس کے راجہ کو اپنے عوام کی خواہشات کے مطابق کسی ایک کا چنائو کرنا تھا۔ کشمیری عوام کی نمائندہ تنظیم ” مسلم کانفرنس” نے ایک قرارداد کے ذریعے پاکستان سے الحاق کا فیصلہ بھی کر لیا تھا، اس کا باقاعدہ اعلان کیا جا چکا تھا۔ (المیہ کشمیر)

بھارت کا الحاق کشمیر کا جھوٹا دعویٰ

مہاراجہ کشمیر ابھی کوئی باضابطہ فرمان جاری نہ کر سکا تھا کہ بھارتی فوج سرینگر میں داخل ہو گئی۔ نئی دہلی سے اعلان کر دیا گیا کہ مہاراجہ نے بھارت سے الحاق کر لیا ہے۔ متعلقہ دستاویز آج تک کہیں پیش نہیں کی جا سکی۔ اس دھوکہ بازی اور جعل سازی کے ذریعے کشمیر میں بھارتی فوج داخل ہوئی، اور اس المیے کا آغاز ہوا، جو آج تک اپنے انجام کو نہیں پہنچ سکا۔ (المیہ کشمیر)

الحاق کشمیر کی دستاویزات کہاں؟

ممتاز برطانوی مورخ الیسٹر لیمب نے ’’المیے کی پیدائش‘‘ The Birth of Tragedy میں اس بات کو پوری شد و مد اور دلائل سے رد کر دیا ہے کہ الحاق کی دستاویز 26 اکتوبر کو نئی دہلی میں تیار کرکے مہاراجہ کے دستخط حاصل کر لیے گئے تھے۔ مہاراجہ اس وقت جموں میں تھا،اس تک پہنچنا اور اس کے دستخط حاصل کرنا ممکن ہی نہیں تھا۔ ایسے کسی الحاق نامے کے بغیر بھارتی حکومت نے اپنے انگریز گورنر جنرل” لارڈ مائونٹ بیٹن ” کی سربراہی میں کشمیر کے خلاف فوجی جارحیت کا آغاز کیا۔ کشمیری عوام کی بغاوت نے ایک بڑا حصہ آزاد کرا لیا، اس جدوجہد میں پاکستانی قبائل نے بھی اپنا حصہ ڈالا، پاکستان کے فوجی دستے حرکت میں آگئے تھے لیکن قبل اس کے کہ پوری ریاست آزاد ہوتی بھارت نے سلامتی کونسل کا دروازہ کھٹکھٹا ڈالا۔ اقوام متحدہ کی مداخلت پر جنگ بندی ہوئی۔ (المیہ کشمیر)

سلامتی کونسل کی قراردادیں

اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے بھارت اور پاکستان کی رضا مندی سے قرارداد منظور کی کہ جموں اور کشمیر کے عوام کو ریفرنڈم کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے گا۔ وہ دن جائے اور آج کا آئے، بھارت اس وعدے کو پورا کرنے سے انکاری ہے، اور کشمیر جنت نظیر کو دوزخ بنانے پر تُلا ہوا ہے۔ المیہ کشمیر

پاک بھارت ایٹمی جنگ کا منڈلاتا خطرہ

یہاں گزشتہ71 سال کی تاریخ کو دہرانا مقصود نہیں، جنوبی ایشیا کے امور پر نظر رکھنے والے ہر شخص پر واضح ہے کہ مسئلہ کشمیر نے اس خطے کے مستقبل کو غیر یقینی سے دوچار کر رکھا ہے، کئی جنگیں لڑی جا چکی، خون کی ندیاں بہہ چکیں، اب بھی نام نہاد جنگ بندی لائن پر روز لاشے گرتے ہیں۔ فوجی اور سویلین نشانہ بنتے ہیں۔ جنگ کا خطرہ سروں پر منڈلا رہا ہے۔ دو ایٹمی طاقتیں “پاکستان اور بھارت” آمنے سامنے ہیں، لیکن اقوام عالم ابھی تک فیصلہ کن مداخلت نہیں کر پائیں۔ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل اپنی ہی قراردادوں پر عمل کرانے سے قاصر ہے۔ بھارت کے سامراجی ہتھکنڈوں نے صورتِحال کو مزید اُلجھا دیا ہے۔ (المیہ کشمیر)

بھارت کا 5 اگست 2019 کو عالمی برادری کے منہ پر طمانچہ

بھارت نے اپنے دستور کے تحت جو خود مختاری مقبوضہ علاقے کو دے رکھی تھی، اُسے بھی بھارت کی موجودہ سرکار نے رواں سال 5 اگست کو سراسرایک غیر آئینی اور غیر قانونی طور پر یکطرفہ فیصلہ کر کے روند ڈالا ہے۔ مقبوضہ علاقے کی نام نہاد اسمبلی سے منظوری حاصل کیے بغیر ہی نظم و نسق براہِ راست دہلی حکومت کو سونپ دیا ہے۔ وہاں جائیداد خریدنے اور آباد ہونے کا حق بھارتی شہریوں کو بخش دیا گیا ہے۔ کوئی بھی کشمیری اس صورتِحال کو قبول کرنے پر تیار نہیں۔ آج 84 واں دن ہے کہ مقبوضہ وادی دنیا کا سب سے بڑا قید خانہ بنی ہوئی ہے، ہر شخص اپنے گھرمیں قید ہے۔ سکول کھل رہے ہیں نہ ہسپتال، بازار نہ دفاتر۔ (المیہ کشمیر)

جنت نظیر کشمیر، پاکستان کے سیاستدان اور عوام

جنت نظیر وادی کشمیر کی موجودہ صورتحال کے باعث آج یوم سیاہ نئے جذبے، نئی توانائی اور نئے جوش و خروش سے منایا جارہا ہے کیونکہ یہ دن جہاں عالمی طاقتوں کو کشمیریوں سے کئے گئے عہد یاد دِلا رہا ہے، وہاں اہل ِ پاکستان کو بھی پکار پکار کر کہہ رہا ہے وہ اپنے وطن کی تعمیر کیلئے خود کو وقف رکھیں۔ اپنے مسائل کی طرف توجہ دیں کہ مضبوط پاکستان ہی آزادیٔ کشمیر کی ضمانت ہے۔پاکستانی سیاست جس خلفشار کا شکار ہے۔ یہاں کے اہل ِ سیاست ایک دوسرے سے جس طرح برسر پیکار ہیں، ایک دوسرے کو دبوچ لینے کی جو خواہشات پال رہے ہیں،اس سے تحریک آزادیٔ کشمیر کی کوئی خدمت نہیں ہو رہی۔ المیہ کشمیر

کشمیری بھائیوں بہنوں کیلئے مضبوط پاکستان لازم

کشمیر سے تعلق اور محبت کے نعروں کا تقاضا ہے کہ پاکستانی سیاست کا چہرہ بگڑنے نہ پائے۔ اس کے خدوخال سنوارنا، آزادی کی قدر کرنا اور نئی نسل کو اس کی اہمیت و قیمت سے آشنا کرنا ہمارا فرض ہے۔ آزاد فضائوں نے پاکستانی سیاست دانوں، علما کرام، دانشوران عظام- حساس اور غیر حساس اداروں کے تن و توش میں جو اضافہ کیا ہے،اس پر شکر ادا کرنا۔ کشمیر کو پاکستان بنانے کیلئے سر دھڑ کی بازی لگانے کا عزم تازہ کرنا۔ پاکستان کو خود سری، اَنا، اور غرور کے کی بھینٹ چڑھانے سے بچانا۔ سیاہ کاروں اور سیاہ کاریوں کیلئے یوم سیاہ کی آواز یہی ہے۔ اسے کان لگا کرغور سے سننا اور عمل کرنا ناگزیر ہے- (المیہ کشمیر)

اقوام متحدہ اور امریکہ کا اظہار تشویش، بھارت کو خط

مقبوضہ کشمیر کی حالت پر سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ اور امریکہ کا اظہارِ تشویش اپنی جگہ، امریکی کانگرس کی کمیٹی برائے خارجہ امور نے بھی مقبوضہ کشمیر کی صورتِحال کا نوٹس لیا اور امریکہ میں بھارتی سفیر کو خط لکھ کر کشمیر میں حالات کے بارے میں پوچھا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے، بتایا جائے کہ وادی میں انٹرنیٹ اور ذرائع مواصلات بحال کر دیئے گئے ہیں، کرفیو کب ختم ہو گا اور غیر ملکی صحافیوں سمیت ہمیں کب وادی میں جانے کی اجازت ملے گی؟

یہ بھی پڑھیں: کشمیر ….. شہ رگ یا اٹوٹ انگ؟ فیصلہ کن گھڑی آگئی

اس سے پہلے قائم مقام امریکی نائب وزیر خارجہ ایلس جی ویلز نے مقبوضہ کشمیر کی صورتِحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا، جہاں پابندیوں کے باعث 80 لاکھ سے زیادہ کشمیری شدید متاثر ہیں، انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ حالات کو معمول پر لا کر مسئلہ کشمیر حل کرنے کیلئے مذاکرات کئے جائیں۔ کشمیر میں مذاکرات کی فضا قائم کرنے کی ذمہ داری دونوں ممالک پر عائد ہوتی ہے۔ امریکہ کو کشمیر کی صورتِحال پر گہری تشویش ہے، انہوں نے پاکستان سے توقع کی کہ وہ غیر ریاستی عناصر کیخلاف کارروائی جاری رکھے گا۔ (المیہ کشمیر)

کشمیریوں کے گزشتہ 84 روز

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان نے بھی ان کا ایک بیان جاری کیا، جس میں کشمیر کی حالت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور اپنی طرف سے ہر ممکن تعاون اور مدد کی پیشکش کی ہے۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کی زندگی بھارت نے اجیرن بنا رکھی ہے، 80 لاکھ سے زیادہ لوگ 5 اگست سے اب تک فوجی محاصرے میں ہیں،ان کو نماز تک ادا نہیں کرنے دی جاتی،ان کے پاس خوراک اور ادویات کی شدید قلت ہے، بیرونی دُنیا سے رابطہ منقطع ہے، بیرون ملک مقیم کشمیری اپنے خونی رشتے داروں کی خیریت سے بے خبر ہیں،

جانوروں کی تکالیف پر پریشان ہونیوالی عالمی برادری اور مظلوم کشمیری

ہزاروں بچے، نوجوان اور بوڑھے گرفتارکر لئے گئے ہیں اور ان میں سے اکثر کو بھارتی شہروں کی جیلوں میں بھیج دیا گیا ہے، کشمیری رہنما نظر بند یا گرفتار ہیں۔ اس صورتِحال نے بہرحال دُنیا کو متاثر کیا ہے، بیرونی ممالک میں کشمیریوں کا احتجاج جاری ہے تو مقبوضہ کشمیر میں بھی ایسی ہی صورتِحال ہے، تاہم دُکھ کی بات یہ ہے کہ دُنیا کے یہ ممالک جو جانوروں کی تکلیف پر پریشان ہوتے ہیں، اتنے بڑے انسانی المیے پر خاموش ہیں اور ان کی طرف سے وہ ردعمل نہیں آ رہا جو ہونا چاہئے تھا، اب اگر امریکی کانگرس کی کمیٹی، نائب وزیر خارجہ اور خود اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے یہ اقدم کیا ہے تو اسے خاموش آمدید کہنا چاہئے- (المیہ کشمیر)

بھارت کی ڈھٹائی کا توڑ پاکستان کو ہی کرنا ہے

بھارت کی طرف سے ڈھیٹ پن کا جو مظاہرہ کیا جا رہا ہے، اس کی وجہ سے یہ توقع کم ہے کہ کوئی اثر ہو گا، ہمارے خیال میں حکومت ِ پاکستان کو اس صورتِ حال سے بھی فائدہ اٹھانا چاہئے، اور دفتر خارجہ کو پھر سے عالمی سطح پر کوشش کرنا چاہئے کہ عالمی رائے عامہ ہموار ہو، ممکن ہو تو سلامتی کونسل کے مستقل اراکین کو آمادہ کیا جائے اور سلامتی کونسل کے ذریعے بھارت پر دبائو ڈالا جائے اور قراردادوں پر عمل نہ کرنے کی پاداش میں پابندیاں لگوانے کی کوشش کی جائے۔ تاکہ اس سے بھارت مزید دبائو کا شکار ہو کر کشمیریوں کو انکا حق خود ارادیت دینے پر آمادہ ہو اور 71 سال سے ہندوستان کے مظالم سہنے والے مظلوم کشمیریوں کو آزادی کی فضا نصیب ہو سکے-

(المیہ کشمیر)