104

خوب کمائیں! کس کے روکا؟ شہرت بھی دولت بھی ،،،،، مگر!

Spread the love

خوب کمائیں

پاکستان اور سری لنکا کے مابین کھیلی جانیوالی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں، عالمی

رینکنگ میں آٹھ نمبر پر موجود ٹیم نے عرصہ دراز سے مختصر فارمیٹ میں

عالمی نمبر ایک کی حکمرانی کا تاج سر پر سجائے بیٹھی پاکستان کو اس فارمیٹ

میں انتہائی ذلیل و رسواء کرکے شکست سے دوچار کیا۔ حالانکہ سری لنکا کی ٹیم

نو آموز کھلاڑیوں پر مشتمل تھی، اس کے باوجود سری لنکا کی نئی ٹیم نے جس

پر فارمنس کا مظاہرہ کیا اس سے سری لنکا کو مستقبل میں اچھے اور ورلڈ کلاس

کھلاڑی ملنے کی امید ہے جو آنیوالے کل کے سٹارز کھلاڑیوں میں شامل ہو جائیں

گے۔

یہ بھی پڑھیں: قومی کرکٹرز جانیں اور ان کے ہم وطن

ایک وقت میں تو یوں محسوس ہوتا تھا لنکن کھلاڑی ہمارے ملک کی پچوں کے

اتنے عادی ہیں کہ ہماری قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کو ان سے سبق لینے کی

ضرورت محسوس ہوتی نظر آرہی تھی۔

خوب کمائیں! کس کے روکا؟ شہرت بھی دولت بھی ،،،،، مگر!

اب چونکہ قومی ٹیم مختصر فارمیٹ کی اس سیریز میں وائٹ واش کی خفت سے

دوچار ہو چکی ہے اور اب ٹیم کے تمام کھلاڑی قومی ٹی ٹوئنٹی میں اپنی اپنی

ٹیموں کی نمائندگی کرتے نظر آرہے ہیں کسی کا بلہ رنز اگل رہا ہے اورکوئی

وکٹیں ہواؤں میں اڑاتا نظر آرہا ہے، کوئی فیلڈنگ میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر

دکھا رہا ہے تو کوئی کیچز لینے میں پھرتی و سمجھداری کا مظاہرہ کرکے نمایاں

ہوتا جا رہا ہے تو کوئی نوجوان کرکٹ کے کھیل کی جان وکٹ کیپنگ میں ڈائیوز

لگا کر ناممکن کو ممکن بنا کر شائقین کرکٹ اور قومی ٹیم کی سلیکشن کمیٹی کے

حکام اور ممبران کی نظروں میں ہے-

مزید پڑھیں: بلے بازوں کا کیا قصور….. ؟

اختتام پر جب بہترین ٹیلنٹ کو سامنے لانے کی بات ہو گی تو پھر وہی کھلاڑی

منظر عام پر آئیں گے جو گزشتہ کئی برسوں سے قومی ٹیم کو ہمیشہ کے لیے

دستیاب رہتے ہیں،ہمارے ملک میں ہوتا چلا آیا ہے اور آنیوالے وقتوں میں بھی یہی

ہو گا۔ جہاں تک رہ گئی بات نئے ٹیلنٹ کی تو کراچی سے لے کر خیبر تک بیش بہا

ٹیلنٹ موجود ہونے کے باوجود بھی ہم اس ٹیلنٹ سے استعفادہ کرنے سے محروم

ہیں۔

ڈیپارٹمنٹل ٹیموں کا خاتمہ ، ٹیلنٹ منظر عام سے غائب

ڈیپارٹمنٹل ٹیموں کو ختم کرکے ان کے کھلاڑیوں کو بے روز گار کرنا بھی ہے

کیونکہ ان کو ماہانہ وظیفوں کی مد میں یا ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ملنے والی

تنخواہیں پی سی بی میں موجود اعلیٰ عہدوں پر براجمان لوگوں کو کھٹکتی تھیں

جس کے باعث تمام ڈیپارٹمنٹ کو ختم کرکے 6 ٹیموں پر مشتمل کر دیا گیا جس

سے نظر آنے والا ٹیلنٹ منظر عام سے غائب ہو گیا-

خوب کمائیں! ،،،،، قصور کیا تھا؟

سوال آج بھی یہی ہے آخر کار ان تمام ڈیپارٹمنٹ کا قصور کیا تھا؟، کیا یہ تمام

ڈیپارٹمنٹ ملک کو اچھے اور باصلاحیت کرکٹر فراہم کرنے سے محروم رہے یا

انہیں کرکٹ کی الف ب سے ناآشنائی کے باعث بھینٹ چڑھایا گیا۔ کیونکہ ٹورنامنٹ

پر کروڑوں خرچ کرنے کے بعد اگر اس طرح کے نتائج ہی لینے ہیں تو پھر ان

ڈیپارٹمنٹس کو ختم کرنے کا کیا فائدہ؟

کیا کوئی ہے جو سرفراز احمد کا احتساب کرے گا؟کیا کوئی کوچ و چیف سلیکٹر کا

احتساب کرے گا؟کوئی ہے جو کھلاڑیوں کی ناقص پرفارمنس کا احتساب کرے گا؟

اگر یہ سب ممکن نہیں تو پھر پی سی بی میں موجود اعلیٰ عہدیداروں کا بھی کوئی

فائدہ نہیں جن کو ملنے والی بھاری بھر کم تنخواہیں قومی خزانے پربوجھ بن رہی

ہیں ۔

سلیکشن کمیٹی کا میعار بھی ابھی تک نہیں بدلا

ہماری سلیکشن کمیٹی کا میعار بھی ابھی تک نہیں بدلا جو انہوں نے اتنے عرصہ

سے قومی ٹیم کو دستیاب نا ہونے والے کھلاڑی احمد شہزاد اور عمر اکمل کو یک

دم قومی ٹیم میں کھیلنے کا اہل بنا لیا۔ عمر اکمل کی فٹنس اس قابل ہی نہیں تھی کہ

انہیں اس سیریز کے لیے کھلایا جاتا، اگر وہ چاہتے تو اس سیریز میں بھی نیا خون

شامل کر سکتے تھے لیکن مجال ہے کہ انہوں نے اس جانب کان دھرا ہو یا ان کا

ذہن گیا ہو۔

خوب کمائیں! کس کے روکا؟ شہرت بھی دولت بھی ،،،،، مگر!

سری لنکا نے ایک بہتر تجربہ کیا اور نئے کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کرکے انہیں

ملک کی نمائندگی کرنے دوسرے ملک بھیج دیا، کیا ہم بھی اس سیریز میں کوئی نیا

خون نہیں آزما سکتے تھے؟ جو آگے جا کر آسٹریلیا میں کام آجاتا۔ صرف شکست

کے بعد اپنی خامیوں پر بات کرنے سے کچھ نہیں ہوتا، عمل کرنا ضروری ہے،

اس لئے ہماری چیف سلیکٹر، کوچ و کپتان سے بنتی ہے وہ خوب کمائیں نام شہرت

عوام کو اچھا لگتا ہے مگر ملکی عزت و وقار کی بلندی کے جذبہ کیساتھ –

قوم کی نظریں اب اپنے ہیروز کی دورہ آسٹریلیا میں پرفارمنس کی راہ تک رہی

ہیں ٹی 20 اور ٹیسٹ میچز کیلئے الگ الگ سکواڈز کا اعلان کردیا گیا ہے جس

میں سابق کپتان سرفراز کو شامل نہیں کیا گیا-

خوب کمائیں! بہتر فیصلہ ہے

بہتر فیصلہ ہے کیونکہ اس وقت انکا مورال ڈائون ہے ورنہ وہ جاری قومی ٹی 20

ٹورنامنٹ میں عین موقع پر پیش آنیوالے واقعہ سے یوں دل برداشتہ ہو کر خود کو

آوٹ آف دا ٹورنامنٹ نہ کرتے بلکہ بڑے دل اور حوصلے کا مظاہرہ کرتے اور

ناخوشگوار واقعہ کو احسن انداز میں سنبھالتے بعین ویسے جیسے وہ ڈائیو کرکے

بیسیوں مرتبہ کیچز پکڑ کر دکھا چکے ہیں- چلو ہو جاتا ہے، اب یہی کہا جا سکتا

ہے، ہماری نیک تمنائیں اور دعائیں ہمیشہ ان کیساتھ ہیں اور ان کی خدمات کے

معترف ہیں-

دیکھتے ہیں آسٹریلیا میں کیا ہوتا ہے؟

سکواڈز میں شامل کھلاڑیوں کی ماضی قریب کی پرفارمنس کا جائزہ انشااللہ جلد

خوب کمائیں